حکومت تلنگانہ ظالم پولیس اہلکاروں پر شکنجہ کسے۔
میدک کے قدیر خان کی موت پولیس کے ظلم و بربریت کا ننگا ناچ۔
اہل خانہ کو ایکس گریشاء ‘سرکاری ملازمت فراہم کرنے حکومت سے جمعیۃ علماء ضلع کاماریڈی کا مطالبہ۔
کاماریڈی:۔22؍فروری
(پریس نوٹ)
نہتوں اور کمزوروں پر ظلم کرنا طاقتور اور سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والوں سے چشم پوشی کرنا، پولیس کی عادت بن چکی ہے، میدک سے تعلق رکھنے والے قدیر خان پر محض شبہہ کی بنیاد پر پولیس میدک نے جس طرح سے ظلم و بربریت کا ننگا ناچ کیا ہے،
اس سے ہر انصاف پسند شہری کا سر شرم سے جھک گیا ہے، جمعیۃ علماء کاماریڈی کے ضلعی مشاورتی اجلاس میں حافظ محمد فہیم الدین منیری صدر جمعیۃ علماء ضلع کاماریڈی نے قدیر خان میدک کے انتقال پر انتہائی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کیا کہ ان کے اہل خانہ کو کم از کم پچاس لاکھ روپے کا ایکس گریشاء دیا جائے،
گھر کے کسی ایک فرد کو ایک سرکاری ملازمت دی جائے، جمعیۃ علماء کاماریڈی کے ذمہ داران بالخصوص الحاج سید عظمت علی، میر فاروق علی، حافظ یوسف حلیمی، حافظ عبد الواجد حلیمی، حافظ مشتاق حلیمی، شیخ اسماعیل، مولانا منظور محمد سلیم الدین
کونسلر محمد عبد الرزاق صاحب محمد مجیب بھائی ودیگر نے پولیس کی ظلم و زیادتی کے خلاف سخت الفاظ میں مذمت کی اور اس سلسلے میں سخت احکامات جاری کرنے اور مظلوموں بالخصوص کمزوروں کی مدد کر نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے،
جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اسی وقت سے جنرل سکریٹری تلنگانہ وآندھرا محترم مولانا مفتی محمود زبیر قاسمی نے میدک ضلعی صدر مولانا مفتی محمد خواجہ شریف صاحب مظاہری سے مسلسل تفصیلات حاصل کرتے رہے، مفتی خواجہ شریف صاحب مظاہری نے اپنے ضلعی ذمہ داران کے ساتھ اس سلسلے میں ممکنہ کوشش کی ہے
