اردو میں اعلیٰ تعلیم کی نصابی کُتب کی تیاری ایک بڑی ذمہ داری مانو میں بی بی ایس کے دو روزہ ورکشاپ کا اختتام 

تازہ خبر تلنگانہ
اردو میں اعلیٰ تعلیم کی نصابی کُتب کی تیاری ایک بڑی ذمہ داری مانو میں بی بی ایس کے دو روزہ ورکشاپ کا اختتام 
 پروفیسر اشتیاق احمد‘ پروفیسر خالد مبشرالظفر‘ پروفیسر سلمیٰ احمد فاروقی کی مخاطبت 
حیدرآباد ۔:15؍اکتوبر
 (پریس نوٹ) 
 بھارتیہ بھاشا سمیتی کے تحت اردو میں اعلیٰ تعلیمی نصابی کتب کی تیاری ‘ حکومت ہند کی جانب سے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کو دی گئی ایک بڑی ذمہ داری ہے جسے پروفیسرسید عین الحسن ‘ وائس چانسلر کی قیادت میں بحسن و خوبی نبھایا جائے گا۔ پروفیسر اشتیاق احمد رجسٹرار اردو یونیورسٹی نے مصنفین کے دو روزہ تربیتی ورکشاپ کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آج ان خیالات کا اظہار کیا۔
 انہوں نے کہا کہ تربیت کا دور مکمل ہورہا ہے اور ہمیں تیزی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ورکشاپ میں شریک تقریبا60    مصنفین میں اسناد کی تقسیم بھی عمل میں آئی۔ ڈاکٹر اشتیاق احمد نے مزید کہا کہ بی بی ایس اردو کے تحت نصابی کتب کی تیاری کے پراجکٹ کا حصول مانو کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں۔
 اس پراجکٹ کے ذریعہ حکومت ہند اور یوجی سی نے نہ صرف وائس چانسلر اور اردو یونیورسٹی  پر بلکہ تمام اردو جاننے والوں پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ نئی قومی تعلیمی پالیسی کے تحت علم و دانش کے بیش بہا خزانے کو ملک کی مختلف زبانوں میں عوام کے سامنے پیش کرنے کا یہ ایک عمدہ موقع ہے۔ ابتدا میں پروفیسر خالد مبشرالظفر نے خیر مقدمی تقریر کی اور ورکشاپ کی رپورٹ پیش کی۔
انہوں نے بتایا کہ اس ورکشاپ نے مصنفین کے ویژن اور عملی تحقیق کے میدان دونوں کی وضاحت کردی ہے۔ پروفیسر خالد ظفر نے جو ڈی ٹی ٹی ایل پی کے ڈائرکٹر اور بی بی ایس اردو پراجکٹ کے کوآرڈی نیٹر بھی ہیں‘ ورکشاپ کے شرکا کو اردو نصابی کتب کی تیاری کا ہر اول دستہ قرار دیا۔
پروفیسر گرپال سنگھ (بی بی ایس  نوڈل آفیسر‘ پنجاب سنٹرل یونیورسٹی) نے بطور مہمان اعزازی خطاب کرتے ہوئے بی بی ایس پنجابی کے تجربات سے شرکا کو واقف کروایا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ انگریزی میں آپ چاہے کچھ بھی لکھیں دنیا تسلیم نہیں کرے گی لیکن مادری زبان میں تحریر کردہ مواد کی پذیرائی ہوگی۔ بی بی ایس پراجکٹ کا حصول ہمارے لیے خوش نصیبی ہے۔
پروفیسر سلمیٰ احمد فاروقی  (مہمان اعزازی) ڈائرکٹر ہارون خاں شیروانی مرکز برائے مطالعات ِ دکن نے اپنی تقریر میں سلائیڈس کی مدد سے نصابی کتب اور حوالہ جاتی کتب میں فرق کی وضاحت کی اور ہندوستانی تاریخ میں فن ِتحریر کے حوالوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ استاد کے لیے لکھنا ضروری ہے۔ پروفیسر ایم وناجا ‘ ڈین ‘ اسکول آف ایجوکیشن نے بھی مہمان ِ اعزازی کے طور پر مخاطب کیا۔
 ڈاکٹر اسلم پرویز نے ورکشاپ کے تمام اجلاس کی بحسن و خوبی نظامت کی۔ اختتامی اجلاس کی شروعات حافظ محمد ابرار افضل کی تلاوت کلام پاک سے ہوئی اور ڈاکٹر صالح امین نے شکریہ ادا کیا۔
 اس سے قبل دو روزہ ورکشاپ میں نصابی کتب کی تیاری ‘ رہنمایانہ خطوط‘ فریم ورک اور تعلیمی عمل ‘ نصابی کتب لکھنے کے لیے مصنفین کی تیاری ‘ تحقیق پر مبنی طریقہ ‘ ٹیکنالوجی کا استعمال اور دستیاب وسائل ‘ اصطلاح سازی اور نصابی کتب کی زبان ‘ مختلف مضامین میں کتاب لکھنے والے تجربہ کار مصنفین کے تاثرات جیسے موضوعات پر مباحث ہوئے۔
پروفیسر شگفتہ شاہین‘ پروفیسر عبدالواحد ‘ پروفیسر عزیز بانو‘ پروفیسر پی۔ فضل الرحمن نے مختلف تکنیکی سیشنس کی صدارت کی۔ پروفیسر بدیع الدین احمد نے شرکائے ورکشاپ کی تجاویز اور سوال جواب کے سیشن کی نگرانی کی۔