مفت بس سروس کے لیے ہندو شخص نے برقعہ پہنا

بین الریاستی تازہ خبر

مفت بس سروس کے لیے ہندو شخص نے برقعہ پہنا
بس اسٹینڈ پر لوگوں نے پکڑ لیا

بنگلورو:۔7؍جولائی
(زین نیوز )

کرناٹک میں ایک برقعہ پوش ہندو شخص کو مقامی باشندوں نے کرناٹک حکومت کی شکتی یوجنا کے تحت مفت بس ٹکٹ حاصل کرنے کی کوشش کرنے کے شبہ میں پکڑ لیا جو خواتین کے لیے مفت بس سفر فراہم کرتی ہے۔ برقعہ پوش 58 سالہ ہندو شخص کو جمعرات کو دھارواڑ ضلع کے ایک بس اسٹاپ پر بیٹھے دیکھا گیا۔

 دھارواڑ میں سنشی بس اسٹینڈ پر جمعرات کو ایک 58 سالہ شخص کو کچھ لوگوں نے پکڑ لیا۔ لوگوں نے الزام لگایا کہ اس نے شکتی یوجنا کا فائدہ اٹھانے کے لیے برقع پہن رکھا تھا، جو خواتین کے لیے مفت بس کی سواری ہے۔

ویربھدرا ننگیا نامی شخص کو اس وقت ایک آدمی کی طرح برتاؤ کرتے ہوئے دیکھا گیا جب وہ برقعہ پہنے بس اسٹینڈ پر بیٹھا تھا، جس کے بعد انہوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس نے اس شخص کو پوچھ گچھ کے بعد وارننگ دینے کے بعد چھوڑ دیا۔

انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق اس شخص کے پاس ایک خاتون کے آدھار کارڈ کی فوٹو کاپی بھی تھی۔ پوچھ گچھ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ یہ شخص وجئے پورہ ضلع کے گوڈاگیری گاؤں کا رہنے والا تھا۔ وہ ٹرین سے بنگلور سے سانشی آیا تھا۔ یہاں بس اسٹینڈ پر آنے کے بعد اسے ایک بیگ ملا جس کے اندر برقعہ تھا۔

ویربھدرا نے پولیس کو بتایا کہ اس نے برقع اس لیے پہنا تھا تاکہ وہ بس اسٹینڈ پر بھیک مانگ سکے۔کرناٹک کی مفت بس سروس کیا ہے یعنی شکتی یوجناخواتین کے لیے مفت بس سروس کرناٹک میں نافذ کی گئی ہے۔ شکتی یوجنا 11 جون 2023 کو شروع کی گئی تھی۔

اس سروس کو نافذ کرنا کرناٹک میں اسمبلی انتخابات سے پہلے کانگریس کے پانچ انتخابی وعدوں میں سے ایک تھا۔ جس کا مقصد خواتین کو مفت بس سروس فراہم کرکے مالی طور پر بااختیار بنانا ہے۔

اس اسکیم کے تحت خواتین صرف کرناٹک روڈ ٹرانسپورٹ بسوں میں مفت سفر کرسکتی ہیں۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے ریاست کی 42 لاکھ خواتین کو فائدہ ہوگا۔