تعلیمی خود مختاری با ختیاری کی سمت پہلا قدم ہے

تازہ خبر تلنگانہ
تعلیمی خود مختاری با ختیاری کی سمت پہلا قدم ہے
مولانا آزادنیشنل اردو یونیورسٹی میں منعقدہ ایک روزہ کانفرنس سے مختارعباس نقوی کا خطاب
حیدرآباد:۔ 17فروری
 (پریس نوٹ)
ہندوستان، زمانہ قدیم سے علم کا گہوارہ رہا ہے۔تکشاشیلا، گروکل جیسے ادارے یہاں کے علمی وراثت کا حصہ ہیں۔ اس وجہ سے ملک میں تعلیمی طور پرکئی ایک نمایاں تبدیلیاں رونماں ہوئی ہیں۔ جن میں سرسید کی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تحریک وہ دیگر شامل ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سابق مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے کیا۔
 وہ آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبہ سماجیات اور شعبہ تعلیم نسواں کی جانب سے منعقدہ ایک روزہ قومی سمینارسے خطاب کر رہے تھے۔ اس سمینار کا مقصد مسلمانوں، دلتوں، آدیواسیوں اور صنفی گروہوں کی زندگیوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، جنوبی ہندوستانی معاشروں کی پیچیدہ سماجیات کو تلاش کرنا اورجنوبی ہند میں مسلم کمیونٹیز کو درپیش تاریخی وعصری چیلنجوں کا جائزہ لینا تھا ۔
 سابق مرکزی وزیر مختارعباس نقوی نے اپنے سلسلے خطاب میں کہا کہ موجودہ دورمصنوی ذہانت اور ڈیجیٹل ہے اس لئے تعلیم کواس سے ہم آہنگ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔لیکن انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ انسان کی اپنی جو اصلی ذہنتق ہے وہ اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی طورپر کسی فرد کو ترقی دینے کےلئے اُسے تعلیمی طورپر بااختیار بنانا چاہئے جس کی وجہ سے وہ خود بہ خود ہر لحاظ سے بااختیار ہوجائے گا۔
 مختار عباس نقوی نے کہا کہ ترقی پذیر ملکوں میں ہندوستان کی شرح خواندگی بہت بہتر ہے یہاں ایک تعلیمی انقلاب برپا ہو رہا ہے۔معروف سماجی سائنٹسٹ پروفیسر جی الوائییس نے کلیدی خطاب ہندوستان کے سماجی ڈھانچے کو سماجیاتی نقطہ نظرانتہائی خوبصورتی سے اجاگر کیا۔
 وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن نے صدارتی خطاب پیش کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کا خوبصورت تعلیمی ماحول کثرت میں وحدت کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے پوسٹ میٹرک اسکالر شپس، مولاناآزاد فلو شپ اور مولاناآزاد چیئر کے قیام میں جناب مختار عباس نقوی سے ہرممکن تعاون کی درخواست کی ۔
شعبہ سماجیات کے صدر وکنوینر سمینار ڈاکٹر کے ایم ضیاالدین نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا جبکہ تقریب میں یونیورسٹی کےرجسٹرار پروفیسر اشتیاق احمد ،ڈاکٹر سنیل جارج ، ڈائریکٹر سمبائیس نے مہمانان اعزازی طورپرشرکت کی۔ اس ایک روزہ کانفرنس کے کوآرڈینیٹرس ڈاکٹر شبانہ کیسر ، ڈاکٹر ہلال احمد وار تھے سمینار میں ڈین برائے سماجی علوم وفنون پروفیسرشاہدہ ، سمینار کنوینر پروفیسر آمینہ تحسین کے بشمول یونیورسٹی کے تدریسی ، غیر تدریسی عملے اسکالرز وطلباء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