معروف شاعر منور رانا دل کا دورہ پڑنے سے 71 سال کی عمر میں انتقال کر گئے
لکھنؤ عیش باغ کے قبرستان میں سپرد خاک
لکھنؤ:۔15؍جنوری
(زین نیوز )
بدن میں دوڑتا سارا لہو ایمان والا ہے
مگر ظالم سمجھتا ہے کہ پاکستان والا ہے
اردو کے معروف شاعر منور رانا نے اتوار کو اتر پردیش کے لکھنؤ کے سنجے گاندھی پوسٹ گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں دل کا دورہ پڑنے سے آخری سانس لی۔
منور رانا انتقال کے وقت 71 برس کے تھے۔ اردو شاعر 2017 سے پھیپھڑوں اور گلے کے انفیکشن سے لڑ رہے تھے اور گردے کے مسائل کی وجہ سے باقاعدگی سے علاج بھی کروا رہے تھے جس کے لیے انہیں ڈائیلاسز کرانا پڑا۔
منوررانا لکھنؤ کے پی جی آئی ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ان کی بیٹی صومیہ رانا کے مطابق وہ گزشتہ چھ دنوں سے وینٹی لیٹر پر تھے۔منور رانا نے پسماندگان میں اہلیہ، چار بیٹیاں اور ایک بیٹا چھوڑا ہے۔ وہ بیماری کی وجہ سے 14 سے 15 دن تک اسپتال میں داخل رہے،
ابتدائی طور پر لکھنؤ کے میدانتا اور بعد میں ایس جی پی جی آئی میں، جہاں انہوں نے اتوار، 14 جنوری کو رات 11 بجے کے قریب آخری سانس لی۔
معروف شاعر منور رانا کے مداح ان کی اچانک موت کی خبر سن کر صدمے سے دوچار ہیں۔ ان کے خاص دوست اور نغمہ نگار جاوید اختر نے بھی اس خبر پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے دوست کی آخری الوداعی تقریب میں شرکت کی
ادیب جاوید اختر معروف شاعر کے جنازے میں شرکت کے لیے لکھنؤ پہنچ گئے۔ انھوں نے جنازے کو کندھا دیا۔ ندوہ کالج کی طرف جانے والے جلوس جنازہ میں سیف بابر، حسن ابراہیم، طارق قمر جیسے شاعروں نے شرکت کی۔ انہیں لکھنؤ کے عیش باغ کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا
26 نومبر 1952 کو اتر پردیش کے رائے بریلی میں پیدا ہونے والے منور رانا اردو ادب، خاص طور پراردو شاعری اور اپنی غزلوں کے لیے اپنی نمایاں خدمات کے لیے جانے جاتے ہیں ۔
2014 میں انہیں ان کی نظم ‘شہدبا کے لیے ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ تاہم، انہوں نے ملک میں ‘عدم برداشت کا الزام لگاتے ہوئے ایوارڈ واپس کر دیا تھا۔ 2012 میں انہیں اردو ادب کے لیے خدمات کے لیے شہید شودھا سنستھان کی جانب سے ماتی رتن سمان سے نوازا گیا ۔
انہوں نے اپنے پورے کیریئر میں امیر خسرو ایوارڈ ، میر تقی میر ایوارڈ، غالب ایوارڈ، ڈاکٹر ذاکر حسین ایوارڈ ، اور سرسوتی سماج ایوارڈ سمیت دیگر اعزازات بھی حاصل کیے ۔
اردو شاعری کی معروف شخصیت رانا کو دنیا بھر میں لوگ پسند کرتے ہیں۔ زندگی کے جوہر کو پکڑنے کی صلاحیت اس کے کام میں عیاں تھی۔ منور رانا کی نظم ماں جسے ان کی مشہور ترین تصانیف میں شمار کیا جاتا ہے اردو ادب میں ایک مخصوص مقام رکھتی ہے، جو اپنے منفرد اسلوب اور جذباتی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے
سماج وادی پارٹی کےصدر اکھلیش یادو نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ ملک کے معروف شاعر منور رانا کا انتقال انتہائی دل دہلا دینے والا ہے۔ مرحوم کی روح کے سکون کی خواہش کرتے ہیں۔
اکھلیش یادو انہیں خراج عقیدت پیش کرنے منور کے گھر پہنچے۔ وہ 8 منٹ تک اہل خانہ کے ساتھ رہے۔ باہر آنے کے بعد انہوں نے کہا کہ انہوں نے تحریر کے ذریعے لوگوں کو بیدار کرنے کا کام کیا۔ لوگ ان کی والدہ پر لکھی ہوئی شاعری سنتے تھے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت دے۔
شاعرو ادیب جاوید اختر معروف شاعر کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے پہنچ گئے۔ اس نے جنازے کے جلوس کو کندھا دیا۔ ندوہ کالج کی طرف جانے والے جنازے میں لوگوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ انہیں عیش باغ کے قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ منور گردے فیل ہونے کی وجہ سے پچھلے 2 سال سے ڈائیلاسز کروا رہے تھے۔ وہ پھیپھڑوں کی سنگین بیماری COPD میں بھی مبتلا تھے۔ 9 جنوری کو جب ان کی حالت بگڑ گئی تو انہیں پی جی آئی کے آئی سی یو میں داخل کرایا گیا۔
انہوں نے لکھنؤ پی جی آئی میں آخری سانس لی۔ وہ اپنی والدہ پر لکھی گئی نظموں کی وجہ سے لوگوں میں بہت مقبول تھے۔ انہوں نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا موازنہ طالبان سے کیا۔
منوررانا کو سال 2014 میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا ۔ تاہم 2015 میں انہوں نے عدم برداشت میں اضافہ کے نام پر ایوارڈ واپس کر دیا۔ ساتھ ہی کسانوں کی تحریک کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ پارلیمنٹ ہاؤس کو گرا کر وہاں ایک فارم بنایا جائے۔
ادیب جاوید اختر معروف شاعر کے جنازے میں شرکت کے لیے لکھنؤ پہنچے منور رانا کے گھر کے باہر مصنف جاوید اختر نے کہا کہ آج شاعری اور اردو کے لیے بہت بڑا نقصان ہوا
یہ ایک اہم کردار تھا جو آج ہم میں نہیں رہا، راحت صاحب ندا فاضلی اب منور صاحب ان کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔
اردو نقاد پرویز ملک زادہ نے ریمارکس دیے کہ ادب کے دائرے میں ان کی میراث برقرار ہےجو کہ شاعری کی لازوال طاقت کا ثبوت ہے کہ وہ وقت سے آگے نکل کر انسانی روح کو نسلوں تک جوڑتی ہے۔
لکھنؤ کے شاعر بابر نے کہا کہ منور کا جانا نہ صرف اردو بلکہ ہندی ادب کا بھی بڑا نقصان ہے۔انہوں نے زندگی بھر سچ بولنے سے پہلے کبھی کسی کی فکر نہیں کی۔۔
منظر بھوپالی نے کہاکہ دونوں زبانوں کے لوگ شاعر منور رانا کی عزت کرتے تھے۔ منظربھوپالی نے کہاکہ منور رانا اپنی صدی کے عظیم شاعر تھے۔ بزرگ شاعر تھے۔ ماں ان کی روحانی مشق تھی
۔ ایک بزرگ جس کا احترام دونوں زبانوں کے لوگ کرتے تھے۔ ماں پر غزلیں انہیں شاعری کے ولی کے درجہ پر لے گئیں۔ وہ لکھتے ہیں…
جب بھی کشتی مری سیلاب میں آ جاتی ہے
ماں دعا کرتی ہوئی خواب میں آ جاتی ہے