اودھیش رائے قتل کیس میں مافیا مختار انصاری کو عمر قید،۔ ایک لاکھ جرمانہ
وارانسی:۔5؍جون
(زین نیوز ڈیسک)
یوپی کے مشہور اودھیش رائے قتل کیس میں عدالت نے مافیا و سیاستداں مختار انصاری کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس پر ایک لاکھ کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ عدالت نے پیر کو پہلے مختار کو مجرم قرار دیا ہے۔ کچھ دیر بعد ان کی سزا پر فیصلہ سنا دیا گیا۔
مختار انصاری اس وقت بندہ جیل میں ہیں اور انہیں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا۔ سزا کا اعلان ہونے کے بعد یہ طے پایا کہ پیر کا دن مختار انصاری پر بھاری ہونے والا ہے اور انہیں سخت سزا ملنی ہے۔
اس کے بعد خصوصی جج ایم پی-ایل ایل اے کورٹ اونیش گوتم نے مختار انصاری کو سزا سنائی۔ عدالت نے پولیس کی چارج شیٹ، طویل جرح اور گواہی کے بعد یہ فیصلہ دیا۔ اس دوران اودھیش رائے کے چھوٹے بھائی اور کانگریس کے صوبائی صدر اجے رائے بھی عدالت میں موجود تھے۔
انہوں نے عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا اور اس پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اجے رائے نے کہا کہ ہم 32 سال سے جنگ لڑ رہے ہیں۔ آج انتظار ختم ہوا۔ ہم نے عدالت میں گواہی دی، ثبوت دیا۔
ہمیں توقع تھی کہ مختار انصاری کو سخت سزا دی جائے گی اور عدلیہ نے ایسا ہی کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کوئی بھی ہو ہم اپنی جنگ لڑتے رہے۔ یہ عدالت کے ساتھ ساتھ ہماری جیت ہے، کیونکہ ایک لڑاکا ہونا چاہیے۔ ہم دھمکیوں سے نہیں ڈرے اور پیچھے نہیں ہٹے۔
اجے رائے نے کہا کہ ہمیں پہلے بھی جان کا خطرہ تھا اور اب بھی ہے۔ انہوں نے اپنی سیکورٹی بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے ساتھ کوئی حادثہ ہوتا ہے تو اس کی ذمہ دار بی جے پی حکومت ہوگی۔
حکومت مجھے اور میرے خاندان کو تحفظ فراہم کرے۔ مختار انصاری کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے پر اجے رائے نے کہا کہ جب ہم 32 سال انتظار کر سکتے ہیں تو ہم مزید اپیل کرنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
سال 2023 مختار انصاری کے لیے بھاری رہا۔ گزشتہ ایک سال میں انہیں چار مقدمات میں سزا سنائی گئی ہے۔ حال ہی میں 29 اپریل کو انہیں گینگسٹر کیس میں 10 سال کی سزا سنائی گئی تھی۔ دوسری جانب قتل کیس میں دو دہائیوں سے زائد عرصے تک سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ سنا دیا۔
قتل کیس سے اصل ڈائری غائب ہونے کی وجہ سے یہ کیس سرخیوں میں رہا۔ جون 2022 میں سماعت کے دوران پتہ چلا کہ اس قتل عام کی اصل کیس ڈائری غائب ہے۔ مختار انصاری پر بھی اس کا الزام تھا۔
3 اگست 1991 کو وارانسی کے چیت گنج تھانہ علاقے کے لہورابیر علاقے میں رہنے والے کانگریس لیڈر اودھیش رائے اپنے بھائی اجے رائے کے ساتھ گھر کے باہر کھڑے تھے۔ اسی دوران وین سے آئے بدمعاشوں نے اچانک انہیں نشانہ بناتے ہوئے فائرنگ شروع کردی جس میں اودھیش رائے کی موت ہوگئی۔
اس واقعہ سے پورا پوروانچل ہل گیا۔ ایک ہائی پروفائل شخصیت کے قتل کو لے کر یوپی کی سیاست میں کافی ہلچل مچی ہوئی ہے۔
مقدمے میں اودھیش رائے کے بھائی اور فی الحال کانگریس کے صوبائی صدر اجے رائے نے مختار انصاری کو مرکزی ملزم بنایا ہے۔
اس کے ساتھ ایف آئی آر میں بھیم سنگھ، کملیش سنگھ اور سابق ایم ایل اے عبدالکلام اور راکیش عدلیہ کے نام بھی شامل تھے۔ ان میں سے کملیش اور عبدالکلام فوت ہو چکے ہیں۔
مختار انصاری نے اودھیش رائے قتل کیس کے فیصلے سے قبل خود پر حملے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ مختار انصاری کے وکیل نے 29 اپریل کو عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔ اس میں اس نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ مختارانصاری پر جیل میں حملہ ہو سکتا ہے۔
بہت سے لوگ ایسا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وکیل کے مطابق مختار نے بتایا تھا کہ کچھ نامعلوم افراد نے جیل میں ان کی بیرک میں گھسنے کی کوشش کی تھی۔
