سپریم کورٹ نے بنگال میں فلم کیرالہ سٹوری پر سےپابندی ہٹادی

تازہ خبر فلمی قومی
سپریم کورٹ نے بنگال میں فلم کیرالہ سٹوری پر سےپابندی ہٹادی
یہ فلم بھی دیکھنا چاہیں گے۔سپریم کورٹ
نئی دہلی :۔18؍مئی
(زین نیوز ڈیسک)
نے بنگال میں فلم دی کیرالہ سٹوری پر پابندی کے فیصلے پر روک لگا دی ہے۔ عدالت نے بنگال حکومت سے کہا کہ وہ فلم دیکھنے والوں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ سنسر بورڈ کی جانب سے فلم کی تصدیق کے خلاف بھی درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔ ہم ان کو سننے سے پہلے یہ فلم بھی دیکھنا چاہیں گے۔
عدالت نے کہا، ‘اس فلم میں 32 ہزار خواتین کے اسلام قبول کرنے کے الزامات پر ڈس کلیمر ڈالا جانا چاہیے اور پروڈیوسر کو یہ کام 20 مئی کی شام 5 بجے سے پہلے کرنا چاہیے۔
 عوام کی عدم برداشت کو اہمیت دے کر قانون کا اس طرح استعمال کیا تو ہر فلم کا یہی حال ہو گا۔ امن و امان برقرار رکھنا ریاست کا فرض ہے۔
چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندر چوڑ نے ریمارکس دیے، "یہ فلم ملک کے مختلف حصوں میں ریلیز ہو رہی ہے۔ مغربی بنگال ملک کے دیگر حصوں سے مختلف نہیں ہے۔ اگر یہ ملک کے دوسرے حصوں میں چل سکتی ہے تو ریاست مغربی بنگال فلم پر پابندی کیوں لگائے؟
اگر عوام یہ نہیں سوچتے کہ فلم دیکھنے کے لائق نہیں تو وہ اسے نہیں دیکھیں گے۔ یہ ملک کے دوسرے حصوں میں چل رہا ہے جن کا آبادیاتی پروفائل مغربی بنگال جیسا ہے۔ آپ فلم کیوں نہیں چلنے دیتے؟
فلم پروڈیوسر کی جانب سے سینئر وکیل ہریش سالوے نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ 32,000 خواتین کے اسلام قبول کرنے کے جواز کے لیے کوئی ڈیٹا دستیاب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈس کلیمر میں دیا جائے گا۔
فلم پر مغربی بنگال میں حکومت نے پابندی عائد کر دی تھی جبکہ تمل ناڈو میں تھیٹر مالکان نے اس پر پابندی لگا دی تھی۔ کلکتہ اور مدراس ہائی کورٹ نے اس معاملے میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا۔ سپریم کورٹ اب ان دونوں ہائی کورٹس کا فیصلہ گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد 18 جولائی کو سنائے گی۔
حکومت نے شیڈو پابندی کے الزامات کو جھوٹا بتایا تھا کیونکہ تمل ناڈو حکومت نے بھی فلم سازوں کے شیڈو بان کے الزامات کی تردید کی تھی۔ حکومت نے کہا کہ فلم کو 19 ملٹی پلیکس میں ریلیز کیا گیا تھا اور فلم سازوں کے پاس اس بات کا کوئی تحریری ثبوت نہیں ہے کہ حکومت نے فلم کی نمائش روک دی ہے۔
 فلم کیرالہ سٹوری کے خلاف 5 مئی کو تمل ناڈو میں مسلم تنظیموں نے مظاہرہ کیا تھا ، مسلم تنظیموں نے تقریباً 20 مقامات پر مظاہرے کیے تھے۔ اس کے بعد 6 مئی کو چنئی میں اور اگلے دن دوبارہ کوئمبتور میں مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین کے خلاف کل نو مقدمات درج کیے گئے، پانچ چنئی اور چار کوئمبتور میں۔
دی کیرالہ اسٹوری پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیوں؟فلم ‘دی کیرالہ اسٹوری’ مختلف کمیونٹیز کی لڑکیوں کے اسلام قبول کرنے اور ان کے آئی ایس آئی ایس میں شامل ہونے پر مبنی ہے۔ ساتھ ہی مسلم تنظیمیں، انسانی حقوق کے کارکن اور کچھ سیاسی جماعتیں اس فلم کو اسلام اور کیرالہ کی ہتک آمیز قرار دے رہی ہیں
کانگریس لیڈر اور ترواننت پورم کے ایم پی ششی تھرور نے 30 اپریل کو فلم کے بارے میں ٹویٹ کیا تھا۔ فلم کا پوسٹر شیئر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا، ‘یہ آپ کی کیرالہ کی کہانی ہو سکتی ہے، یہ ہماری کیرالہ کی کہانی نہیں ہے۔’
کانگریس لیڈر ادھیر رنجن نے کہا کہ ایم پی اور یوپی حکومتوں نے دی کیرالہ اسٹوری کو ٹیکس فری کر دیا ہے۔ وہ ہندوستانی انقلابیوں کی فلمیں نہیں دکھائیں گے۔ وہ صرف ‘دی کیرالہ اسٹوری’ اور ‘دی کشمیر فائلز’ مفت میں دکھائیں گے۔