واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیس 15 مئی سے عمل درآمد۔ صارفین کو نئی رازداری کی پالیسی پر راضی ہونا پڑے گا

تازہ خبر قومی

نئی دہلیــ:22؍فروری
نمائندہ خصوصی
واٹس ایپ گاہکوں کی پریشانیوں سے چھٹکارے موہوم دیکھائی دے رہا ہے کیوں کہ واٹس ایپ انتظامیہ حکومت ہند اور سپریم کورٹ کی جانب سے دباؤ کے باوجود واٹس ایپ اپنی نئی رازدارانہPrivacy Policyسے نظر ثانی اختیار کرنے کے موقف میں نہیں ہے۔واٹس ایپ نے گاہکوں کے تئیں اپنا سخت گیر موقف اختیار کررکھاہے کہ ہر صورت میں انہیں نئی رازدارانہ پالیسی قبول کرنی ہی ہوگی۔ کیونکہ واٹس ایپ کی نئی پالیسی کا نفاذ رواں سال 15 مئی سے ہونے جارہا ہےاس پر عمل درآمد کیا جائیگاواٹس ایپ کمپنی اپنی شرائط منوانے کے لیے بتدریج اقدامات کرے گی، اور اگر ایسا نہ ہوا تو مختصر مدت کے لیے وہ افراد کالز اور نوٹیفکیشن تو موصول کرسکیں گے مگر ایپ میں مسیجز کی ترسیل یا اس کوپڑھ نہیں سکیں گے۔واٹس ایپ اپنےگاہکوں کو اپنے طور پر نئی پرائیویسی پالیسی پڑھنے کی اجازت دیں گے اور اضافی معلومات کی فراہمی کے لیے ایک بینر بھی دکھایا جائے گا، ۔واٹس ایپ نے رازداری کی پالیسی کی شرائط کو بطور ایپ بینر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ گاہکوں کو اپنی نئی پالیسی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں آسانی ہو۔اس کا مطلب ہے کہ واٹس ایپ چیٹس کے اوپری حصے میں اس نئی پالیسی کا ایک لنک ہوگا۔ اس پر کلک کرنے سے گاہک کو نئی پالیسی کے بارے میں معلومات ملے گی لیکن یہ پالیسی ختم نہیں کی جائے گی جس کا اطلاق 15 مئی سے ہوگا۔پالیسی نہ ماننے والےگاہکوں کو راضی کرنے کیلئے بتدیج مطالبہ کیا جائے گا۔تا ہم واٹس ایپ نے اعادہ کیا ہے کہ وہ نجی پیغامات اور ویڈیوز نہیں دیکھے گا واٹس ایپ کا دعویٰ ہے کہ وہ گاہکوں کی اجازت سے فیس بک کے ساتھ ہی بزنس اکاؤنٹ کی معلومات شیئر کرئے گا۔خیال رہے کہ نئی پرائیویسی پالیسی کے مطابق گاہک کے ڈیٹا کے حوالے سے کمپنی کا اختیار بڑھ جائے گا اور کاروباری ادارے فیس بک کی سروسیز کو استعمال کرکے واٹس ایپ چیٹس کو اسٹور اور مینج کرسکیں گے جبکہ فیس بک کی جانب سے واٹس ایپ کو اپنی دیگر سروسیز سے منسلک کیا جاسکے گا ان گاہکوں کے لئے جو واٹس ایپ کی نئی رازداری کی پالیسی سے اتفاق نہیں کرتے ہیں ایسے صارفین کی معمول کے مطابق کالیں اور اطلاعات جاری رہیں گی لیکن وہ میسجس ترسیل سے محروم رہیں گے۔