ممبئی میں IIT طالب علم کی ساتویں منزل سے چھلانگ کر خودکشی

تازہ خبر جرائم حادثات قومی
طلبہ تنظیم نے ذات پات کی تفریق کا الزام لگایا
ممبئی :۔13؍فروری
(زین نیوز ڈیسک)
آئی آئی ٹی ممبئی میں، درشن سولنکی نامی 18 سالہ طالب علم نے اتوار کی صبح 11:30 بجے کیمپس ہاسٹل کی ساتویں منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔ وہ احمد آباد گجرات کا رہنے والا تھا۔
 اس نے بی ٹیک (کیمیکل انجینئرنگ) کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے صرف تین ماہ قبل IIT میں داخلہ لیا تھا۔ درشن 16B ہاسٹل کی آٹھویں منزل پر رہتا تھا۔ اطلاعات کے مطابق ہفتہ کو ہی درشن کے پہلے سمسٹر کا امتحان ختم ہو گیا تھا۔
جب درشن نے چھلانگ لگائی تو ایک زوردار آواز آئی جس کی وجہ سے دیگر طلباء اور سیکورٹی اہلکار کچھ ہی دیر میں موقع پر پہنچ گئے۔ وہ خون میں لت پت تھا۔ طالب علم کو ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
 موت کے بعد اے پی پی ایس سی (امبیڈکر پیریار پھولے اسٹڈی سرکل) آئی آئی ٹی بمبئی نامی تنظیم نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا ہے جس میں کیمپس میں دلت طلباء کے ساتھ ذات پات کے امتیاز کا الزام لگایا گیا ہے۔
پولیس نے حادثاتی موت کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔ ایس ایس پی بدھن ساوت نے کہا کہ ابتدائی طور پر ایسا لگتا ہے کہ درشن ڈپریشن میں تھا۔ معاملے کی ہر زاویے سے جانچ کی جا رہی ہے۔ پولیس اس بات کا بھی پتہ لگا رہی ہے کہ آیا اس نے امتحان کی وجہ سے خودکشی کی ہے۔ تاہم کوئی خودکشی نوٹ نہیں ملا ہے، اس لیے موت کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔
APPSC (امبیڈکر پیریار پھولے اسٹڈی سرکل) IIT ممبئی نے ٹوئٹر پر انگریزی میں لکھا – ہم 18 سالہ دلت طالب علم درشن سولنکی کی موت پر تعزیت کرتے ہیں۔ اس نے 3 ماہ قبل اپنے بی ٹیک کے لیے آئی آئی ٹی بمبئی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ یہ کوئی انفرادی یا نجی مسئلہ نہیں بلکہ ادارہ جاتی قتل ہے۔
ایک اور ٹویٹ میں اے پی پی ایس سی نے لکھا کہ ہماری شکایات کے باوجود انسٹی ٹیوٹ نے کیمپس کو دلت، بہوجن قبائلی طلباء کے لیے جامع اور محفوظ بنانے کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ فرسٹ ایئر کے طلباء کو ریزرویشن مخالف جذبات اور غیر میرٹ کے طعنے کے معاملے میں سب سے زیادہ ہراساں کیا جاتا ہے۔
ادارے نے انکوائری کمیٹی تشکیل دی،آئی آئی ٹی ممبئی نے بھی معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اور کہا ہے کہ جو کچھ ہوا اس میں ہم کچھ نہیں بدل سکتے، لیکن مستقبل میں ہم اس کے لیے مزید کوشش کریں گے تاکہ دوبارہ ایسا کبھی نہ ہو۔