ڈاکہ اقتدار‘ والوں کا کاروبار بن گیا ہے۔ آج صورتحال ایسی ہے کہ کھلے عام دھمکیاں دی جاتی ہیں

تازہ خبر قومی
 ڈاکہ اقتدار‘ والوں کا کاروبار بن گیا ہے۔ آج صورتحال ایسی ہے کہ کھلے عام دھمکیاں دی جاتی ہیں
کرناٹک کو کسی لیڈر کے آشیرواد کی ضرورت نہیں: سونیا گاندھی کا مودی اور بی جے پی پر شدیدحملہ
بنگلورو:۔6؍مئی
(زین نیوز ڈیسک)
کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی بھی کرناٹک اسمبلی انتخابات 2023 میں پوری طرح سے اتر چکی ہیں۔ سونیا گاندھی نے کرناٹک کے ہبلی میں گزشتہ چار سالوں میں اپنی پہلی انتخابی ریلی میں بی جے پی اور وزیر اعظم مودی شدیدحملہ کیابھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سخت حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 10 مئی کو عوام ان لوگوں کو جواب دے گی جو ریاست کو لوٹ رہے ہیں۔
ایک انتخابی میٹنگ میں بی جے پی کے صدر جے پی نڈا کے ایک بیان کا بالواسطہ حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی والے لوگوں کو دھمکیاں دے رہےہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اگر بی جے پی ریاست میں نہیں جیتتی ہے تو اسے پی ایم مودی کا آشیرواد نہیں ملے گا۔ اور فسادات ہوں گے۔
جس پرسونیا گاندھی نے کہا کہ کرناٹک کو کسی لیڈر کے آشیرواد کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ریاست کے لوگ ان کی محنت پر بھروسہ کرتے ہیں ۔انھوں نے عوام سے مطالبہ کیا کہ بی جے پی کی ‘اندھیر نگری’ کے خلاف آواز اٹھانا سب کی ذمہ داری ہے۔
سونیا گاندھی نے الزام لگایا کہ ڈاکہ اقتدار والوں کا کاروبار بن گیا ہے۔ انہوں نے (بی جے پی) ڈکیتی کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس کے بعد ان کی 40 فیصد حکومت نے عوام کو لوٹنا شروع کر دیا ہے۔
سونیا گاندھی نے بی جے پی کو ایسی پارٹی قرار دیا جسے جمہوریت کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ بی جے پی ایسی پارٹی ہے جو ڈکیتی کرکے اقتدار پر قبضہ کرنے میں ماہر ہے۔ انہیں جمہوریت کی کوئی پرواہ نہیں۔

 ‘بھارت جوڑو یاترا’ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس یاترا نے بی جے پی کو اتنا بے چین کردیا کہ اس نے ہر طرح کے جبر کا سہارا لیا۔ ان کے لیڈر کسی سوال یا خط کا جواب نہیں دیتے۔ وہ آئینی اداروں کو اپنی جیب میں سمجھتے ہیں۔ سونیا گاندھی نے پوچھا، ایسی من مانی کسی حکومت میں دیکھی ہے؟ کیا جمہوریت اس طرح چلتی ہے؟
نڈا اور وزیر داخلہ امت شاہ کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج صورتحال ایسی ہے کہ وہ کھلے عام دھمکیاں دیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اگر وہ نہیں جیتتے ہیں تو کرناٹک کو مودی جی کا آشیرواد نہیں ملے گا۔ کہا جاتا ہے کہ اگر بی جے پی نہیں جیتی تو فسادات ہوں گے۔
 آپ کرناٹک کے لوگوں کو بے بس اور لاچار نہ سمجھیں۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ کرناٹک کے لوگ کسی کے آشیرواد پر نہیں بلکہ اپنی محنت پر بھروسہ کرتے ہیں۔ کرناٹک کے لوگ بزدل اور لالچی نہیں ہیں۔
انہیں 10 مئی کو بتانا چاہئے کہ کرناٹک کے لوگ کس مٹی کے بنے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ عوام کی تقدیر کا فیصلہ کسی لیڈر کی آشیرباد سے نہیں ہوتا۔ لوگ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرتے ہیں۔