عناصر اربعہ جمعیۃ علماء ہند

تازہ خبر مذہبی مضامین

ازقلم عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماءنظام آباد
9505057866
اللہ تبارک وتعالی نے ہر انسان کو پیدا کیا اور کامیاب زندگی گذارنے کے اصول وضابطے بھی بیان کیا انسانیت کی ہدایت وراہ نمای کےلے روز اول سے ہی دو سلسلوں کو جاری فرمایا ایک کتاب اللہ دوسرے رجال اللہان دونوں کے اشتراک سے ہر بندہ خدا اپنی زندگی کے راستوں کو متعین کرکے کامیابی سے ہمکنار ہوسکتا ہے اس دنیا میں انسان جہاں اپنی انفردای زندگی گذارتاہے وہیں اجتماعیت اورجماعتی ومشترکہ زندگی بھی گذارنے کے حالات درپیش ہوتے ہیں انفرادیت میں وہ آزاد ہوکر اپنی راہ لیتاہے اور اجتماعیت کے لےء کچھ اصولوں اور ضابطوں کا پابند بننا پڑتا ہے بہرحال جہاں اجتماعیت کی ضرورت ہوں وہاں لازما کسی نہ کسی جماعت اورتنظیم یا سوسائٹی سے جڑکر انسان اپنے پیچیدہ مسائل کو بآسانی حل کراسکتا ہمارے ملک میں بہت ساری جماعتییں ہیں دینی اعتبار سے بھی اور دنیوی وسیاسی اعتبار سے بھی انہییں جماعتوں میں سے ایک موقر ومعتمد جماعت جمعیۃ علماء ہند ہے جس کی ایک طویل ترین روشن وتابناک تاریخ اورماضی ہے جس کو دیکھ کر یہی کہا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کی ہرمحاذ پر درست اور احسن طریقہ سے راہنمای کرنے والی ملک کی یہ واحد تنظیم ہے جو ہمارے ہی اکابرین کی قائم کردہ اور انہیں کی انتھک محنتوں اور قربانیوں کا نچوڑہے انہیں کی فکروں کا یہ ثمرہ ہیکہ آج اس کی تاسیس کوپورے سوسال مکمل ہوچکےہیں لیکن کبھی بھی اس جماعت نے کسی بھی محاذپر قوم وملت اور ملک و مسلمانوں کی راہ نمای سے سرموانحراف نہیں کیا کبھی اس کے قدموں میں ڈگمگاہٹ نہیں آی اس کے پاے استقامت میں کبھی تزلزل نہیں آیا خواہ ا س کے ذمہ داروں پہ کیسے ہی کٹھن اور صبر آزما حالات آجائیں کبھی انہوں نے ہمت نہیں ہاری ملک عزیز کو انگریزوں کی غلامی سے آزادی لے کر آج تک ہر فرقہ پرست اور مخالف ملک طاقتوں سے لڑتے ہوے ملک کے امن وامان اس کے تحفظ و سالمیت کے لےء تن من دھن کی بازی لگادی اور لگارہے ہیں آپ جانتےہیں کہ اس ملک کو انگریزوں کی غلامی سے نجات دلانے اور فرنگیوں کے پنجہء استبداد سے چھٹکارا دلانے کے لےء پچاس ہزار سے زائد علماء کرام اور پانچ لاکھ سے زائد عوام الناس مسلمانوں نے اپنی جان کی قربانیاں دیں یہی وہ تنظیم ہے جس نے تقسیم ملک کی شدت سے مخالفت کی اور اسی بھارت کی زمین کو اپنا مسکن بنایا اور دیگرمسلمانوں کو بھی اسی خاک میں جینے مرنے کی قسمیں دلائیں اور ہر فاشست طاقت سے نبردآزما رہ کر اس مقدس سرزمین بھارت کوانگریزوں سے حاصل کیا اس سرزمین کے تقد س کو پامال ہونے سے بچایا سن 1919میں اس جماعت کی بناء ڈالی گیء اور پورے منظم طریقہ پر اکابرین علماء کرام مفتی کفایت اللہ صاحب دہلوی شیخ الہند مولانامحمود حسن دیوبندی مولاناعبدالباری فرنگی محلی مولانا احمد سعیددہلوی مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی فداے ملت مولانا سید اسعد مدنی ودیگر علماء نے ملک وملت کے لےء ڈھال بن کر وہ عظیم کارہاے نمایاں انجام دے چکے ہیں کہ تاریخ اس کو کبھی فراموش نہیں کرپاے گی اور آج بھی یہ تنظیم اپنے انہیں بزرگوں کے بتاے ہوے راستوں پر چل کر انہی کے طریق کو اپناتے ہوے امیرالہند حضرت مولانا قاری سیدمحمد عثمان صاحب منصورپوری مولاناسید محمود