یوپی کے سنبھل میں مسجد کے سروے پر تنازعہ، جھڑپ میں 3 افراد جاں بحق
سنبھل:۔24؍نومبر
(زین نیوز ڈیسک)
اتر پردیش کے سنبھل میں اتوار کو ایک مسجد کے سروے کی مخالفت کرنے والے ہجوم کی پولیس کے ساتھ جھڑپ کے بعد پرتشدد تصادم میں تین نوجوان شہید ہو گئے۔
تشدد کے بعد سنبھل تحصیل میں اگلے 24 گھنٹوں کے لیے انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ہے۔ پورے شہر میں غیر اعلانیہ کرفیو کا ماحول ہے۔ جامع مسجد کی طرف جانے والے تینوں راستوں پر بیریکیڈنگ کی گئی ہے۔ ہنگامہ آرائی کے بعد نرسری سے 12ویں تک کے تمام اسکول کل 25 نومبر کو بند رہیں گے۔ ڈسٹرکٹ بیسک ایجوکیشن آفیسر الکا شرما نے کہا کہ سنبھل تحصیل علاقے کے تمام اسکول بند رہیں گے۔
سروے ایک عدالتی حکم کے بعد شروع کیا گیا تھا جس میں ایک شکایت پر الزام لگایا گیا تھا کہ مغلوں نے مسجد کی تعمیر کے لیے ایک مندر کو گرایا تھا۔سپریم کورٹ کے وکیل وشنو شنکر جین کی طرف سے دائر کی گئی۔ جس نے دعویٰ کیا تھا کہ مسجد اصل میں ایک مندر ہے ایک شکایت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مغل بادشاہ بابر نے ایک مندر، ہری ہر مندر کو منہدم کر دیا تھا، جو کبھی شاہی مسجد کے مقام پر کھڑا تھا۔
سنبھل میں جامع مسجد کے سروے کے دوران ہوئے تشدد میں تین نوجوانوں کی موت ہو گئی۔ کمشنر اونجنے سنگھ نے میڈیا کو اس کی تصدیق کی ہے ۔ تشدد میں سی او انوج چودھری اور ایس پی کے پی آر او کو ٹانگوں میں گولی لگی۔ ایس پی سمیت 15 دیگر پولیس عہدیدار بھی زخمی ہیں۔مرادآباد کے کمشنر اننجے کمار نے بتایا کہ مرنے والوں کی شناخت نعمان، بلال اور نعیم کے طور پر ہوئی ہے۔
پولیس نے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ اگرچہ یہ الزام لگایا گیا ہے کہ متاثرین کو گولی لگنے سے زخم آئے ہیں، پولیس کا کہنا ہے کہ موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم کے بعد ہی بتائی جائے گی۔ کمشنر اننجے کمارنے کہاکہ دو خواتین سمیت کچھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔
مزید برآں اس واقعے کے سلسلے میں 15 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، ڈویژنل کمشنر نے تصدیق کی۔اس سے پہلے دن میں، اتر پردیش کے ڈی جی پی پرشانت کمار نے کہا کہ عدالت کے حکم پر سنبھل میں سروے کیا جا رہا ہے۔ خواتین چھت سے پتھر پھینک رہی تھیں۔ سنبھل میں اب تک تین لوگوں کی موت ہو چکی ہے
متوفی کے لواحقین کا دعویٰ ہے کہ ان کی موت پولیس کی فائرنگ سے ہوئی۔ تاہم کمشنر نے کہاکہ پولیس فائرنگ میں کوئی موت نہیں ہوئی ہے۔ حملہ آوروں کی فائرنگ میں تینوں نوجوان جان کی بازی ہار گئے۔کمشنر نے کہاکہ حملہ آور منصوبہ بند طریقے سے سروے ٹیم کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔ 12-14 سال کے بچوں اور خواتین کو آگے رکھا گیا۔
पूरा एक सिस्टम है जो खुलेआम देश के मुसलमानों को अपना दुश्मन मानकर व्यवहार कर रहा है, संभल में जिस तरह से प्रदर्शनकारियों पर सीधे फायरिंग करने के वीडियो आये हैं वो ये बताते हैं कि पूरी तैयारी से प्रशासन ने लोगों की जान ली है, आनन फानन में याचिका दाखिल होना, तुरंत सर्वे का आदेश… pic.twitter.com/9dWO4YhbHx
— Imran Pratapgarhi (@ShayarImran) November 24, 2024
تین نوجوانوں کی موت سے شہر میں ایک بار پھر کشیدگی ہے۔ ایس پی ایم پی برک کے علاقے میں بھی پتھراؤ کا واقعہ پیش آیا۔ تشدد کے بعد اے ڈی جی رامیت شرما، آئی جی منیراج جی موقع پر پہنچ گئے ہیں۔پورے شہر میں غیر اعلانیہ کرفیو کا ماحول ہے۔ جامع مسجد کی طرف جانے والے تینوں راستوں پر بیریکیڈنگ کی گئی ہے۔
دراصل اتوار کی صبح 6.30 بجے ڈی ایم۔ایس پی کے ساتھ ایک ٹیم جامع مسجد کا سروے کرنے پہنچی تھی۔ ٹیم کو دیکھ کر مقامی لوگ غصے میں آگئے۔ تھوڑی ہی دیر میں دو تین ہزار سے زیادہ لوگ جامع مسجد کے باہر پہنچ گئے۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق ایک "ایڈوکیٹ کمشنر” کی طرف سے متنازعہ جگہ پر عدالت کے حکم پر جانچ کے ایک حصے کے طور پر دوسرا سروے صبح 7 بجے کے قریب شروع ہوا اور وہاں بھیڑ جمع ہونا شروع ہوئی
پولیس نے روکنے کی کوشش کی تو کچھ لوگوں نے پتھراؤ کیا۔ اسی طرح کا ایک سروے اس سے قبل 19 نومبر کو کیا گیا تھا، جس میں مقامی پولیس اور مسجد کی انتظامی کمیٹی کے ارکان اس عمل کی نگرانی کے لیے موجود تھے۔
جس کے بعد بھگدڑ جیسی صورتحال پیدا ہوگئی۔ اچانک پتھراؤ شروع ہوگیا ہنگامہ اس قدر بڑھ گیا کہ پولیس نے پہلے آنسو گیس کے گولے داغے اور پھر لاٹھی چارج کرکے بھیڑ کو منتشر کردیا۔
سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکمراں پارٹی، حکومت اور انتظامیہ نے "انتخابی بددیانتی سے توجہ ہٹانے کے لیے” تشدد کو منظم کیا۔