راجہ سنگھ نہیں بدلا‘سری رام نومی کے وقت متنازعہ تقریر پر مقدمہ‘ ہائی کورٹ احکامات کی خلاف ورزی
حیدرآباد:۔2/اپریل
(زین نیوزبیورو)
گوشہ محل ایم ایل اے راجہ سنگھ کے خلاف کئی مقدمات درج ہیں۔وہ کبھی کسی جگہ و پروگرامس میں مذہب اور برادریوں کے درمیان متنازع تبصرے کی وجہ سے مسلسل خبروں میں رہتے ہیں۔
ممبئی پولیس نے ان کے خلاف دو دن قبل ممبئی میں ایک جلسہ عام میں اشتعال انگیز ریمارکس کرنے پر مقدمہ درج کیا تھا۔
تاہم راجہ سنگھ نے اپنا رویہ نہیں بدلا۔ ہمیشہ کی طرح وہ اشتعال انگیز تقریریں کر ر ہے ہیں جس سے سب کے سب ناراض ہو ر ہے ہیں۔ حال ہی میں راجہ سنگھ کی ایک اور تقریر پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ایس ایس آئی ویربابو نے سری رام نومی کے موقع پر منعقدہ شوبھایاترا کے دوران راجہ سنگھ کی طرف سے دی گئی تقریر پر اعتراض کیا۔راجہ سنگھ نے اپنے بیٹے کا تعارف کرواتے ہوئے دیگر طبقات کے خلاف متنازعہ تبصرہ کیا۔ اس پرایس آئی ویرا بابو نے افضل گنج پولیس اسٹیشن میں ایم ایل اے کے خلاف شکایت درج کرائی۔
پولیس نے راجہ سنگھ کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 153-A اور 506 کے تحت مقدمہ درج کیا۔دوسری جانب 29/ جنوری 2023 کو پولیس نے ممبئی میں منعقدہ ایک جلسہ عام میں اشتعال انگیز تبصرے کرنے پر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ ممبئی پولیس نے نفرت انگیز تقریر کرنے پر راجہ سنگھ کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 153A 1(A) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
حیدرآباد پولیس نے بھی اسی ریمارکس پر راجہ سنگھ کو نوٹس جاری کی گئی تھی۔ نوٹس میں کہا گیا کہ تلنگانہ ہائی کورٹ نے ایک کیس میں ضمانت دیتے ہوئے اشتعال انگیز تبصرے نہ کرنے کی شرط عائد کی ہے۔ پولیس نے اس معاملہ میں وضاحت طلب کی۔
نیزتلنگانہ کی ریاستی حکومت نے اکتوبر 2022 میں حیدرآباد شلپا رامم میں کامیڈین منور کے شو کی اجازت دے دی توراجہ سنگھ نے اس شو کی اجازت دینے کے بارے میں سوشل میڈیا پر ایک توہین آمیزویڈیو پوسٹ کی تھی۔
مسلمانوں نے الزام لگایا کہ یہ ویڈیو پیغمبر اسلام کے خلاف ہے۔ کئی مسلم گروپوں نے اس کے خلاف احتجاج بھی کیا۔ راجہ سنگھ کے خلاف درج مقدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے حیدرآباد پولیس نے پی ڈی ایکٹ درج کرکے اسے جیل بھیج دیا۔ ہائی کورٹ نے اس معاملہ میں گزشتہ سال 9 /نومبر کو مشروط ضمانت دی تھی۔