Raja Singh

ملک میں مدارس کو تباہ کرنے سے ہندوتوا کو بچانے کا آدھا کام ہو جائے گا۔ 

تازہ خبر قومی
 ملک میں مدارس کو تباہ کرنے سے ہندوتوا کو بچانے کا آدھا کام ہو جائے گا۔
مسلمان بچوں کو پانچ سال کی عمر سے دہشت گردی کی تربیت دی جاتی ہے
ان لوگوں کا سر قلم کر دوں گا جو ہندو راشٹر کے خلاف ہیں : راجہ سنگھ کی زہر افشانی
نئی دہلی:۔7؍ستمبر
(زین نیوز )
اسلام و مسلمانوں کا مخالف اور فرقہ پرست ذہنیت کی حامل شخصیت ملعون بی جے پی کے معطل رکن اسمبلی ٹی راجہ سنگھ نے بدھ 6 ستمبر کو ہریانہ میں اقلیتوں کے خلاف  ہریانہ کے ہنسی حصار میں ایک جلسہ عام سے خطاب کے دوران زہر افشانی کرتے ہوئے مبینہ طور پر تشدد کا مطالبہ کرکے ایک بار پھر تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔
جس کی ایک ویڈیو میں جو جمعرات کو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے اس ویڈیو میں راجہ سنگھ نے مسلمانوں اور مدرسوں کے خلاف زہر افشانی کی ہے اس کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے میں ان لوگوں کا سر قلم کر دوں گا جو بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کی راہ میں آڑے آئیں گے۔ اگر ملک میں مدارس کو تباہ کر دیا جائے تو ہندوتوا کے لیے آسان ہو جائے گا
 راجہ سنگھ نے تمام ہندوؤں سے کہا کہ وہ لو جہادیوں کے خلاف عہد کریں۔ ہندو مذہب کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا اور بھارت کو ہندو ملک بنایا جائے گا اور کوئی طاقت اسے نہیں روک سکتی۔
اور ہندواور بھگوا کی حفاظت کے لئے کمر بستہ ہونے کی اپیل کی اور کہاکہ ہر فرد ایک فوجی کی طرح دھرم کا محافظ بن جائے
اس نے مزید کہاکہ ہندو ازم کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔بھارت کو ہندو ملک بنایا جائے گا اور کوئی طاقت اسے ہونے سے نہیں روک سکتی۔

راجہ سنگھ نے کہاکہ ملک میں عجیب ماحول دیکھنے میں آرہا ہے کچھ طاقتیں ہیں جو غزوہ ہند کی سوچ رکھے ہیں۔جو بھی ہندوؤں کے خلاف بولے گا بخشا نہیں جائے گا۔ میں ان لوگوں کو ذبح کروں گا جو غزوہ ہند چاہتے ہیں ۔
ہم سب کو ان غداروں کو جواب دینے کی ضرور ت ہے اور میں مخالف ہندوں کو انکی زبان میں جواب دیا ہے ۔ مجھے سیکولرزم کیا پتہ نہیں مجھے صرف ہندوازم پتہ ہےہم سب کا ایک ہی مقصد ہے بھارت کو ہندو راشٹر بنانااور کوئی بھی طاقت بھارت کو ہندو راشٹر بنتے ہوئے نہیں روک سکے گی۔
ان جہادیوں کو یہ سوچ کہاں سے آتی ہے کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ انھیں اتنی اچھی تربیت کہاں سے ملتی ہے ۔ جب یہ لوگ چار یا پانچ سالہ کے ہوتے ہوئے ایک ٹرینگ کے لئے ایک جگہ لے جایا جاتاہے اسے کہتے ہیں مدرسہ۔ راجہ سنگھ نے نشاندہی کی کہ آسام کے وزیر اعلیٰ نے اپنی ریاست میں مدرسوں کی سرگرمیوں پر روک لگا کر بہت اچھا کام کیا ہے۔
راجہ سنگھ نے کہاکہ مسلم مدارس پر بندوق چلانے‘ پتھر بازی اور دوسروں کو لوٹنے کی تربیت دے رہے ہیں۔اس نے مزید کہا کہ مسلم بچوں کوپانچ سال کی عمر سے پارلیمنٹ پر حملہ کرنے بم نصب کرنے اور مدارس میں دیگر تباہ کن سرگرمیاں کرنے کی تربیت دی جاتی ہے ۔ مدرسہ کو تباہ کرنے سے ہندوتوا کو بچانے کا آدھا کام ہو جائے گا۔
اس کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں ہندو بچے فخر سے تب ہی چلیں گے جب مسلمانوں اور عیسائیوں کو ختم کیا جائے گا۔اجہ سنگھ نےمسلمانوں کو ‘گول ٹوپی والے کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ بھگوا کو جھکانے کےکام میں لگے ہوئے ہیں دوسر ی طرف عیسائی لوگ لگے ہوئے ہیں۔
ہریانہ کی سرزمین میں پر گول ٹوپی والے سر اٹھا رہے ہیں نوح تشدد ہندو مت کو منتشر کرنے کے لیے مسلمانوں کا منصوبہ بند حملہ تھااور یہ پورے بھارت نے دیکھا۔یوگی بابا نے جو پیٹرین پھوڑنے کا اسٹائل لایا ہے وہ ہریانہ میں لایا جاسکتا ہے۔