بودہن میں منعقدہ خصوصی اصلاحی مجلس سے شاہ محمد جمال الرحمان صاحب مفتاحی کاخطاب
تلخیص
عبدالقیوم شاکر القاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء نظام آباد
9505057866
سب سے پہلی بات متحد رہو
چونکہ
آج امت مسلمہ بطور خاص امت کا مقتدرطبقہ ائمہ وعلماء برادری کوسب سے زیادہ ضرورت آپسی اتحاد کی ہے ہمارا آپسی انتشار مختلف محاذوں پر ہماری ہی فضیحت ورسوای بلکہ جگ ہنسای کا ذریعہ بن رہا ہے آج ہر انسان دوسرے انسان سے معمولی معمولی بنیادوں ہر اختلاف کرنے لگ گیا ہے حالانکہ آپسی اختلاف کو شریعت اسلامیہ نے دین کے مونڈنے کا موجب بتلایا ہے اس کے علاوہ بہت ساری احادیث نبویہ اس بات پر شاہد عدل ہیکہ اختلاف بری اور ناپسندیدہ چیز یے
حضرت ابن عباس رض اور حضرت زید رض ان دونوں صحابہ میں اختلاف تھا لیکن اس کے باوجود ایک دوسرے کی اتنی عزت وعظمت اور قدردانی کہ عقل محو حیرت ہوجاے
جب حضرت زید سواری پر سوار تھے تو اس اونٹ کی نکیل اور لگام حضرت ابن عباس نے پکڑ ی اور سواری کو لے کر چلتے تھے چونکہ ان کا یہ اختلاف کسی حسد اور بغض کی وجہ سے نہیں ان میں اختلاف تو تھا مگر مخالفت والا نہیں تھا اسی لےء وہ ایک دوسرے کی تعظیم وتوقیر اور ادب واحترام میں کوی کمی آنے نہیں دیتے تھے
ہم اپنےاکابرین علماء کو دیکھیں ان میں بھی بعض کے درمیان شدید اختلاف رہا لیکن کبھی انہوں نے عزت میں کمی آنے نہیں دی حضرت مولاناسید حسین احمدمدنی اور حضرت حکیم الامۃ مولانااشرف علی تھانوی نوراللہ مرقدھما کے مابین انتہای شدیداختلاف تھا لیکن جب ایک جلسہ میں حضرت تھانوی بیان کرکے نیچے اتررہے تھے تب حضرت مدنی نے ان کی جوتیاں سیدھی کرکے رکھ دی حضرت تھانوی نے جب پہننا چاہا تو دیکھا کہ جوتیاں سدھی کی ہوی ہیں پوچھنے پر معلوم ہوا کہ حسین احمدمدنی نے کی ہے تو آپ نے ان جوتیوں کو ہاتھ سے اٹھایا اور بغل میں رکھ لیا اور کہا کہ اب ان جوتیوں کو پہنا نہیں جاے گا چونکہ حضرت مدنی کے ہاتھ اس کو لگے ہیں چنانچہ آپ نے اٹھالیا اور بغل میں رکھ لیا یہ ہوتا ہے اختلاف
آج ہمارے دل اتنے چھوٹے اور تنگ ہوچکے ہیں کہ لوگ صرف مدارس کے نام پر نسبتوں کے نام پر عہدوں کے نام پر مساجد کے نام پر ایک دوسرے سے اختلاف کرلیتے ہیں اور اسی مخالفت میں ہماری زندگیاں گذررہی ہیں جو اللہ ورسول کی ناراضگی کا ذریعہ ہے اس لےء اختلاف سے بچو اورمتحد ہوکر زندگی گذارو
آپسی اتحاد کب پیدا ہوگا ؟ جب ہمارے ہر کام میں اخلاص ہوگا تب اتحاد ہوگا اور اخلاص کے لےء ضروری ہیکہ ہمارے اندر پای جانے والی دوبرائیاں ختم ہوجائیں
(1)حب مال. مال کی محبت
(2)حب جاہ .عہدہ کی محبت
