مسافر نے فلائٹ میں ایئر ہوسٹس کی ‘قابل اعتراض تصاویرلیں
پولیس اور سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل کو نوٹس جاری
ممبئی :۔18؍اگست
(زین نیوز ڈیسک)
ممبئی سپائس جیٹ کی فلائٹ میں ایک مرد مسافر کی طرف سے مبینہ طور پر جنسی ہراسانی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ مسافر نے چپکے سے کیبن کریو ممبر اور ایک اور خاتون مسافر کی قابل اعتراض تصاویر کھینچ لیں۔
خاتون فلائٹ اٹینڈنٹ اور ایک خاتون ساتھی مسافر کو ہراساں کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ پہلی قطار میں بیٹھے اس شخص نے کیبن کریو کی تصویریں کھینچیں۔یہ واقعہ 16 اگست کو دہلی سے ممبئی جانے والی اسپائس جیٹ کی پرواز میں پیش آیا۔ اب اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔
ایئرلائن نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مسافر نے بعد میں اپنے فون سے تصاویر ڈیلیٹ کر دیں اور اپنے اقدام پر معافی مانگی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ "مسافر کا عملہ کے ارکان سے سامنا ہوا۔ اس نے اپنے فون سے تصاویر ڈیلیٹ کر دیں اور اپنے عمل پر معافی مانگی۔ مسافر نے تحریری معافی بھی مانگی۔”
دہلی کمیشن برائے خواتین (DCW) کی چیئرپرسن سواتی مالیوال نے بدھ (16 اگست) کو ٹوئٹر پر ایک پوسٹ شیئر کی۔ اس میں انہوں نے لکھا – دہلی سے ممبئی جانے والی فلائٹ میں مسافر نے چپکے سے فلائٹ اٹینڈنٹ اور دیگر خواتین کی ویڈیو بنائی اور قابل اعتراض تصاویر کھینچیں۔
اس حوالے سے ویڈیو انسٹاگرام پر وائرل ہو رہی ہے۔ یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔ ہم پولیس اور سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی سی اے) کو نوٹس جاری کر رہے ہیں۔
ڈی سی ڈبلیو نے کیس میں درج ایف آئی آر کی کاپیگرفتار ملزمان کی تفصیلات اور پولیس سے کارروائی کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملزم گرفتار نہیں ہوتا تو پولیس کو ایسا نہ کرنے کی وجہ بتائی جائے۔
تصویر کو کلک کرنے والے مسافر کے خلاف کی گئی کارروائی کی تفصیلات ڈی جی سی اے سے مانگی گئی ہیں۔ یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ آیا اس واقعہ کی اطلاع انٹرنل کمپلینٹس کمیٹی کو دی گئی تھی یا کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی ایکٹ کے تحت کسی اور کمیٹی کو۔ پولیس اور ایوی ایشن ریگولیٹر (DGCA) دونوں سے 23 اگست تک تفصیلات فراہم کرنے کو کہا گیا ہے۔