سیاستداں و گینگسٹر عتیق احمد اور ان کے بھائی خالد عظیم اشرف پریاگ راج قبرستان میں سپرد لحد

تازہ خبر تلنگانہ
عتیق احمد اور انکے بھائی خالد عظیم اشرف پریاگ راج قبرستان میں سپرد لحد
لکھنؤ:۔16؍اپریل
(زین نیوز ڈیسک)
مافیا سے  سیاست دان بنے عتیق احمد اور ان کے بھائی خالد عظیم عرف اشرف کی میتوں کو اسلامی رسم و رواج کے مطابق پوسٹ مارٹم کے بعد پریاگ راج کے پرانے شہر کے علاقے میں واقع کسری مساری قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
جہاں ہفتہ کو ان کے بیٹے اسد احمد کو سپرد خاک کیا گیا۔ یہ وہ قبرستان ہے جہاں ان کے تمام پیشرو مدفون ہیں۔ عتیق احمد کو اپنے بیٹے کے جنازےمیں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔ اسی شام کو وہ پولیس کی حراست میں ہی مارے گئے۔
عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف کی نعشیں پوسٹ مارٹم کے بعد لواحقین کے حوالے کر دی گئیں۔ عتیق  احمدکے بہنوئی اور دو رشتہ دار دونوں کی نعشیں لینےآئے تھے۔
عتیق احمد کے دو  دونوں نابالغ بیٹے احسان اور عباد جنازے میں شرکت کے لیے قبرستان پہنچےدونوں بیٹوں کو چائلڈ ریفارم ہوم سے لایا گیا۔ دونوں کی قبریں عتیق احمد کے فرزند اسد احمد کی قبر کے قریب کھدائی گئیں۔
اشرف کی بیٹی اور اہلیہ زینب بھی قبرستان میں موجود تھیں۔اس سے پہلے ہفتہ کے روز عتیق احمد کے بیٹے اسداحمد کی تدفین پریاگ راج کے کساری۔مساری قبرستان میں عمل میں آئی تھی
قبرستان میں صرف منتخب رشتہ داروں کو جانے کی اجازت تھی۔ سب کو قبرستان سے تقریباً 300 میٹر کے فاصلے پر روک دیا گیا۔ میڈیا والوں کو قبرستان کے باہر تک جانے کی اجازت دی گئی۔ تاہم ان کے نام اور موبائل نوٹ کیے جا رہے ہیں۔ شہر بھر میں سکیوریٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ مختلف جگہوں پر فورس تعینات ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ رات عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف کا ہفتہ کی رات پولیس تحویل میں پریاگ راج میں قتل کر دیا گیا تھا۔ پولیس دونوں کو میڈیکل ٹیسٹ کے لیے ہسپتال لے جا رہی تھی۔ اس دوران تین حملہ آوروں نے پولیس کا حفاظتی حصار توڑ کر عتیق ا سر میں گولی ماری، پھر اشرف پر فائرنگ کی۔ دونوں کی موقع پر ہی موت ہو گئی تھی
پولیس نے تینوں حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا ہے جنہوں نے سابق مافیا ڈان بنے سیاست دان عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف احمد پر ہفتہ کو پریاگ راج میں فائرنگ کی تھی تمام شوٹرس جن کی شناخت لیولیش تیواری، سنی سنگھ اور ارون موریہ کے طور پر کی گئی ہے۔پولیس نے بتایا کہ حملہ آوروں نے ترکی کے ساختہ پستول کا استعمال کیا اور عتیق اور اشرف پر اندھا دھند فائرنگ کی۔
سرکاری وکیل گلاب چندر اگرہری نے بتایا کہ تینوں ملزمان کو 14 دن کی عدالتی حراست میں نینی سینٹرل جیل بھیج دیا گیا ہے۔ عتیق کا بیٹا علی بھی یہیں قید ہے۔