آدمی کے دین کو سب سے زیادہ نقصان انہیں دو بیماریوں سے پہونچتا ہے دوبھوکے بھیڑیوں کو اگر بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیا جاے تو اتنانقصان نہیں ہوتا جتنا ان باطنی امراض سے انسان کو اور اس کے دین کو ہوتا ہے
مال کی محبت کو نکالنے کے لےء قرآن وحدیث میں بیان کردہ دنیا کی حقیقت کو سمجھ لے تو چشم زدن میں انسان کے دل سے مال کی محبت نکل جاے گی اور جاہ کی محبت کو نکالنا ہے تو انسان کو اپنی حقیقت کی جانب دیکھنا اور اپنی ذات میں غورکرنا پڑے گا تو بہت آسانی سے جاہ کی محبت دل سے نکل جاے گی
دنیا بنی ہے دنی سے جس کے معنی ہی ذلیل وخسیس اور وہ بالکل ادنی چیز ہے اور انسان کو اعلی کے مقابلہ میں ادنی کو قبول نہیں کرنا چاہیے اور اگر قبول کررہا ہے تو یہ بنی اسرائیل کی عادت اور طریقہ ہے جنہوں نے اللہ سے اعلی کے مقابلہ میں ادنی کو طلب کیا تھا اور کہا تھا
لن نصبر علی طعام واحد اگردنیا کی یہ حقیقت سمجھ میں آجاے تو مال کی اور دنیا کی محبت ہرگز دل میں نہیں اترے گی
اور جاہ کی محبت کو نکالنا ہے تو انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ والوں کی صحبت اختیار کرے ان کی مجالس میں اپنے دل کا تزکیہ کرے تو اس کو اپنے آ پ کی حقیقت سمجھ میں آجاے گی
ہمارے بڑے بڑے اکابر حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی سے تعلق رکھے ہوے تھے حالانکہ وہ زیادہ پاروں کے حافظ بھی نہیں تھے لیکن چونکہ اہل اللہ میں سے تھے اس لےء ان سے لوگ طریقت کا رشتہ بناے ہوے تھے ان کی صحبت میں بیٹھتے اور استفادہ کرتے جس سے ان کو اپنی حقیقت سے آشنای ہوچکی تھی اسی لےء ان کے پاس اپنا کوی مقام ومرتبہ نہیں تھا
جب تک انسان اپنی انا کو فنا نہیں کرے گا تب تک اس کو اپنی حقیقت سمجھ میں نہیں آسکتی بزرگوں اور اہل اللہ سے اصلاحی نوعیت کا شعوری تعلق ہونا ضروری ہے ہرانسان کو چاہیے کہ وہ اپنے سینہ کو حسد سے بغض سے اورکینہ سے بالکل پاک رکھے
خلاصہ کلام اینکہ حب مال اور حب جاہ کو ختم کروجس کے لےء بزرگوں کی صحبت لازم ہے اس کے بعد دل مختلف بیماریوں سے پاک ہوگا پھر اتحاد خودبخود آجاے گا
دوسری بات
مومن بن کر رہو
ایمان کاتعلق دل سے ہے اور اسلام کاتعلق اعضاء وجوارح سے ہے اسلام ظاہر سے باطن تک جاتا ہے اور ایمان باطن سے ظاہر تک آتا ہے
ایمان والوں کی علامت ہیکہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں
حدیث میں ہیکہ تم اس وقت تک مومن کامل نہیں بن سکتے جب تک کہ ایک دوسرے سے محبت نہ کرلو اور محبت پیداہونے کے لےء سلام کو آپس میں عام کرو
ایمان کی حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے ایمان مجمل میں ہیکہ
میں ایمان لاتاہوں
امنت باللہ کماھو باسمائہ وصفاتہ
اللہ کی ذات پر ایمان لانا جیسا وہ ہے اس کے ناموں اور اس کی صفات کے ساتھ
