لیو اِن کی رجسٹریشن کو لازمی کرنے کا مطالبہ مسترد: یہ ایک احمقانہ عرضی ہے۔سپریم کورٹ
نئی دہلی:۔20؍مارچ
(زین نیوز ڈیسک)
سپریم کورٹ نے لیو ان ریلیشن شپ میں رہنے والوں کے لیے رجسٹریشن کی درخواست کو خارج کر دیا ہے۔ یہی نہیں عدالت نے درخواست گزار کی سرزنش بھی کی۔ سی جے آئی نے کہا یہ سب کیا ہے، لوگ یہاں کچھ بھی لے آتے ہیں۔ ہم ایسے معاملات پر جرمانے عائد کرنا شروع کر دیں گے۔
دہلی کے شردھا والکر قتل کیس کے بعد سپریم کورٹ میں یہ عرضی داخل کی گئی تھی۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس جے بی پاردی والا کی بنچ نے اس معاملے کی سماعت کی۔
ایڈوکیٹ ممتا رانی نے عدالت میں یہ درخواست دائر کی تھی جس میں لیو ان ریلیشن شپ میں پارٹنرز کے قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جس طرح شادی کی رجسٹریشن ہوتی ہے، ویسا ہی لیو ان ریلیشن شپ میں بھی ہونا چاہیے۔
درخواست میں وکیل نے شردھا والکر، نکی یادو کی مثالیں دیں۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ عدالت نے پہلے بھی ایسے تعلقات کو بنیادی حقوق کے دائرے میں رکھا تھا۔ مرکزی حکومت کو چاہیے کہ وہ لیو ان میں رہنے والوں کا اندراج کرے، تاکہ ان کا ریکارڈ پولیس کے پاس موجود رہے۔
سی جے آئی نے عرضی گزار سے پوچھا- ‘مرکزی حکومت کے ساتھ رجسٹریشن کس کے ساتھ، مرکزی حکومت کا لیو ان ریلیشن شپ میں رہنے والے لوگوں سے کیا لینا دینا ہے۔
دو سوال پوچھتے ہوئے سی جے آئی نے کہا، ‘کیا آپ ان لوگوں کی سیکورٹی کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں یا لیو ان کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ ہم اس احمقانہ درخواست کو مسترد کرتے ہیں۔