ازقلم عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماءنظام آباد
ہماراملک بھارت اپنی ایک تاریخ اور اپنے جلو میں تاریخی اہمیت کی حامل شخصیات کو لیا ہوا ہے سیاسی میدان ہوں کہ سماجی گراونڈ علمی اعتبار سے ہوں یاعملی راہ سے ہوں تنظیمی وتعمیری کام ہوں یا فلاحی ورفاہی حوالہ ہر میدان کے رجال کار کا اس ملک کی تاریخ بنانے میں اہم اوربڑاکرداررہا ہے انہیں ناقابل فراموش شخصیات اور جبال علم میں سے ایک شخصیت بھارت کے قومی راہ نما مولانا ابوالکلام آزاد علیہ الرحمۃ ہیں جن کی وفات کو آج مکمل 63/سال ہونے جارہے ہیں جس پر ملک کی ہرتنظیم اور سوسائٹی بلکہ خود حکومت ہند کو ان کی عظیم قومی ملی اور تعلیمی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرنا چاہییے آپ کانام محی الدین احمد تھا مگر آپ نےابوالکلام کے نام سے شہرت پای اور یہی نام زبان زد عام وخاص ہوگیا 11/نومبر 1888میں آپ پیدا ہوے اور 70سال کی عمر میں وہ کارہاے نمایاں اور ملک کی تاریخی خدمت کی عظیم ذمہ داریوں کو انجام دیا کہ دنیا کبھی اس کو فراموش نہیں کرسکتی ہے آج22/فبروری کی تاریخ کو آپ کا یوم وصال منایاجاتا ہے آپ ہمہ جہت
صلاحیتوں کے مالک تھے بیک وقت آپ مثالی صحافی اور مفسر کالقب پایا تو وہیں آزاد ملک کے سب سے پہلے وزیر تعلیم تھے تو ایک ماہر تجربہ کار مصنف کے نام سے بھی آپ کو یادکیا جاتارہا ہے آپ کی تصانیف بھی علمی حلقوں میں بے پناہ اہمیت وشہرت رکھتی ہیں بہرحال فرقہ پرستی اور آمریت کے اس گےء گذرے دور میں آپ کی تعلیمات وافکار کی بے حد ضرورت محسوس کی جارہی ہیں مساوات اور یکساں حقوق کے لےء آپ نے کوی فرق وامتیاز نہیں برتا اور نہ ہی فرقہ پرستی کو کسی معاملہ میں آنے دیااس ملک میں چونکہ جمہوریت ہے اس کا خمیر ہی جمہوریت ہے لیکن آج کچھ ناعاقبت اندیش لوگ اپنی کرسیوں اور عہدوں کا ناجائز فائدہ اٹھا کر ملک کو فرقہ پرستی کی جھلسادینے والی آگ اور ناختم ہونے والی لڑای اور جنگ کی جانب دھکیلنا چاہتے ہیں نفرتوں کو پھیلاوادینے اورعام کرنے والےارباب اقتدار ولیڈران کو اس حقیقی لیڈراور قومی راہنما کی تاریخ اس کے کارناموں اور نظریات وافکار کو دیکھنا اور اس سے سبق لینا چاہہیے