اسعد مدنی جناب الحاج حافظ پیر شبیر احمد صاحب کی راست نگرانی میں بے لوث سیاسی سماجی فلاحی ورفاہی خدمات پورے آب وتاب کے ساتھ اخلاص واستقامت کا دامن تھامے ہوے انجام دے رہی ہےالحمدللہ پورے ملک میں اس کی شاخیں موجودہیں اور ایک کروڑ سے زائد لوگ اس تنظیم سے باقاعدہ ممبر بن کر وابستہ ہیں. جمعیۃ علماء کی اصل روحہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہییے کہ کسی جماعت کی اساس اور بنیاد اگر اچھے اصولوں پر ہوگی تو ضرور اللہ کی مدد ونصرت کے ساتھ وہ جماعت آگے بڑھے گی اور ملک وملت کے لےء وہ کارآمد ومفید بنے گی جمعیۃ علماء ہند کی اساس وہ چار عناصر ہیں جس پر وہ ہمیشہ سے عمل کرتی آرہی ہے اور آئندہ بھی اسی پر کاربند رہ کر وہ کامیابیوں کی منزل سرکرےگی(1)جمعیۃ کا اہم عنصر ہے عدم تشدد یعنی تشدد اور سختی سے کوی کام نہیں بنتا ہے بلکہ تشدد تعصب کوجنم دیتا ہے اسی وجہ سے جمعیۃ کی یہ پالیسی رہی کہ وہ کسی بھی معاملہ میں تشدد سے دورونفوراختیارکرتی ہےعدم تشدد کو اختیارکرکے پوری حکمت عملی تدبر اور فراست وبصیرت سے کام لیتی ہے عدم تشددکسی وقتی حکمت عملی کانام نہیں ہے بلکہ یہ ایک مستقل اصول اور ذہنیت کانام ہے یہ ایک ایسا اصول ہے جو انسانیت کو اچھای کی طرف لے جاتا ہے امن اورتعمیر کاعلمبرداراور ترقی کاپیش خیمہ ہے جب کسی ایک انسان پر یا ملک وملت پر ناسازگار حالات آتے ہوں مشکلات سے اس کو گذرنا پڑتا ہوں جہاں ان کے لےء ہرطرف خطرات کے بادل امڈرہے ہوں تو صبر کا تقاضہ ہوتا ہیکہ ٹھنڈے دل ودماغ سے اس سلسلہ میں غور وفکر کریں مستقبل کے لےء لائحہ عمل اور منصوبہ بندی کی جاے اسی نظریہ کا نام عدم تشدد ہے(2)دوسراعنصر فرقہ پرستی ملک کے لےء زہر اور سم قاتل ہےجمعیۃ علماء شروع ہی سے یہ بات مانتی اور بتاتی آرہی ہیکہ فرقہ پرستی ملک کی سالمیت کے لےء خطرہ ہے یہاں کے امن ومان کے لےء زہرہلاہل ہے ملک فرقہ پرستی کی وجہ سے تباہ ہوجاے گا کبھی ترقی کی راہ نہیں دیکھ پاے اس بات کو بار بار پورے ملک میں بڑے بڑے اجتماعات اور کانفرنسیں منعقد کرکے ملک کے مختلف سربراہوں کے سامنے رکھ کر ان کو سمجھایا گیا اور مساوات وبرابری کی جانب ان کی توجہ مبذول کرای گیء اور ابھی بھی جمعیۃ علماءکے قائدین اس فرقہ پرستی کو ختم کرنے لےء انتھک کوششیں کررہے ہیں (3)تیسراعنصرجمہوریت کے تحفظ کی جدوجہداس ملک کی یہ خصوصیت اور امتیاز رہا ہیکہ یہاں ہر مذہب والے کو اپنی مذہبی تعلیمات اور شعار کے ساتھ رہنے کی آزادی اور حق حاصل ہے خواہ وہ مسلمان ہو یا سکھ عیسای اور ہندو ہر ایک کو اپنے عقائد کے ساتھ رہنے کا حق حاصل لیکن جب جب بھی اس جمہوریت کو کسی ایک مذہب کا رنگ دیاجاے گا اسی وقت اس کی جمہوریت اور آزادی کو دیمک لگنا شروع ہوجاے گی اس لےء ہروقت جمعیتی اکابرین وذمہ داران نے چاہا کہ اس ملک کی جمہوریت کا تحفظ ہوں (4)چوتھا عنصرجماعت کو سیاست سے الگ رکھاجاےچنانچہ اپنے اسی اصول وضابطہ کی وجہ سے جماعت اپنی سوسالہ تاریخ میں کوی بھی سیاسی نمائندہ نہ کھڑا کیا ہے اور نہ ہی اس کی سیاست میں حصہ داری ہے اور نہ کبھی انتخابات کے موقع پر من حیث الجماعت کسی کی تائید وحمایت کا اعلان کیا گیا بہرحال ان سب کے ساتھ ساتھ جمعیۃ یہ کہتی ہیکہ ان عناصر کو موثر بنانے کے لےء سب سے اہم چیز اخلاص یے چونکہ خلوص وللہیت کے بغیر ہمارے کسی بھی عمل میں تاثیر پیدا نہیں ہوسکتی ہے