نئی تعلیمی پالیسی کا مقصد ملک کی ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنانا: ڈاکٹر سبھاش سرکار
اردو یونیورسٹی کے اساتذہ کے ساتھ مرکزی مملکتی وزیرِ تعلیم کا اجلاس
حیدرآباد:۔ 9 نومبر
(پریس نوٹ)
اردو یونیورسٹی میں جس طرح سے نئی قومی پالیسی 2020 کا نفاذ کیا گیا ہے یہ بڑی خوش آئند بات ہے۔ کیونکہ اس نئی تعلیمی پالیسی کا مقصد ملک کی ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنانا ہے۔
ان خیالات کا اظہار مرکزی مملکتی وزیرِ تعلیم، ڈاکٹر سبھاش سرکار نے کیا۔ وہ آج شام مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کے ساتھ منعقدہ اجلاس کو مخاطب کر رہے تھے۔
وزیر موصوف نے مزید کہا کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی کی بدولت ملک کا تعلیمی منظرنامہ آئندہ دس برسوں میں یکسر تبدیل ہوجائے گا اور طلبہ کے لیے حصول تعلیم آسان ہونے کے ساتھ انہیں ہنرمند بناکر ان کے لیے روزگار کا حصول آسان ہو جائے گا۔
قبل ازیں مرکزی وزیر کی اردو یونیورسٹی آمد کے موقع پر وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن اور رجسٹرار پروفیسر اشتیاق احمد نے ان کا خیر مقدم کیا۔اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے اس موقع پر مملکتی وزیر تعلیم کو مانو کا مختصراً تعارف پیش کیا اور انہیں اردو یونیورسٹی میں قومی تعلیمی پالیسی کے بتدریج نفاذ اور اس سمت کی جانے والی کوششوں سے واقف کروایا۔
پروفیسر عین الحسن نے بتلایا کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی کے تحت رواں برس انڈر گریجویٹ چار سالہ کورس کا بھی مختلف مضامین کے ساتھ آغاز کردیا گیا۔
مرکزی وزیر نے اس بات پر بھی خوشی کا اظہار کیا کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت اردو یونیورسٹی میں ٓان لائن تعلیم اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعہ بھی طلبہ کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اردو یونیورسٹی میں این ای پی کے نفاذ سے ملک کے اردو داں طبقے کو اردو زبان میں اعلیٰ اور عصری تعلیم حاصل کرنا آسان ہوجائے گا۔
کیونکہ نئی تعلیمی پالیسی میں پانچویں جماعت تک لازمی طور پر اور آٹھویں جماعت تک اختیاری طور پر مادری زبان میں تعلیم کی بات کہی گئی ہے۔ اس پس منظر میں اردو یونیورسٹی کے لیے نئی قومی تعلیمی پالیسی بڑی مددگار ثابت ہوگی۔
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے انسٹرکشنل میڈیا سنٹر کے احاطہ میں منعقدہ اس نشست میں مختلف شعبوں کے صدور، ڈین اور دیگر اعلیٰ عہدیداران موجود تھے۔ آخر میں رجسٹرار پروفیسر اشتیاق احمد نے شکریہ کے فرائض انجام دیئے۔