دہلی کی ساکیت عدالت میں وکیل کے لباس میں ملبوس شخص نے فائرنگ کر دی۔
دو گولیاں پیٹ میں، ایک ہاتھ میں لگی حالت تشویشناک
دہلی:۔21؍اپریل
(زین نیوز ڈیسک)

کی ساکیت کورٹ میں ایک وکیل نے ایک خاتون پر چار راؤنڈ گولی چلائی۔ خاتون کو دو گولیاں پیٹ میں اور ایک بازو میں لگی۔ خاتون کو فوری طور پر ایمس میں داخل کرایا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان کی حالت تشویشناک ہے۔ پولیس نے بتایا کہ خاتون مالی تنازعہ سے متعلق کیس کی سماعت کے لیے عدالت پہنچی تھی۔
اس واقعے کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔ اس میں عدالت کے احاطے کے وکلاء بلاک کے باہر دونوں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی۔حملہ آور اچانک عورت کی طرف چلا جاتا ہے، جب وہ پیچھے ہٹتی ہےتور خاتون پر فائرنگ شروع کر دیتا ہے۔ خاتون کو پیٹ میں دو گولیاں لگیں۔ تبھی کچھ وکلاء زخمی خاتون کی حمایت کرتے ہیں۔ اسی دوران حملہ آور وہاں سے چلا گیا۔
VIDEO | Visuals from Delhi's Saket Court where a woman was injured in a firing incident today. More details are awaited.#SaketCourt #Firing #Delhi pic.twitter.com/PMK8Ywxx0g
— The Telegraph (@ttindia) April 21, 2023
دعویٰ- ملزم نے خاتون کو 25 لاکھ روپے دیئے تھے۔حملہ آور کی شناخت کامیشور پرساد سنگھ عرف بنود سنگھ کے طور پر ہوئی ہے۔ ملزم کو بار کونسل نے الگ کیس میں معطل کیا تھا۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ حملہ آور وکیل نے متاثرہ خاتون کو 25 لاکھ روپے دیے تھے۔ بعد ازاں خاتون رقم واپس کرنے سے گریزاں تھی۔
کچھ دن پہلے عدالت میں ایک وکیل کا قتل کر دیا گیا تھا۔کچھ
دن پہلے ایسا ہی واقعہ جنوب مغربی دہلی کے دوارکا میں سامنے آیا تھا۔ ایک وکیل کو دو موٹر سائیکل سواروں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ اس واقعے میں حملہ آور وکلا کے بھیس میں آئے تھے۔
اس واقعے کے بعد وکلا کے تحفظ کے لیے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی گئی تھی۔ جس میں وکلاء کے تحفظ پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ عرضی میں یہ بھی کہا گیا کہ دہلی میں ایڈوکیٹس پروٹیکشن ایکٹ منظور کیا جائے۔ ایسا نہ کیا گیا تو وکلاء کے خلاف جرائم بڑھیں گے۔
کچھ دن پہلے عدالت میں ایک وکیل کا قتل کر دیا گیا تھا۔کچھدن پہلے ایسا ہی واقعہ جنوب مغربی دہلی کے دوارکا میں سامنے آیا تھا۔ ایک وکیل کو دو موٹر سائیکل سواروں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ اس واقعے میں حملہ آور وکلا کے بھیس میں آئے تھے۔
اس واقعے کے بعد وکلا کے تحفظ کے لیے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی گئی تھی۔ جس میں وکلاء کے تحفظ پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ عرضی میں یہ بھی کہا گیا کہ دہلی میں ایڈوکیٹس پروٹیکشن ایکٹ منظور کیا جائے۔ ایسا نہ کیا گیا تو وکلاء کے خلاف جرائم بڑھیں گے۔