جونپور:۔
آہ۔مولانا فاروق قاسمی پرتاپ گڑھی
از قلم مولانا انوار احمد قاسمی8 جون 2024 کی صبح 8 بج کر 15 منٹ پر موبائل کی گھنٹیاں بجنے لگی اور ہر طرف سے ایک ہی خبر پردہ سماعت پر بجلی بن کر کوندنے لگی کہ مولانا محمد فاروق قاسمی پرتاپ گڑھی شہید کر دیے گئے
تھوڑی دیر تو کانوں پر یقین نہیں آیا لیکن جب خبریں تواتر کے ساتھ آنے لگی تو دل پر غم و اندوہ کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ دماغ پر سکته طاری ہو گیا اور ہاتھ پیر پھول گئے تھوڑی دیر خاموشی رہی اور پھر ٫٫انا للہ وانا الیہ راجعون،، پڑھ کر دل کو تسلی دی
جی ہاں! موت کا ایک دن معین ہے اسباب کچھ بھی ہو سکتے ہیں یہی وہ حقیقت ہے جسے تسلیم کرنا ہی پڑتا ہے اس کی نظر میں نہ کوئی خاص ہے نہ کوئی عام یہ جب آتی ہے تو پیر، فقیر۔ نبی،ولی اور چرند پرند سب کو اپنی آغوش میں سلادیتی ہے ہاں ! باقی رہنے والی ذات صرف اور صرف وحدہ لاشریک کی ہے
٫٫ویبقی وجہ ذوالجلال والاکرام،، مولانا سے میری ملاقات غالباً 1997 میں جمیعت علماء ہند کے صدر دفتر مسجد عبدالنبی نئی دہلی میں ہوئی مولانا مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے چہرے پر بلا کی نورانیت اور کشش تھی میں کھینچا ہوا ان کی طرف چلا گیا
تعارف ہوا تو معلوم ہوا کہ مادر علمی دارالعلوم دیوبند کے قدیم فضلا میں سے ہیں اور سفر لندن کے سلسلے میں ویزہ حاصل کرنے کیلۓ دہلی تشریف لائے ہیں نا چیز بھی بیرون ملک سفر کے لیے دہلی میں مقیم تھا اور فارغ تھا مولانا کو بھی کوئی خاص مصروفیت نہیں تھی گفتگو ہوئی اور دوران گفتگو پتہ چلا کہ جناب ایک مدرسہ کے ناظم و بانی ہیں
جسے انہوں نے اپنے گاؤں میں قائم کر رکھا ہے انہوں نے ناچیز سے اپنے تجربات ، اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات بتائیں اور اس محبت اور شفقت سے پیش آئے کہ دل نے انہیں باعزت مقام عطا کیا جو تاحیات قائم رہا اور حیات جاودانی پانے کے بعد بھی تا زندگی قائم رہے گا۔
مولانا سے دوسری ملاقات اس وقت ہوئی جب میں ملازمت سے دستبردار ہو کر جامعہ مومنہ للبنات کے دفتر میں بیٹھا تھا کہ موصوف اچانک وارد ہوئے رسمی خیر و عافیت کے بعد بتانے لگے کہ میں نے سونپور مدرسہ چھوڑ دیا ہے اور پرتاپ گڑھ میں ایک مدرسہ قائم کرنا چاہتا ہوں زمین لینی ہے
وسائل کے لیے حاضر ہوا ہوں عرض کیا حضور میرے پاس تو خود ہی ابھی زمین نہیں ہے میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں انہوں نے ہنس کر کہا مجھے گھر پہنچنے کے لیے پٹرول چاہیے میں نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا اور جیب سے جو کچھ تھا نکال کر دے دیا غالبا 200 یا 300 روپے تھے
یہ اس شخص کے ذاتی حالات اس لیے بیان کر رہا ہوں تاکہ معلوم ہو سکے کہ کس کس مپرسی اور مالی تنگی کا شکار ہیں مگر عزائم اتنے بلند کہ مدرسہ کے لیے زمین اور تعمیر کا خواب پلکوں کو سجائے در در کے خاک چھان رہے ہیں،نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کو عقیدت ہو تو دیکھ ان کو ید بیضا لیے بیٹھے ہیں
اپنی آستینوں استینوں میںاور پھر اسی دیوانگی اور جنون نے جلد ہی وہ وقت بھی دکھلایا کہ یہ لٹا پٹا قافلہ سالار پرتاپ گڑھ شہر میں زمین خریدتا ہے اور ایک مدرسہ اور عالی شان مسجد کی تعمیر کرتا ہے جس میں آج سینکڑوں طلبہ کا قیام و طعام ہے اور تحفیظ القران کا مقدس کام اس جگہ سے جاری اور ساری ہے جہاں سےہر سال حفاظ کی خاصی تعداد فارغ ہوتی ہے۔
مولانا نے اپنے گھر کا ایک حصہ بھی بچیوں کی تعلیم کے لیے خاص کر رکھا ہے جہاں گرد و نما کی بچیاں دینی اصلی تعلیم حاصل کرتے ہیں انہوں نے اپنے تمام بچوں کو اعلیٰ دینی تعلیم دلائی اپ کے بڑے صاحبزادے مفتی مامون رشید ممبئی میں ایک اہم مسجد کے امام و خطیب ہیں
