آندھرا پردیش حکومت نے اسکولوں میں موبائل فون پر پابندی عائد کردی
اساتذہ بھی استعمال نہیں کرسکیں گے۔
امراوتی:۔28؍اگست
(زین نیوز )
آج کے دور میں سمارٹ گیجٹس اور موبائل فونز کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے بچوں کا پڑھائی کی طرف رجحان کم ہونے لگا ہے۔ بچے موبائل کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔
اس کا بچوں کے ذہنوں پر گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے آندھرا پردیش حکومت نے اسکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کردی ہے۔محکمہ ا سکول ایجوکیشن نے طلباء کو سکولوں میں موبائل فون لانے پر پابندی کے احکامات جاری کر دئیے ہیں۔
اس سلسلے میں اتوار27 اگست کو کمشنر آف اسکول ایجوکیشن ایس سریش کمار کی طرف سے ایک سرکلر جاری کیا گیا تھا، جس میں طلباء کو کلاس رومز میں موبائل فون لانے سے منع کیا گیا تھا، اور اساتذہ کو کلاس کے اوقات میں ان کے استعمال سے روک دیا گیا تھا
محکمہ نے اس سے قبل کلاس رومز میں اساتذہ کے موبائل فون کے استعمال پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔ اساتذہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کلاس رومز میں جانے سے پہلے اپنے موبائل فون پرنسپل کے پاس جمع کرائیں۔محکمہ نے کہا کہ پابندی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے لگائی گئی ہے کہ تدریس میں کوئی خلل نہ پڑے۔
حکام نے بتایا کہ یہ کارروائی اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم (یونیسکو) کی گلوبل ایجوکیشن مانیٹرنگ رپورٹ کے مطابق کی گئی ہے۔آندھرا پردیش کے اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے پہلے ہی اساتذہ سے کہا تھا کہ وہ کلاس رومز میں موبائل فون کا استعمال بند کریں لیکن ان احکامات پر سختی سے عمل نہیں کیا جا رہا ہے۔
کلاس رومز میں اساتذہ کے موبائل فون کے استعمال پر پابندی محکمہ تعلیم کی ہدایات کا حصہ ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ اساتذہ کلاس کے دوران موبائل فون استعمال کرنے کی وجہ سے طلبا خود ہی اسباق پڑھنے اور سمجھنے پر مجبور ہیں۔
سرکلرمیں کہاگیا ہے کہ موبائل فون ایک واحد الیکٹرانک گیجٹ کے طور پر ابھرا ہے جو کچھ اساتذہ کا کلاس کا وقت کھا رہا ہے… یہ دیکھا گیا ہے کہ بہت سے اساتذہ اپنے ذاتی استعمال کے لیے کلاس رومز میں موبائل فون لے جاتے ہیں نہ کہ کسی پیشہ ورانہ ضرورت کے لیے۔ اس سے کلاس روم میں پڑھائی کے وقت کو دوسرے مقاصد کی طرف موڑ دیا جاتا ہے جو بچوں کی تعلیمی بہتری کے لیے غیر نتیجہ خیز ہیں۔
3 اگست کو ریاستی وزیر تعلیم بوستیہ نارائنا کی صدارت میں ہونے والی میٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے سرکلر میں کہا گیاکہ اساتذہ، یونین کے نمائندوں اور ماہرین تعلیم کے درمیان عمومی اتفاق رائے یہ تھا کہ کلاس رومز میں موبائل فون کے استعمال کو محدود کیا جائے کیونکہ موبائل فون کے منفی اثرات سیکھنا اس کی افادیت سے کہیں زیادہ ہے۔”
دراصل یہ پابندی محکمہ کی جانب سے لگائی گئی ہے تاکہ پڑھائی میں کوئی کوتاہی نہ ہو۔ حکام نے بتایا کہ یہ کارروائی اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم (یونیسکو) کی گلوبل ایجوکیشن مانیٹرنگ رپورٹ کے مطابق کی گئی ہے۔
یونیسکو نے بچوں کی فلاح و بہبود اور حفاظت کے پیش نظر لیا گیا فیصلہ اسکولوں میں اسمارٹ فونز پر پابندی لگانے کی حمایت کی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر چار میں سے ایک ملک نے ڈیٹا پرائیویسی، سیکوریٹی اور بچوں کی بھلائی کے لیے قانون یا پالیسی کے طور پر ایسی پابندی عائد کی ہے۔ تعلیمی شعبے میں ڈیجیٹل مصنوعات کا استعمال بہت تیزی سے کیا جا رہا ہے، اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے یونیسکو کی جانب سے وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