گوکل چاٹ ولمبنی پارک دھماکوں کے ملزمین کودس سال کی سزا ء
قومی تحقیقاتی ایجنسی(این آئی اے) کی خصوصی عدالت کافیصلہ‘ چار ملزمین پر جرم ثابت
حیدرآباد13:۔/جولائی
(زین یوزبیورو)
قومی تحقیقاتی ایجنسی(این آئی اے) کی خصوصی عدالت نے گوکل چاٹ، لمبنی پارک اور دلسکھ نگر جڑواں دھماکوں کے مقدمہ کی آج سزاسنائی۔اس مقدمہ میں ماخوذ چاروں افراد کو گواہوں کی طرف سے دئے گئے بیانات اور شواہد سے اتفاق کرتے ہوئے عدالت نے انہیں قصوروار قراردیتے ہوئے مجرم گردانا۔ عدالت نے ہر ایک مجرم کو دس سا ل قید کی سزاء دی ہے۔
تحقیقاتی ایجنسیوں نے ان چاروں پر ملک بھر میں دھماکے کرنے کی سازش میں ملوث ہونے اور انڈین مجاہدین کے کارکن بتایاان چاروں پر گوکل چاٹ، لمبنی پارک اور دلسکھ نگر جڑواں دھماکوں کاالزام تھا۔
این آئی اے کی عدالت نے حیدرآباد میں مقیم عبید الرحمن کے ساتھ ساتھ دانش انصاری، آفتاب عالم اور عمران خان کودس دس سال قید کی سزا سنائی گئی۔ان پر سابق میں بھی مختلف دھماکوں کے مقدمات سے منسلک کاالزام ہے۔
این آئی اے کی چارج شیٹ میں تحقیقاتی عہدیدار نے درج کیا تھا کہ انہوں نے ملک بھر میں دھماکے کرکے افراتفری پھیلانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ ان پر ممنوعہتنظیم کی جانب سے کام کرنے کابھی الزام ہے ان چاروں ہمدردوں کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ دھماکوں کی سازش کا حصہ تھے۔
ین آئی اے نے حیدرآباد اور بنگلور دھماکوں میں بھی ان کی موجودگی کو ثابت کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وارانسی، ممبئی، فیض آباد اور دہلی دھماکوں میں ان کا کردارکااعادہ کیا تھا۔ حکام نے عدالت میں کافی شواہد بھی جمع کرائے۔یہاں یہ بتاناضروری ہے کہ25 اگست 2007 کو بندوق برداروں کے ایک گروہ نے کوٹھی کے گوکل چاٹ اورلمبنی پارک میں بم حملے کئے تھے۔
اس واقعہ میں 42 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ لمبنی پارک دھماکے میں 9 لوگ مارے گئے اور گوکل چاٹ کی دکان میں دھماکے میں 33 افرادکی ہلاکت ہوئی تھی۔ علاوہ اس کے کئی لوگ شدید زخمی ہو گئے تھے۔
ان میں سے چند معذور ہیں اور اب بھی زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔اور 21 فروری 2013 کو دلسکھ نگر میں دوہرے دھماکے ہوئے۔ یہ دھماکے آنند ٹفن سینٹر کے ساتھ ایک بس اسٹینڈ میں ہواجو ہر وقت مصروف رہتا ہے۔
اس واقعہ میں 17 افراد ہلاک اور بیشتر زخمی ہوئے۔ انڈین مجاہدین نامیتظیم پر ان حملوں کاالزام ہے اس معاملے میں پانچ ملزمان کو اس وقت این /ئی اے نے گرفتار کیا تھا۔
