مرکزی حکومت نے ہم جنس شادیوں کو قانونی حیثیت دینے کی مخالفت کی
سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل
نئی دہلی:۔12؍مارچ
(زین نیوز ڈیسک)
مرکزی حکومت نے ہم جنس شادیوں کو قانونی حیثیت دینے کی مخالفت کی ہے۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق مرکز نے اتوار کو سپریم کورٹ میں اس حوالے سے حلف نامہ داخل کیا۔
سپریم کورٹ پیر کو ہم جنس شادی کو تسلیم کرنے کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت کرے گی۔ اس سے پہلے مرکزی حکومت کے حلف نامہ میں کہا گیا ہے کہ حکومت اس کے حق میں نہیں ہے۔
خبر رساں ایجنسی نے مطلع کیا ہے کہ مرکز نے اتوار کو عدالت میں 56 صفحات کا حلف نامہ داخل کیا۔ اس میں کہا گیا کہ ہم جنس کی شادی ہندوستانی روایت کے مطابق نہیں ہے۔
یہ میاں بیوی اور ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کے تصور سے میل نہیں کھاتا۔ حلف نامے میں معاشرے کی موجودہ حالت کا بھی ذکر ہے۔ مرکز نے کہا- موجودہ دور میں سماج میں کئی طرح کی شادیاں یا رشتے اپنائے جا رہے ہیں۔ ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے
سپریم کورٹ نے ہم جنس شادی سے متعلق درخواستوں کو اپنے پاس منتقل کر دیا۔اس سے قبل سپریم کورٹ نے اس معاملے سے متعلق دہلی سمیت مختلف ہائی کورٹس میں دائر تمام درخواستوں کو ایک ساتھ سننے کا فیصلہ کیا تھا
۔ 6 جنوری کو عدالت نے اس معاملے سے متعلق تمام درخواستوں کو خود منتقل کر دیا تھا۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس جے۔ بی۔ پیرڈی والا کی بنچ اس معاملے کی سماعت پیر کو کرے گی۔
حکومت نے ایک مناسب حلف نامہ میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ نے اپنے کئی فیصلوں میں شخصی آزادی کی تشریح کو واضح کیا ہے۔ ان فیصلوں کی بنیاد پر بھی اس پٹیشن کو خارج کر دینا چاہیے، کیونکہ اس میں کوئی حقیقت نہیں کہ اس کی سماعت کی جائے۔ اسے بھی میرٹ کی بنیاد پر برطرف کرنا جائز ہے۔
یہاں تک کہ قانون میں ذکر کے مطابق ہم جنس شادی کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس میں میاں بیوی کی تعریف حیاتیاتی طور پر دی گئی ہے۔ اس کے مطابق دونوں کو قانونی حقوق بھی حاصل ہیں۔ ہم جنس شادی میں جھگڑے کی صورت میں میاں بیوی کو الگ الگ کیسے تصور کیا جا سکتا ہے؟
مرکز نے کہا کہ شادی کی تعریف جنس مخالف کے دو لوگوں کا ملاپ ہے۔ اسے متنازعہ دفعات کے ذریعے خراب نہیں کیا جانا چاہئے۔
