اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے بعد دوبارہ جنگ چھڑ گئی
2 شاہراہیں بند 3 گھنٹے میں 32 فلسطینی شہید ہوئے۔
تل ابیب:۔2؍ڈسمبر
(زین نیوز ورلڈ ڈیسک)
اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک ہفتے کی جنگ بندی کے بعد دوبارہ جنگ شروع ہو گئی ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق آئی ڈی ایف نے غزہ میں بمباری شروع کر دی ہے۔
اسرائیل کے علاقے ہولیت میں راکٹ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ آئی ڈی ایف نے حماس پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔
قطری میڈیا ہاؤس الجزیرہ کے مطابق اسلامی جنگجو کے عسکری ونگ القدس کی جانب سے صبح کے وقت اسرائیل کے متعدد شہروں پر حملے کیے گئے۔ اسرائیل نے حملے کے باعث شمالی اسرائیل میں 2 شاہراہیں بند کر دی ہیں۔ اس کے علاوہ سرحدی علاقوں میں کاشتکاری کے کام پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔
اسرائیلی فوج نے غزہ کے لوگوں کو خان یونس کا علاقہ خالی کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ اس کے لیے عربی زبان میں لکھے گئے پمفلٹ گرائے گئے ہیں۔ ساتھ ہی حماس نے کہا ہے کہ اسرائیل نے صبح رفع کے قریب بمباری کی۔
اس میں درجنوں فلسطینی مارے گئے۔ بی بی سی کے مطابق جنگ بندی کے 3 گھنٹے کے اندر 32 فلسطینی مارے گئے ہیں۔ ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
یہاں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ حماس مزید یرغمالیوں کو رہا نہیں کرنا چاہتی۔ جس کی وجہ سے جنگ بندی میں مزید توسیع نہیں ہو سکی۔ حماس نے تمام خواتین کو رہا بھی نہیں کیا اور اسرائیل پر راکٹ برسانا شروع کر دیئے۔ 7
اکتوبر سے شروع ہونے والی جنگ میں اسرائیل کے 1200 اور غزہ میں 14 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ جنگ بندی ختم ہونے کے بعد امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن اسرائیل روانہ ہو گئے۔
جنگ بندی کے آخری روز 8 اسرائیلیوں کو رہا کر دیا گیا۔حماس نے 7 روزہ جنگ بندی میں 110 اسرائیلیوں کو رہا کیا ہے۔ جنگ بندی کے آخری روز 8 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کر دیا گیا۔
ان میں سے دو خواتین کو جمعرات کی دوپہر ہی رہا کر دیا گیا۔ شام کو 6 مغویوں کو رہا کر دیا گیا۔ بدلے میں اسرائیل نے 30 فلسطینیوں کو رہا کیا۔ ان میں 22 بچے اور 8 خواتین شامل ہیں۔