میت کو گھر میں لانے کی اجازت نہ دینے پرسوموٹو کیس
جگتیال :۔26؍ڈسمبر
(عمران زین)
شہر جگتیال میں ایک دن قبل ایک افسوسناک اور غیر انسانی واقعہ پیش آیا، جہاں ایک معمر خاتون جنہوں نے اپنی جائیداد قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کر دی تھی اپنی آخری گھڑیاں انتہائی بے کسی میں گزاریں۔ وفات کے چھ گھنٹے گزر جانے کے باوجود بھی، متوفیہ کے رشتہ داروں نے ان کی خبر نہ لی جس کی وجہ سے ان کی میت ایمبولینس میں ہی بے سہارا پڑی رہی۔
ان کے رشتہ داروں نے اپنے گھر میں تقریب ہونے کا بہانہ بنا کر ان کی میت کو لے جانے سے انکار کر دیا۔ حد تو یہ ہے کہ ان رشتہ داروں نے اپنے گھروں کو تالے لگا دیا اور متوفیہ کو ان کے عطا کردہ ذاتی مکان میں بھی رکھنے کی اجازت نہیں دی۔اس افسوسناک صورتحال کے باعث، ستمّا کی میت ان کی اپنی ملکیت ہونے کے باوجود ایمبولینس میں ہی رکھی گئی۔
جگتیال کے علاقہ تین کنی میں مقیم ایک معمر خاتون سادولا سَتَّوا جن کے شوہر لکشمن 20 سال قبل وفات پا چکے تھےکل طبعی موت کا شکار ہو گئیں۔ مرحومہ کے کوئی اولاد نہیں تھی اس لیے انہوں نے اپنی ساری جائیداد کو اپنے بھانجے، سادولا پرساد اور سادولا روی کے حوالے کیا تھا۔
تاہم بھانجوں نے خاتون کی زندگی کے آخری ایام میں ان کا خیال رکھنے کے بجائے انہیں نظر انداز کیا اور ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا۔ افسوسناک طور پر ان کی وفات کے بعد بھی ان دونوں نے ان کی میت کو اپنے گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔
نتیجتاًمتوفیہ کی نعش شام 6 بجے سے رات 11 بجے تک ایمبولینس میں سڑک پر ہی رکھی رہی۔اس واقعہ پر جگتیال پولیس نے از خود نوٹس لیتے ہوئے سادولا پرساد اور سادولا روی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ سب انسپکٹر منمدھا راؤ نے معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے