ارکان پارلیمنٹ میں تقسیم کی گئی آئین کی نئی کاپی پر تنازعہ
تمہید سے سیکولر اور سوشلسٹ کے الفاظ ہٹا دئیے گئے: کانگریس کا الزام
بی جے پی کی نیت پر شک
نئی دہلی:۔20؍ستمبر
(زین نیوز ڈیسک)
پارلیمنٹ میں جاری خصوصی اجلاس کے درمیان ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ نئی پارلیمنٹ کے افتتاح کے موقع پر ارکان پارلیمنٹ میں تقسیم کی گئی آئین کی کاپی میں چھپی تمہید سے ‘سیکولر اور ‘سوشلسٹ کے الفاظ کو ہٹا دیا گیا ہے۔
لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے یہ کہتے ہوئے آئین پر مبینہ حملے پر تشویش کا اظہار کیا کہ پارلیمنٹ کی نئی عمارت کے افتتاحی دن جو آئین کی نئی کاپیاں سیاست دانوں کو سونپی گئیں ان میں الفاظ ‘سوشلسٹ سیکولر ہٹا دئیے گئے ہیں
منگل کو نیوز ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آ ئین کی نئی کاپیاں جو ہمیں آج (19 ستمبر) دی گئیں جسے ہم نے اپنے ہاتھ میں پکڑا اور (پارلیمنٹ کی نئی عمارت) میں داخل ہوئے اس کی تمہید میں ’سوشلسٹ سیکولر‘ کے الفاظ نہیں ہیں
اس کے جواب میں حکومت نے کہا ہے کہ اصل آئین کی تمہید کو آئین کی کاپی میں شامل کیا گیا ہے۔ جس میں ‘سیکولر’ اور ‘سوشلسٹ’ کے الفاظ نہیں تھے۔ دراصل یہ دونوں الفاظ 1976 میں 42ویں ترمیم کے ذریعے آئین کے تمہید میں شامل کیے گئے تھے۔
آئین میں تبدیلی ترمیم کے بغیر ممکن نہیں۔اس تنازع کا ایک قانونی پہلو بھی ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں آئین کی تمہید کو آئین کا حصہ تسلیم کیا ہے۔ ایسی صورت حال میں اگر کوئی لفظ ہٹانا یا شامل کرنا ہے تو دوسری آئینی ترمیم کی ضرورت ہوگی۔
کانگریس نے کہاکہ بی جے پی کی نیتوں پر شک۔کانگریس
لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے الزام لگایا ہے کہ ‘ہمیں معلوم ہے کہ یہ الفاظ 1976 میں ترمیم کے بعد جوڑے گئے تھے لیکن اگر آج کوئی ہمیں آئین دیتا ہے اور اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔ یہ ہوشیاری سے کیا گیا ہے۔ یہ میرے لیے تشویش کی بات ہے
انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی نیت مشکوک ہے۔ یہ بہت چالاکی سے کیا گیا ہے۔ یہ میرے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ میں نے اس مسئلے کو اٹھانے کی کوشش کی لیکن مجھے یہ مسئلہ اٹھانے کا موقع نہیں ملا۔
وزیر قانون نے کہاکہ یہ الفاظ اصل آئین میں نہیں تھےادھیر رنجن کے الزامات پر وزیر قانون ارجن رام میگھوال نے کہا، ‘جب آئین وجود میں آیا تو سوشلسٹ اور سیکولر الفاظ نہیں تھے۔ یہ الفاظ آئین کی 42ویں ترمیم میں شامل کیے گئے۔
نئی پارلیمنٹ جاتے ہوئے ارکان پارلیمنٹ کو آئین کی کاپی دی گئی۔18 ستمبر سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں کام کاج 19 ستمبر سے شروع ہوا۔ اسی دن تمام اراکین اسمبلی کو پرانی عمارت سے نئی عمارت میں منتقل کر دیا گیا۔ اس کے بعد آئین کی یہ کاپی ارکان پارلیمنٹ کو دی گئی۔
اس سے پہلے منگل کو پانچ روزہ خصوصی اجلاس کے دوسرے دن نئے پارلیمنٹ کمپلیکس میں لوک سبھا میں تقریر کرتے ہوئے کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ کسی کو بھی ‘انڈیا اور ‘بھارت’ کے درمیان غیر ضروری دراڑ پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ ہندوستان کے آئین کے مطابق دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ یہ آئین ہمارے لیے گیتا، قرآن اور بائبل سے کم نہیں ہے۔ آرٹیکل 1 کہتا ہے، "ہندوستان، یعنی بھارت، ریاستوں کا اتحاد ہوگا.. اس کا مطلب ہے کہ انڈیا اور بھارت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ بہتر ہو گا کہ کوئی بھی غیر ضروری طور پر دونوں کے درمیان دراڑ پیدا کرنے کی کوشش نہ کرے