Raniba Morbi

خود کو لیڈی ڈان کی طرح پیش کرنے والی گجرات کی رانی باکاروباری خاتون کون ہیں

تازہ خبر قومی
خود کو لیڈی ڈان کی طرح پیش کرنے والی گجرات کی رانی باکاروباری خاتون کون ہیں
تنخواہ مانگنے پر ملازم کےمنہ میں سینڈل ٹھونس دیا۔ 4 دن بعدخودسپردگی کی
احمد آباد:۔27؍نومبر
(زین نیوز)
 گجرات کے موربی ضلع میںایک کھلے میدان میں 3 میزوں پر 33 کیک رکھے گئے ہیں۔ ہر کیک پر ایک لڑکی کی تصویر ہے۔ کچھ کیکوں پر پستول ہے اور کچھ پر تلواررکھی تھی
درمیان میں رکھے6 چھ کیک پر انگریزی حروف لکھے ہوتے ہیں۔ یہ مل کر ‘رانی با،تشکیل دیتے ہیں۔ لگژری کاریں پیچھے کھڑی ہیں۔ تبھی کالے لباس میں ایک لڑکی ہاتھ میں تلوار لیے آتی ہے اور ایک ایک کرکے کیک کاٹتی ہے۔
یہ لڑکی وبھوتی پٹیل عرف رانی با ہے۔ موربی گجرات میں رہتی ہے۔ رانی با پر الزام ہے کہ اس نے اپنی کمپنی کے ایک سابق ملازم کو مارا پیٹا اور اس کے منہ میں سینڈل ٹھونس دیا۔ اورلاتوں اور گھونسوں بے رحمی سے پیٹااور
اس کے بھائی اور دیگر ملازمین نے مبینہ طور پر بیلٹ سے کوڑے بھی مارے اور معافی مانگنے پر مجبور کیا۔اور اسے متنبہ کیا کہ اگر اس نے راواپر روڈ پر مہم جوئی کی یا شکایت درج کرانے کی جرات کی تو مار دیا جائے گا
موربی سٹی کی ‘اے ڈویژن پولیس نے متاثرہ نوجوان کی طرف سے درج کرائی گئی شکایت کی بنیاد پر خاتون اور کم از کم چھ دیگر افراد کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کی۔
 خاتون کی شناخت وبھوتی پٹیل عرف رانیبا اور اس کے بھائی اوم پٹیل اور منیجر پریکشت سمیت دیگر کے طور پر کی گئی ہے۔واقعے کے چار دن بعد 27 نومبر بروز پیر رانی باسمیت 3 ملزمان نے پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔
رانی با کی کیک کاٹنے کی ویڈیو 3 ستمبر 2022 کی ہے۔ دلت ملازم کی پٹائی کے واقعے کے بعد یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔
را نی با پٹیل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک بڑی سیرامک ​کمپنی کی پروموٹر ہیں۔ کمپنی کا سالانہ ٹرن اوور 15 کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ تاہم را نی با کی سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز کچھ اور ہی کہانی بیان کرتی ہیں۔ زیادہ تر ویڈیوز میں رانی بانے خود کو لیڈی ڈان کی طرح پیش کیا ہے۔
موربی شہر کی کاروباری خاتون وبھوتی سیتاپارہ عرف رانی با پٹیل اپنے آپ کو ایک کاروباری کہتی ہیں۔ انسٹاگرام پر ان کے 23 ہزار فالوورز ہیں۔ تاہم اپنے ملازم کی پٹائی کے واقعے کے بعد اس نے اپنا اکاؤنٹ لاک کر دیا ہے۔
انسٹا اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی زیادہ تر تصاویر اور ویڈیوز میں رانی با مہنگی کاروں کے ساتھ نظر آ رہی ہیں۔ وہ ایک باڈی گارڈ کے ساتھ چلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ اسپورٹس بائیک چلاتی ہے۔ زیادہ تر ویڈیوز میں پس منظر میں پنجابی گانے سنائی دے رہے ہیں۔ کچھ تصاویر میں وہ تلوار اور ریوالور کے ساتھ بھی نظر آرہی ہے۔
ٹائلوں کے کاروبار سے وابستہ وبھوتی پٹیل عرف رانی با کو ستمبر میں سوراشٹر ایوارڈ ملا۔ ان کی کمپنی کا سالانہ ٹرن اوور 15 کروڑ روپے ہے۔ اس کا بھائی بھی اس کاروبار میں شراکت دار ہے۔
کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق اس کی مصنوعات 37 ممالک میں فراہم کی جاتی ہیں۔ ویب سائٹ پر وبھوتی پٹیل کا ذکر بانی اور چیئرپرسن کے طور پر کیا گیا ہے۔ تاہم اس تنازعہ کے بعد ان کی کمپنی کی جانب سے کوئی سرکاری تبصرہ نہیں آیا ہے۔
رانی با کی تلاش میں موربی پولیس کی ٹیم دو بار اس کے دفتر گئی۔ عملے سے بھی پوچھ گچھ کی۔ معاملے کی جانچ کر رہے ڈپٹی ایس پی پی اے جالا نے بتایا کہ متاثرہ نیلیش دلسانیا وبھوتی بین پٹیل کے دفتر میں کام کرتا تھا۔ اس کی 20 دن کی تنخواہ باقی تھی۔ اس کے لیے وہ مسلسل وبھوتی بین سے رابطہ کر رہے تھے۔ وہ بہانے بنا کر انہیں ٹال رہی تھی۔
اس نے مزید بتایا کہ متاثرہ کا الزام ہے کہ 22 نومبر کی رات 8 بجے اسے پیسے دینے کے نام پر دفتر بلایا گیا اور پھر اس کی پٹائی کی گئی۔ اس بنیاد پر ہم نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اس میں وبھوتی بین کے علاوہ 5 نامزد ملزم ہیں۔ 8 دیگر کے خلاف نامعلوم مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