باصلاحیت عالم ہیں اور دو صاحبزادے محمد ارشد محمد اسد سلمہما اللہ حافظ قرآن ہونے کے ساتھ عالم دین بھی ہیں بچیاں بھی حافظہ ہیں غرضیکہ ٫٫این خانہ ہمہ افتابست کامصداق ہے،،
2002 کے بعد جب میں نے تعمیر و تکمیل مساجد کا کام شروع کیا تو مولانا کی رہنمائی اور خواہش کے مطابق ضلع پرتاپ گڈھ میری سرگرمیوں کا مرکز رہا تعمیری کاموں کی تمام تر ذمہ داریاں مولانا سنبھالتے تھے اور کوئی گاؤں اور دیہات ایسا نہ تھا جہاں مولانا کی رسائی نہ ہو اور انہیں قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھا نہ جاتا ہوں مسلمان تو مسلمان غیر مسلم بھی آپ کا احترام کرتے اور اپنی پنچایتوں میں معاملات طے کرانے کے لیے مدعو کرتے اور آپ کے فیصلوں کا احترام کرتے تھے
جمعیۃ العلماءکی تمام سرگرمیوں میں حصہ لیتے اور تمام ملی اور فلاحی تنظیموں سے جڑے رہتے مولانا ہمت اور جرأت اور حوصلہ مندی کا دوسرا نام تھے دور دراز کا سفر اپنے بائک پر ہی اس کہنہ سالی اور درازی عمر کے باوجود کیا کرتے تھے۔مولانا تواضع، انکساری ،خوش اخلاقی، مہمان نوازی اور ضیافت میں اپنی مثال آپ تھے وقت کی قیمت اور اہمیت کا بخوبی علم تھا اور اس کا استعمال بھی جانتے تھے
جب بھی پرتاپ گڑھ مساجد کے سلسلے میں جانا ہوتا یا پرتاپ گڑھ سے گزر ہوتا تو وقت بچانے کے لیے ناشتہ اور زاد راہ لے کر کسی چوراہے یا دوراہے پر کھڑے ملتے اور گاڑی میں ہی ناشتہ کراتے اور سفر بھی جاری رہتا۔مولانا کی شہادت اور اچانک وفات نے اطراف و اکناف ہی نہیں پورے ملک کے دینی وملی اور سماجی حلقہ کو سوگوار کر دیا آپ کی مقبولیت کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ پوسٹ مارٹم ہاؤس سے لے کر تجہیز و تکففین تک انسانوں کا اس قدر ہجوم تھا کہ شمار کرنا مشکل تھا
سورج کی تپش اور اس کی بڑھتی ہوئی رکارڈ توڑ تمازت غم کی آگ میں جلتے ہوئے دلوں اور اس کی سوزش کے سامنے ہیچ تھی آگ برساتے ہوئے کھلے اسمان تلے کسی کو سائے کی تلاش نہ تھی ہزاروں کندھے تھے جو مولانا کو کاندھا دینے کے لیے بے تاب تھے اور بے شمار نظریں تھیں جو مولانا کی ایک جھلک پانے کے لیے جھپکنا بھول گئی تھی ۔
ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں مولانا کو ان کی ابدی خوابگاہ تک پہنچایا گیا اور پھر لوگ اپنی نم آنکھوں شکستہ دلوں اور تھکے ہوئے قدموں سے اپنے گھروں کو واپس ہوئے نصف صدی تک علم و دانش تقوی و طہارت اور پاک بازی و صداقت کی شعائیں بکہیرنے کے بعد آج سرزمین پرتاپگڈھ ایک گاؤں سونپور میں علم و دانش کا یہ سورج غروب ہو چکا تھا مگر اس کے کرنیں تا قیامت دلوں کو روشن کرتی رہینگی
، اس کے کارنامے صدیوں تک زندہ رہیں گے اور اس کی ملی اور سماجی خدمات کے تذکرے برسہا برس کۓ جاتے رہیں گے ان کی سخاوت و مروت، مہمان نوازی اور علم نوازی کی داستانیں علم دانش کے راہ رؤوں کے کانوں میں ہمیشہ گونجتے رہیں گے کہہ دیتی ہے یہ شوخی ہوا کی ابھی اس راہ سے گزرا ہے کوئی۔
دم تحریر ان کے قاتلوں کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے ہم اپنی اس تحریر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کے قاتلوں کو گرفتار کر کے ان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی مولانا کو درجہ شہادت عطا فرمائے اور اعلیٰ علیین میں صلحاء اور صدیقین کے ساتھ جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائیں اور لواحقین کو صبر جمیل کی دولت سے مالا مال کرے ( آمین)
مضمون نگار جامعہ گروپ آف انسٹیٹیوٹ جونپور کے بانو و ناظم ہیں۔