انڈیا اور بھارت تنازعہ پر خاموش رہنے وزراء کو وزیر اعظم نریندر مودی کی ہدایت
جی 20 سربراہی اجلاس میں بھی بیان نہ دیں۔ سناتن دھرم تنازعہ پر بولنے کی اجازت
نئی دہلی:۔6؍ستمبر
(زین نیوز ڈیسک)
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو یونین کونسل آف منسٹرس کے ساتھ میٹنگ کی۔ اس دوران انہوں نے وزراء سے کہا کہ وہ انڈیا بمقابلہ بھارت تنازعہ پر بات نہ کریں۔ نیزمجاز شخص کے علاوہ کوئی بھی وزیر جی 20 سربراہی اجلاس میں کوئی بیان نہ دے۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پی ایم مودی نے کچھ شرائط کے ساتھ وزراء کو سناتن دھرم تنازعہ پر بولنے کی اجازت دی ہے۔ تمل ناڈو کے سی ایم ایم کے اسٹالن کے بیٹے ادھیاندھی اسٹالن نے 2 ستمبر کو سناتن دھرم کو ختم کرنے کی بات کی تھی۔ چار دن گزرنے کے بعد بھی وہ اپنے بیان پر قائم ہیں۔
ادھیانیدھی نے بدھ کو چنئی میں کہا – وہ ہندو مذہب کے خلاف نہیں ہیں بلکہ ذات پات کی تفریق جیسے سناتن طریقوں کے خلاف ہیں۔ اسٹالن کے بیان پر دہلی اور یوپی میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ کرناٹک میں بی جے پی لیڈر ناگراج نائک نے بھی ان کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔
پی ایم مودی نے وزراء سے جی 20 انڈیا موبائل ایپ بھی ڈاؤن لوڈ کرنے کو کہا یہ ایپ وزراء کے لیے غیر ملکی مہمانوں کے ساتھ بات چیت کرنا آسان بنائے گی۔ اس ایپ کو وزارت خارجہ نے شروع کیا ہے۔
اس میں سربراہی اجلاس کے تمام واقعات کے بارے میں معلومات دی گئی ہیں۔ منگل تک اس ایپ کو 15 ہزار سے زیادہ بار ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے۔ اس ایپ کے ذریعے تمام G20 ممالک کی زبانوں میں غیر ملکی مہمانوں سے بات چیت کی جا سکتی ہے۔ اس میں کل 24 زبانیں دی گئی ہی
مودی نے وزراء کو جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کی ہدایت بھی دی۔ 9 ستمبر کو عشائیہ میں شرکت کرنے والے ارکان پارلیمنٹ کو پہلے اپنی گاڑیوں میں پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس پہنچنا ہوگا۔ یہاں سے وہ بسوں میں سوار ہوں گے اور پنڈال تک جائیں گے۔ ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ بھی اسی طرح پنڈال پہنچیں گے۔
وزرا اور وزیر اعلیٰ 5.50 بجے پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس پہنچیں گے اور 6.30 بجے تک پنڈال پہنچ جائیں گے۔ خارجہ سکریٹری ونے موہن کواترا نے بھی وزراء کو سربراہی اجلاس کے پروٹوکول اور دیگر امور کے بارے میں آگاہ کی