یوپی :سنبھل میں جامع مسجد کے سروے کے دوران جھڑپیں
صورتحال پر قابو پانے کے لیے لاٹھی چارج‘ آنسو گیس کا استعمال
سنبھل :۔24؍نومبر
(زین نیوز ڈیسک)
اتر پردیش میں 24 نومبر کو سپریم کورٹ کے حکم پر ایک مسجد کے سروے کے دوران جھڑپیں ہوئیں کیونکہ مشتعل ہجوم نے سروے ٹیم پر پتھراؤ کیاسروے ٹیم جیسے ہی شاہی جامع مسجد پہنچی سینکڑوں مقامی لوگوں نے احتجاج شروع کر دیا۔
ہنگامہ اس قدر بڑھ گیا کہ پولیس نے پہلے آنسو گیس کے گولے داغے اور پھر لاٹھی چارج کرکے بھیڑ کو منتشر کردیایہ سب جلد ہی پرتشدد ہو گیا ۔ڈی ایم اور ایس پی موقع پر ہیں۔ مرادآباد سے ڈی آئی جی منیراج جی موقع پر پہنچ گئے ہیں۔
اس مقام پر پہلے سے ہی بھاری پولیس تعینات تھی ۔ پولیس نے مقامی لوگوں سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی لیکن یہ اپیل بے سود ثابت ہوئی۔ بعد میںپولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے جو منٹوں میں زیادہ سے زیادہ بے قابو ہو رہا تھا۔
دراصل صبح 6.30 بجے ڈی ایم۔ایس پی کے ساتھ ایک ٹیم جامع مسجد کا سروے کرنے پہنچی تھی۔ ٹیم کو دیکھ کر مسلم کمیونٹی کے لوگ غصے میں آگئے۔ تھوڑی ہی دیر میں دو ہزار سے زیادہ لوگ جامع مسجد کے باہر پہنچ گئے۔ ہجوم مسجد کے اندر جانے پر بضد تھا۔
پولیس نے روکنے کی کوشش کی تو کچھ لوگوں نے پتھراؤ کیا۔ جس کے بعد بھگدڑ جیسی صورتحال پیدا ہوگئی۔ اچانک پتھراؤ شروع ہوگیا، پولیس کو بھاگنا پڑا۔
سروے کا حکم سپریم کورٹ نے اس شکایت کے بعد دیا تھا کہ مسجد اصل میں ایک مندر تھی۔ درخواست کے مطابق ایک ہری ہر مندر اصل میں اس جگہ پر کھڑا تھا جہاں اب مسجد موجود ہے۔یہ شکایت سپریم کورٹ کے وکیل وشنو شنکر جین نے دائر کی تھی، جس نے کہا تھا کہ ہری ہر مندر کو مغل بادشاہ بابر نے جزوی طور پر توڑ دیا تھا۔
سروے ٹیم 5 دنوں میں دوسری بار جامع مسجد کا سروے کرنے پہنچی تھی۔ اس سے قبل یہ سروے 19 نومبر کو کیا گیا تھا۔ اسی دن یعنی 19 نومبر کو سنبھل شاہی جامع مسجد کو شری ہریہر مندر میں تبدیل کرنے سے متعلق ہندو فریق کی درخواست پر عدالت میں سماعت ہوئی۔ عدالت نے مسجد کا سروے کرکے ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ رپورٹ 26 نومبر کو پیش کی جانی ہے۔ اس پر 29 نومبر کو سماعت ہوگی
پولیس عہدیدار پرشانت کمار کے حوالے سے کہاکہ عدالت کے حکم پر سنبھل میں سروے کیا جا رہا ہے، کچھ سماج دشمن عناصر نے پتھراؤ کیا ہے، پولیس اور اعلیٰ افسران موقع پر موجود ہیں، حالات قابو میں ہیںپولیس پتھراؤ کرنے والوں کی شناخت کر کے مناسب ” قانونی کارروائی کرے گی۔
پولیس عہدیدارروں کو بھاری تعداد میں تعینات کیا گیا تھا کیونکہ پچھلے کچھ دنوں سے علاقے میں اس معاملے پر کشیدگی بڑھ رہی تھی۔پولیس نے سیکیوریٹی بڑھا دی تھی، امتناعی احکامات نافذ کیے تھے اور مسجد میں نماز جمعہ سے قبل فلیگ مارچ کیا تھا۔
سنبھل کے ڈی ایم راجندر پنشیا نے بعد میں کہاکہ سروے مکمل ہو گیا ہے۔ سروے ٹیم کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا ہے۔ صورتحال کو قابو میں لایا جا رہا ہے۔ شرارتی عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ کسی کو بخشا نہیں جائے گا۔”