ہندوستان نے اقوام متحدہ میں فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے خلاف ووٹ دیا
امریکہ اور کینیڈا سمیت سات ممالک نے قرارداد کی مخالفت کی
نئی دہلی:۔12؍نومبر
(زین نیوز ورلڈ ڈیسک)
اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے درمیان ہندوستان نے فلسطین میں اسرائیلی قبضے کے خلاف پیش کی گئی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کو اقوام متحدہ میں ایک قرارداد لائی گئی جس میں مشرقی یروشلم، شامی گولان سمیت فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کی مذمت کی گئی۔
ہندوستان سمیت 145 ممالک نے اس تجویز کے حق میں ووٹ دیا۔ تقریباً 7 ممالک نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ 18 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
جس میں مقبوضہ فلسطینی علاقے بشمول مشرقی یروشلم اور مقبوضہ شام کے گولان میں آبادکاری کی سرگرمیوں کی مذمت کی گئی تھی۔ قرارداد کے مسودے کو جمعرات 9 نومبر کو منظور کیا گیا۔
اقوام متحدہ کی قرارداد کا مسودہ جس کا عنوان مشرقی یروشلم اور مقبوضہ شامی گولان سمیت مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اسرائیلی بستیاں” بھاری اکثریت سے منظور کر لیا گیا۔آباد کاروں کے ذریعے فلسطین پر اسرائیل کا قبضہ غیر قانونی ہے۔
اسرائیل کی نسل پرستی کو اب ختم ہونا چاہیےہفتہ کے روز اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے واضح کیا کہ وہ غزہ کو فلسطینی اتھارٹی کے حوالے نہیں کریں گے۔ غزہ پر صرف ہماری فوج کا کنٹرول ہوگا۔ ہمیں بین الاقوامی افواج پر بھروسہ نہیں ہے کہ وہ یہاں کی سکیوریٹی برقرار رکھیں۔
اسرائیل حماس کو تباہ کر دے گا چاہے ہمیں اس کے لیے دنیا کے خلاف جانا پڑے نیتن یاہو نے وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں کہا۔فوج کے خلاف کوئی بھی جھوٹے دعوے یا دباؤ ہمیں ایسا کرنے سے نہیں روک سکتا۔ اس جنگ کے بعد اسرائیل کو غزہ سے کوئی خطرہ نہیں رہے گا۔
ایرانی صدر جنگ بندی پر سربراہی اجلاس کے لیے سعودی پہنچ گئے۔دوسری جانب ہفتے کے روز سعودی عرب اور ایران نے اکٹھے ہو کر غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ کئی دہائیوں بعد ایرانی صدر ابراہیم رئیسی جنگ پر مذاکرات کے لیے سعودی دارالحکومت ریاض پہنچ گئے۔
یہاں جنگ بندی سے متعلق میٹنگ میں عرب ممالک نے اسرائیل پر ہتھیاروں کی پابندی عائد کرنے کی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں قیام امن کے لیے مسئلہ فلسطین کا حل بہت ضروری ہے۔ایرانی صدر رئیسی نے ملاقات میں اسرائیلی فوج کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔
اس کے علاوہ عرب ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ اسرائیل فلسطینی عوام کے خلاف دہشت پھیلا رہا ہے۔تاہم تمام عرب ممالک اس تجویز کی حمایت میں نہیں آئے جس میں اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لیے اسے تیل کی سپلائی روکنے کا کہا گیا تھا۔