میجر اور اس کی بیوی نے نابالغ کوبرہنہ کر کے تشدد کا نشانہ بنایا
خون چاٹنے اور کوڑے دان سے کھانا کھانے پر مجبور، جوڑا گرفتار
گوہاٹی :۔27؍ستمبر
(زین نیوز ڈیسک)
آسام کے ایک میجر اور اس کی اہلیہ کو آسام کے دیما ہساو ضلع میں ان کی نابالغ گھریلو ملازمہ پر تشدد کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے خلاف POCSO، SC/ST ایکٹ، ٹارچر، چائلڈ لیبر اور غلامی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔دیما ہساو پولیس نے ۔تعزیرات ہندکی دفعہ 326 (، 374 ,370,354(، 506 کے تحت مقدمہ (ہافلونگ پی ایس کیس نمبر 74/2023) درج کیا
آسام کے رہنے والے میجر شیلیندر یادو اور ان کی اہلیہ نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لڑکی سیڑھیوں سے نیچے گر کر زخمی ہوگئی۔
دیما ہاساو کے ایس پی میانک کمار نے کہا کہ نابالغ لڑکی کا الزام ہے کہ اس کی مالکن میرے کام سے خوش نہیں تھی۔ اس لیے وہ مجھے کمرے میں بند کر دیتی تھی میرے بال کھینچتی تھی اور مجھے رولنگ پن سے مارتی تھی۔وہ میرے کپڑے اتارتی اور مجھے اس وقت تک مارتی جب تک میرا خون نہ نکل جائے۔ کئی بار اس نے مجھے اپنا خون چاٹنے پر مجبور بھی کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے دانت ٹوٹ گئے تھے۔ جسم پر جلنے کے نشانات ہیں۔ میڈیکل رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ ان کی ناک کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی۔ زبان پر گہرے زخم ہیں۔
یہ جوڑا تقریباً 6 ماہ سے نابالغ کو ہراساں کر رہا تھا۔ انہوں نے لڑکی کو زیادہ تر وقت بغیر کپڑوں کے رکھا۔ جب وہ کھانا مانگتی تو وہ اسے کوڑے دان سے کھلا دیتے۔جب وہ 6 ماہ کے بعد گھر واپس آئی تو اس نے اپنی آزمائش بیان کی کہ ملزم میجر شیلیندر یادو نے آسام کی ایک نابالغ لڑکی کو اپنے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے رکھا تھا۔
میجر ہماچل پردیش کے پالم پور میں تعینات تھا اسی لیے وہ لڑکی کو اپنے ساتھ لے گیا۔ یہاں لڑکی کو تقریباً 6 ماہ تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
آسام واپس آنے پر لڑکی نے اپنے گھر والوں کو اپنی آزمائش سنائی۔ اہل خانہ نے اس معاملے کی شکایت پولیس سے کی۔ شکایت کی بنیاد پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔
متاثرہ کی ماں نے کہا کہ جب میری بیٹی گھر واپس آئی تو ہم اسے مشکل سے پہچان سکے۔ اس کی عمر صرف 16 سال ہے، لیکن وہ بوڑھی نظر آنے لگی ہے۔ اس کے دانت ٹوٹے ہوئے ہیں اور چہرے پر جلنے کے نشانات ہیں۔ اس کے کان کٹے ہوئے تھے اور اسے بولنے میں بھی دقت ہو رہی تھی۔
میجر شیلیندر یادو اور کِمی رالسن کو ہافلونگ جوڈیشل مجسٹریٹ کی اضافی عدالت میں پیش کیا گیا، جس نے ان کی عدالتی تحویل کا حکم دیا۔نابالغ کی اس وقت آسام کے ہافلنگ سول ہسپتال میں طبی دیکھ بھال کی جارہی ہے۔