جگتیال:2؍مارچ
( زین نیوز ڈاٹ نیٹ)
ضلع کلکٹر جی روی نے کہا کہ ضلع جگتیال سے وابستہ 5 بلدیات اور 3 ریونیو ڈیویژن میں قانونی تعمیرات نہ ہونے کیلئے ڈسٹرکٹ ٹاسک فورس،انفورسمنٹ اور اسکواڈ کمیٹیوں کا قیام عمل میںلایا گیا ہے۔ شہر جگتیال کے آئی ایم اے ہال میں ضلعی عہدیداروں اور آر ڈی اوس کے ساتھ کنورجنسی اجلاس کا انعقاد عمل میںلایا ْ
اس موقع پر ضلع کلکٹر نے کہا کہ ضلع میں غیر قانونی تعمیرات سے روکنے کیلئے ضلع کے 5بلدیات اور 3 ریونیو ڈویژن میں محکمہ جات پولیس، بلدیہ ،عمارت و شوراع،فائر کے ساتھ ڈسٹرکٹ ٹاسک فورس ،انفورسمنٹ اور اسکواڈ کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔آن لائن ، آف لائن اور سوشیل میڈیا میں آنے والی ہر شکایت پر اس کمیٹی کی جانب سے اجتماعی طور پر تنقیح کرتے ہوئے فوری طور پر اپنے رد عمل کو ظاہر کرتے ہوئے TS ipass کے احکامات کی خلاف اور بلا اجازت کی جانے والی تعمیرات کی نشاندہی کرتے ہوئے انکی تصاویر اور ویڈیو گرا فی کے بعد قطعی رپورٹ کی تیاری کے بعد حکومت کے احکامات کے مطابق تعمیرات نہ کرنے پر انھیں منہدم کرنے یا توڑنے کی ہدایت دی ۔
اس ضمن میں ہفتہ میں ایک اجلاس کا انعقاد عمل میں لاکر روبہ عمل لائے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالی جائے۔شکایت کسی
بھی طرح موصول ہونے پر Ts ipass کے مطابق کاروائی کرنے کی ہدایت دی۔غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کاروائی میں تاخیر ہونے پر اسکی ساری ذمہ داری متعلقہ عہدیداروں کی ہی ہوگی ۔تعمیری مرحلہ میں ہی مالکین کو آگاہ کرتے ہوئے قوانین کے مطابق تعمیر کرنے کیلئے بارآور کروایا جائے۔خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے
۔ضلعی سطح پر نو ہیلمٹ نو پٹرول پر سختی سے عمل آوری کی جائے۔سی سی کیمروں کے فوٹیج کا معائنہ کرتے ہوئے خلاف ورزی کرنے والوں پر کاروائی کی جائے۔ہیلمٹ کا عدم استعمال کرنے والے سواریوں کے مالکین کے لائسنس کو رد کرنے کی گذارش کی جائے۔عوام کی بھلائی کی خاطر سڑک کے حادثات سے محفوظ رکھنے کیلئے احتیاطی تدابیر پر عمل آوری کی جائے۔
۔شفافیت اور عوامی بیت الخلاءکے موثر استعمال کے اقدامات کریں ۔کوویڈ کے مکمل اثر نہ ختم ہونے کی بنا پر تعلیمی اداروں میں احتیاطی تدابیر پر پابندی کے ساتھ عمل آوری کی جائے۔آج تک 6،7،8 جماعتوں میں 57 فیصد طلباء کی حاضروی درج ہونے کی متعلقہ عہددیاروں نے اطلاع دی ہے۔پہلے اور دوسرے مرحلہ میں کوویڈ کی ٹیکہ اندازی کے پروگرام کےہو جس طرح مکمل کیا گیا ٹھیک اسی طرح ہی تیسرے مرحلہ کو بھی کامیاب بنایا جائے۔مدارس میں دیا جانے والا دوپہر کے کھانے میں معیار کا خصوصی لحاظ رکھا جائے
۔پرجا وانی کے تحت پیش کی جانے والی عرضیوں کی یکسوئی جائے۔جائیداد ٹیکس کو صد فیصد وصول کیا جائے۔برقی بلوں کو زیر التؤائ نہ رکھا جائے۔ترقیاتی کاموں کو صرف منظوری ہی نہ دیں بلکہ انکی تکمیل کے ساتھ ساتھ استعمال میں بھی لائیں۔ اس موقع پر ایڈیشنل کلکٹر بی راجیشم ، ایڈیشنل کلکٹر برائے مجالس مقامی محترمہڈی ارونا سری،آر ڈی او جگتیال محترمہ مادھوری، آر ڈی او کورٹلہ ونود کمار، ضلع پریشد سی ای او سرینیواس ،ضلعی عہدیداران اور دیگر موجود تھے۔