کونڈاگٹو مندر کی ترقی کے لیے 600 کروڑ روپے کے پروجیکٹ کا اعلان کیا۔
ملک کا سب سے عظیم ہنومان کے مرکز کی حیثیت سے کونڈاگٹو کا نام ہونا چاہیے۔سی ایم کے سی آر
جگتیال:۔15؍فروری
(زین نیوز )
چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے چہاررشنبہ کو جگتیال ضلع کے کونڈا گٹو میں سری انجنیا سوامی مندر کی ترقی کے لیے 500 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ تازہ مختص رقم 24-2023 کے ریاستی بجٹ میں اعلان کردہ 100 کروڑ روپے کے علاوہ ہے، جس سے کل مختص رقم 600 کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔
چیف منسٹر، جنہوں نےمندر اور علاقہ کی تعمیر نو کے امکانات کا جائزہ لینے کے لئے مندر کا دورہ کیا، یہ بھی اعلان کیا کہ ریاستی حکومت مندر اور اس کے آس پاس کے علاقوں کی ترقی کے لئے 1,000 کروڑ روپے بھی خرچ کرنے کے لئے تیار ہے۔
اس سے قبل ریاست کے چیف منسٹر کلواکنٹلہ چندر شیکھر راؤ کونڈاگٹو مندر پہنچے اورمذہبی رسومات کو ادا کیا۔ریاست کے چیف منسٹر کلوا کنٹلہ چندر شیکھر راؤ نے کونڈاگٹو میں مندر کی ترقی کے سلسلے میں عہدیداروں کے ساتھ دو گھنٹے سے زیادہ وقفہ تک طویل جائزہ اجلاس منعقد کیا۔
جس میں انھوں نے کہا کہ ملک کا سب سے عظیم ہنومان کے مرکز کی حیثیت سے کونڈاگٹو کا نام ہونا چاہیے۔ کونڈاگٹو کو پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ایک شاندار مرکز بنایا جانا چاہیے۔کونڈاگٹو مندر کی ترقی کا میگا پروجیکٹ ہوگا۔ مندر میں آنےوالوں بھکتوں کو تمام سہولیات اور تمام حواس مہیا کرنے کے لیے تیار کیا جانا چاہیے۔
گھاٹ سڑکوں کو حادثات کے بغیر تیار کیا جانا چاہئے۔کونڈاگٹو میں ہنومان جینتی کو ملک میں سب سے عظیم الشان کے طور پر منایا جانا چاہئے۔جہاں وقت واحد میں ہزاروں ہنومان کے معتقدین کو ایک ہی وقت زیارت اوردیگر مواقع میسر ہونے چاہیئے۔ ہنومان دکشا بڑے پیمانے پر منعقد کیا جائے۔
مندر کی ترقی اور توسیع تقریباً 850 ایکڑ میں کی جائے۔پیدل راہرو، پارکنگ، اشنان، انادن سترم، کلیانہ کٹہ، کونیر، اشنان کےمقام کو ترقی دی جائے۔86 ایکڑ میں وسیع پارکنگ کا انتظام کیا جائے۔اگر سہولیات وسیع تر ہوں تو درشن کے لیے آنے والے بھکتوں کی تعداد بڑھے گی۔وزیر اعلٰی نے کہا کہ میں دوبارہ آؤں گااور مندر کی ترقی اور توسیع کا جائزہ لوں گا
انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ تمام شان و شوکت اور سہولیات کے سا تھ ‘مندر اور اس کے گردونواح کی ازسرنو ڈیزائننگ اور از سر نو تعمیر کے لیے ایک ڈرافٹ ماسٹر پلان تیار کریں۔
میٹنگ کے دوران عہدیداروں نے اراضی کے حصول کی ضرورت، درکار سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے بارے میں بتایا تاکہ مندر کے شہر تک آسان رسائی ممکن ہوسکے۔
وزیر اعلیٰ نے اصرار کیا کہ مندر کو وشنو اصولوں کے مطابق نئے سرے سے ڈیزائن اور دوبارہ تعمیر کیا جانا چاہیے۔ وہ چاہتے تھے کہ حکام اور آرکیٹیکٹس یادادری ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کی طرز پر کونڈاگٹو مندر کی دوبارہ ترقی کے لیے وسیع اور مائیکرو لیول میٹنگ کریں۔
اس موقع پر چندر شیکھر راؤ نے حکام کو ہدایت دی کہ وااستھو کے مطابق مندر کی توسیع اور تعمیر نو کے کام کیے جائیں انہوں نے یاد دلایا کہ لاکھوں بھکت مند جو "انجنیا/ہنومان” دیکشا لیتے ہیں، بڑی تعداد میں مندر جاتے ہیں اور ہجوم کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے ضروری سہولیات میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔ وہ چاہتے تھے کہ پورے انفراسٹرکچر کو اس طرح مضبوط کیا جائے کہ بھکتوں کو کوئی تکلیف محسوس نہ ہو۔
انہوں نے بھکتوں سے مختلف سہولیات کے بارے میں دریافت کیا جن میں قطار کی لائن، آمدورفت کی سہولیات، مندر کے داخلی اور خارجی راستوں، قیام و طعام کی سہولیات اور دیگر سہولیات شامل ہیں۔ انہوں نے حکام سے کہا کہ وہ مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ماسٹر پلان تیار کریں۔
اس موقع پر وزراء کوپولا ایشور، اندراکرن ریڈی، گنگولا کملاکر، ایم پی دیواکونڈا دامودر راؤ، پلاننگ کمیشن کے وائس چیرمین ونود کمار، مقامی ایم ایل اے سنکے روی شنکر کے ساتھ ایم ایل ایز رسامائی بالاکشن، بالکا سمن، جیون ریڈی، سنجے کمار، ودیا ساگر راؤ، کونسل کے چیف وہپ بھانو پرساد راؤ، ایم ایل سی ایل رمنا، سابق ایم ایل سی نارداسو لکشا راؤ، ایف ڈی سی چیرمین انل کرماچلم، سیول سپلائی کارپوریشن کے چیرمین رویندر
سنگھ، ڈی سی سی بی کے چیرمین الولا سری کانت ریڈی، گیلّو سرینواس یادو، سی ایم او افسران بھوپال ریڈی، سمیتا سبھروال، آر اینڈ بی آفیسرس گنپتی ریڈی، رویندر راؤ، مشن بھگیرتھا ای این سی کروپاکر ریڈی، کلکٹر یاسمین باشا، مندر ستپتی آندر سائی، واستو مشیر سدالا سدھاکر تیجا، بی آر ایس ریاستی قائدین، محکمہ مندر کے افسران، انڈومنٹ ای سی او اور دیگر موجود تھے.
