Zakir Hussain

معروف طبلہ ساز استاد ذاکر حسین 73 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

تازہ خبر فلمی قومی
معروف طبلہ ساز استاد ذاکر حسین 73 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
نئی دہلی: ۔16؍ڈسمبر
(زین نیوز ڈیسک)
موسیقی کی دنیا کے عظیم طبلہ ساز استاد ذاکر حسین اتوار 15 دسمبر کو سان فرانسسکو کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ 73 سالہ حسین Idiopathic Pulmonary Fibrosis نامی بیماری میں مبتلا تھے۔ اتوار کو اچانک طبیعت بگڑنے پر انہیں ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھ
ا تاہم علاج کے دوران انہوں نے آخری سانس لی۔ ان کی موت کی تصدیق ان کے اہل خانہ نے پیر 16 دسمبر کی صبح پی ٹی آئی کو کی تھی۔ذاکر حسین کو اتوار کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا،
ذاکر حسین کے قریبی دوست اور مشہور بانسری بجانے والے راکیش چورسیہ نے اتوار کو ہسپتال میں داخل ہونے کی اطلاع دی تھی۔ چورسیہ نے کہا کہ حسین کو بلڈ پریشر اور دل سے متعلق مسائل کی وجہ سے ہسپتال لے جایا گیا تھا۔ تاہم رات تک ان کے انتقال کی خبر کے حوالے سے کنفیوژن برقرار رہا۔
استاد ذاکر حسین پوری دنیا میں طبلہ بجانے کے لیے مشہور تھے۔ انہوں نے 7 سال کی عمر میں محافل موسیقی میں طبلہ بجانا شروع کیا۔ ان کے والد استاد اللہ رکھا خان بھی اپنے وقت کے مشہور طبلہ ساز تھے۔
حسین نے واشنگٹن یونیورسٹی سے موسیقی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور ہندوستانی موسیقی کو عالمی سطح پر نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔استاد ذاکر حسین نے 1991 میں ‘پلینیٹ ڈرم’ کے لیے گریمی ایوارڈ جیتا تھا۔
وہ اولمپک کی افتتاحی تقریبات سے لے کر وائٹ ہاؤس میں منعقد ہونے والے ‘آل سٹار گلوبل کنسرٹ’ تک کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کا حصہ رہے ہیں۔ انہیں حکومت ہند کی طرف سے 1988 میں پدم شری، 2002 میں پدم بھوشن اور 2023 میں پدم وبھوشن سے نوازا گیا۔
ذاکر حسین کوان کی گراں قدر خدمات کے لیے سنگیت ناٹک اکادمی ایوارڈ اور دیگر کئی قومی اور بین الاقوامی ایوارڈز سے نوازا گیا ۔ فلموں کے ساؤنڈ ٹریکس میں بھی ان کے تعاون کو بہت سراہا گیا۔ ان کی کمپوزیشن نے سرحدوں اور نسلوں کو پاٹ دیا اور ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کو عالمی سطح پر پہچان دلائی۔
کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے ان کے انتقال پر تعزیت کرتے ہوئے کہا، ہم نے ایک وراثت کھو دیا ہے جس نے پوری دنیا کو اپنے طبلے کی آواز سے جوڑا۔ ان کا موسیقی کا سفر ہمیشہ متاثر کن رہے گا۔