S-jaishankar

وزیر خارجہ ایس جے شنکر اسلام آباد پہنچ گئے: 9 سال بعد پاکستان کا دورہ کرنے والے پہلے رہنما

تازہ خبر عالمی
وزیر خارجہ ایس جے شنکر اسلام آباد پہنچ گئے: 9 سال بعد پاکستان کا دورہ کرنے والے پہلے رہنما
نئی دہلی :۔15؍اکتوبر
(زین نیوزڈیسک)
وزیر خارجہ ایس جے شنکر شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ (CHG) کی 23ویں میٹنگ کے لیے پاکستان کے اسلام آباد پہنچے۔ دو روزہ سربراہی اجلاس میں رکن ممالک کے سرکردہ رہنما شریک ہوئے ہیں اور یہ سخت حفاظتی اقدامات کے تحت ہو رہا ہے۔ اسلام آباد اور اس کے ہمسایہ شہر راولپنڈی دونوں میں اہم راستے اور کاروبار سیکیوریٹی خدشات کے باعث بند کر دیے گئے ہیں۔
وزیر خارجہ ایس جے شنکر ایس سی او اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ یہاں چھوٹی بچیوں نے پھول دے کر ان کا استقبال کیا۔ وہ 9 سال میں پاکستان کا دورہ کرنے والے پہلے ہندوستانی رہنما ہیں۔
اس سے قبل پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’بہتر ہوتا کہ مودی شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے آتے، مجھے امید ہے کہ میں ان سے جلد ملاقات کروں گا۔
دراصل، پاکستان نے اگست میں وزیر اعظم مودی کو ایس سی او کے لیے دعوت نامہ بھیجا تھا، لیکن دونوں ممالک کے درمیان خراب تعلقات کی وجہ سے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اس میٹنگ میں شرکت کی ہے۔

جے شنکر پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان جانے کا واحد مقصد ایس سی او ہےوہ دونوں ممالک کے تعلقات پر بات نہیں کریں گے۔ایس سی او اجلاس میں بھارت کے علاوہ روس اور چین سمیت 10 ممالک کے نمائندے بھی شرکت کریں گے۔
 اس کے پیش نظر اسلام آباد میں سیکیوریٹی کو مضبوط بنانے کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پورے شہر میں 3 دن تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔
وزیر خارجہ جے شنکر 8 سال 10 ماہ بعد پاکستان کا دورہ کرنے والے ہندوستان کے پہلے رہنما ہیں۔ اس لیے یہ دورہ خاص ہے۔ اس سے قبل 25 دسمبر 2015 کوہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ تب مودی سرپرائز وزٹ پر لاہور پہنچے تھے۔
انہوں نے پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی۔ ان کے دورے کے بعد سے ہندوستان کے کسی وزیر اعظم یا وزیر نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔
2016 میں مودی کے دورے کے ٹھیک ایک سال بعد چار دہشت گرد اڑی میں ہندوستانی فوج کے بریگیڈ ہیڈ کوارٹر میں داخل ہوئے۔ اس حملے میں ہندوستانی فوج کے 19 جوان شہید ہوئے تھے۔
اس کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی تھی۔ 2019 میں جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید خراب ہو گئے۔
تاہم اس سب کے باوجود پاکستان کے اس وقت کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو گزشتہ سال گوا میں ایس سی او ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت آئے تھے۔