monu-manesar-Arrest zainnews Reamand

ہریانہ : نوح میں تشدد کے مرکزی ملزم مونو مانیسر کو 14 دن کے لیے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا

تازہ خبر قومی
ہریانہ : نوح میں تشدد کے مرکزی ملزم مونو مانیسر کو 14 دن کے لیے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا
مفرور ملزم کو آج دوپہر ہی ہریانہ پولیس نے گرفتار کرتے ہوئے عدالت میں پیش کیا تھا
چندی گڑھ:۔12؍ستمبر
(زین نیوز ڈیسک)
عدالت نے ہریانہ کے نوح میں تشدد کے مرکزی ملزم مونو مانیسر کو 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔ ہریانہ پولیس نے مونو کو منگل کی صبح حراست میں لیا تھا۔ اس کے علاوہ راجستھان پولیس نے ان کے ٹرانزٹ ریمانڈ کی درخواست کی جسے عدالت نے قبول کر لیا۔
معلومات کے مطابق مونو مانیسر کو موب لنچنگ معاملے میں حراست میں لیا گیا ہے۔ مونو مانیسر پر جنید اور نصیر کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ پولیس مونو مانیسر سے پوچھ گچھ کرے گی۔نیوز ایجنسی نے اس سے قبل مانیسر کی گرفتاری کی سی سی ٹی وی فوٹیج شیئر کی تھی
 مونو کے خلاف 31 جولائی کو نوح میں ہونے والے تشدد سے قبل اشتعال انگیز سوشل میڈیا پوسٹ کرنے کا مقدمہ درج ہے۔ نوح پولس کی سائبر کرائم برانچ نے اسے گروگرام سے گرفتار کیا۔ مونو کو اس کے گاؤں مانیسر کے بازار سے پکڑا گیا۔
مونو کو گرفتاری کے بعد نوح عدالت میں پیش کیا گیا۔ جب کہ پولیس نے اس کا ریمانڈ طلب کیا عدالت نے اسے 14 دن کی عدالتی تحویل میں بھونڈی جیل بھیج دیا۔
مونو مانیسر پر راجستھان کے بھیوانی میں ناصر جنید قتل کیس میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ وہ اس کیس میں گزشتہ 8 ماہ سے مفرور تھا۔ مونو کی گرفتاری کی اطلاع ملتے ہی راجستھان پولیس بھی عدالت پہنچ گئی۔
مونو کے جیل جانے سے پہلے ہی راجستھان پولیس نے اس کا ٹرانزٹ ریمانڈ حاصل کر لیا تھا۔ جس کے بعد ہریانہ پولیس نے اسے راجستھان پولیس کے حوالے کر دیا۔ جس کے ساتھ راجستھان پولس روانہ ہوگئی ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹ کیس میں مونو کو گرفتار کر لیا گیا ہے26 اگست کو مونو مانیسر کے نام سے ایک سوشل میڈیا پوسٹ کیا گیا تھا۔ جس میں لکھا تھا کہ ’’ہمیں نتیجہ کی فکر نہیں‘‘ صرف ایک حملہ ہوگا لیکن یہ آخر میں ہوگا‘‘۔ مونومانسر۔
سوشل میڈیا سیل کانسٹیبل منوج کمار نے اس بارے میں نوح سائبر کرائم پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ سائبر پولیس نے جب اس کی چھان بین کی تو پتہ چلا کہ یہ پوسٹ مونو مانیسر نامی اکاؤنٹ سے کی گئی تھی۔
پولیس کے مطابق یہ اکاؤنٹ ہولڈر مختلف گروہوں کے درمیان مذہب کی بنیاد پر دشمنی پھیلاتا تھا۔ نازیبا الفاظ کا استعمال کیا۔ مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی۔ عوامی امن کو درہم برہم کیا۔ پولیس نے جب اس کی جانچ کی تو پتہ چلا کہ یہ پوسٹ مونو مانیسر عرف موہت یادو کے نام سے چل رہے موبائل نمبر سے پوسٹ کی گئی تھی۔
 جس کے بعد اس کے خلاف دفعہ 153، 153 اے، 295 اے، 504، 109 آئی پی سی اور آرمس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
گرفتاری کے وقت مونو سے ایک موبائل فون بمع 2 سم کارڈز، ایک 45 بور پستول اور 3 زندہ کارتوس برآمد ہوئے۔ جنہیں فی الحال ضبط کر لیا گیا ہے۔
31 جولائی کو نوح میں برجمنڈل یاترا کے دوران ہونے والے تشدد سے پہلے مونو مانیسر کے 2 ویڈیو وائرل ہوئے تھے ۔ پہلی ویڈیو میں مونو مانیسر نے کہا تھا کہ وہ 31 جولائی کو برجمنڈل یاترا میں حصہ لیں گے۔
 اس نے عوام سے بھی اس یاترا میں شرکت کی اپیل کی۔ اس کے بعد نوح کی ایک اور برادری سے تعلق رکھنے والے مونو مانیسر کو بھی سوشل میڈیا پر چیلنج کیا گیا۔
اس کے بعد مونو مانیسر کا ایک اور ویڈیو سامنے آیا۔ جس میں کہا گیا کہ بتا دیا ہے تو آنا پڑے گا۔ مبینہ طور پر، اس سے فسادیوں کو شک ہوا کہ مونو یاترا پر آیا ہے

https://twitter.com/Team__Alisha/status/1701582565193421053

واضح رہے کہ اگست کے مہینے میں ہریانہ کے نوح میں تشدد ہوا تھا۔ تشدد سے پہلے مونو مانیسر کا ایک ویڈیو منظر عام پر آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ برج منڈل جلبھیشیک جلوس میں شرکت کریں گے اور لوگوں سے بھی اس میں شرکت کی اپیل کی تھی۔
وی ایچ پی کی قیادت والی اس یاترا پر بھیڑ نے حملہ کیا۔ اس تشدد میں نوح اور گروگرام کے چھ افراد مارے گئے تھے۔ نوح اور گردونواح کے اضلاع میں کئی روز تک کشیدگی رہی۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے انتظامیہ نے انٹرنیٹ سروس بند کر دی تھی اور امتناعی احکامات بھی نافذ کر دیے تھے۔
 یہاں وی ایچ پی عہدیدار ورون شرما نے دعویٰ کیا ہے کہ مانیسر کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، بجرنگ دل کے کارکنوں کو بغیر کسی وجہ کے پریشان کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مونو کے خلاف کارروائی کی مخالفت کرتے ہیں۔