اللہ تعالی کے بہت نام ہیں اور اچھے اچھے ہیں
ایک تو قرآن مجید میں ننانوے نام آے ہیں لیکن ان میں سے اگرصرف چند ایک ناموں پر ہی ہم غور کرلیں تو ہمیں ایمان کامطلب بھی اور دنیا کی حقیقت اور اپنی حیثیت بھی سمجھ میں آجاے گی
اللہ کے مشہور نام ہیں
خالق مالک رب حاکم اور معبود
اور ہم مخلوق مملوک مربوب محکوم اور عابد ہیں
خالق کامطلب ہے پیداکرنے والا عدم سے وجود میں لانے والا ناپید کو پیداکرنے والا ساری کائنات بشمول انسان سب پہلے ناپید تھے اللہ نے اپنی قدرت سے پیدا کیا تو جس نے پیدا کیا وہی اس کامالک ہوگا لہذا اللہ مالک بھی ہوا اب مالک کو اختیار ہے جیسا چاہے اپنی چیز کو استعمال کرے جو چاہے اپنی چیز پر حکم چلاے لہذا وہ حاکم بھی ہوا اب عقل کا تقاضہ یہی ہیکہ جس نے پیدا کیا جو مالک اور حاکم ہے اسی کی اتباع کی جاے اس کے حکم کی تعمیل کی جاے اور اسی کی ربوبیت کو مانا اور تسلیم کیا جاے لہذا وہ ہمارا رب اور پالنہار بھی ہوا جوپالنے والا ہے اسی کی عبادت کی جاتی ہے لہذا ہم عابد وہ ہمارا معبود ہوا
جب سب کچھ ہمارا وہی ہے تو ہم کیوں اپنی ذات پر یا اپنے مال پر غرور کریں ہمیں تکبرکرنے اور اکڑ نے کا کوی جواز ہی نہیں ہے ہم بندے اور مخلوق ہیں اور بندوں کوعاجزی ہی زیب دیتی ہے مخلوق محتاج ہی ہوتی ہے
معلوم ہوا کہ اکڑنا اور اپنی انا پر جما رہنا یہ مخلوق اورمحتاج کے لےء مناسب نہیں ہے جب اللہ کے نام اور صفات کے ساتھ اس پر ایمان لے آئیں ہیں تو سب کچھ اب مٹانا پڑے گا جب تک مٹاؤ گے نہیں تب تک خوشبو نہیں آے گی لوگوں کے لےء نافع نہیں بن سکوگے
گلاب کے پھول کے ساتھ کانٹا بھی ہوتاہے جس میں کوی خوشبو نہیں ہوتی وہ جب تک اکڑا ہوا رہے گا انسان کو چبھے گا اس سے نقصان ہوگا لیکن جب اس کو نکال کر رگڑدو اور ہاون دستہ میں پیس دو اور کچھ ہی دیر پھول کی پتیوں کے ساتھ رکھ دو تو اب اس سے بھی خوشبو آے گی بالکل اسی طرح انسان اگر اکڑا رہے گا اس کی رگڑای نہیں ہوگی تو وہ اپنے آپ کو بھی اور دوسروں کو بھی نقصان ہی پہونچاے گا
تکبر بہت ہی بری بیماری ہے تمام اذکار واوراد سے سالک کو اسی وقت نفع ہوسکتا ہے جب کہ وہ تکبر سے پاک ہو ں
بہرحال ایمان کو سمجھنےاورمومن بننےکے بعد اس کا لازمی تقاضہ ہے مسلم بننا دل جب کبر سے پاک ہوگا اس میں ایمان کا نوراور حقیقت آجاے گی تو اب انسان کے اعضاء وجوارح بھی اس کے تابع بن کر اچھے کاموں میں لگیں گے اور برائیوں سے بچیں گے اسی کو اسلام کہتے ہیں
مومن کالازمی تقاضہ ہے مسلم
ان سب کے ساتھ ہی ہم کو مخلص بننا پڑے گا اخلاص کے بناء اللہ کے نزدیک کوی عمل مقبول نہیں ہوتا ہے اس لےء مخلص بن کر زندگی گذارو
اللہ تعالی ہم سب کو متحد مومن مسلم اور مخلص بن کر زندگی گذارنے کی توفیق عطاء فرماے
آمین بجاہ سیدالمرسلین
