تلنگانہ : نابالغ مسلم بچی کو زدوکوب اور قتل افسوسناک
ریاستی حکومت اور انتظامیہ کا رویہ قابل مذمت
حیدرآباد:۔20؍فروری
(راست)
مولانا جنید قاسمی سکریٹری جمعیۃ علماء سنگاریڈی کی اطلاع کے مطابق جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھراپردیش کے جنرل حضرت مولانا مفتی محمود زبیر قاسمی نے آج مستقر اننت ارم جو ظہیرآباد سے دس بارہ کیلو میٹر کے فاصلے پر ہے وہاں کی متوفیہ عالیہ بیگم کے اہل خانہ سے ملاقات کی واضح رہے کہ گذشتہ چند دن قبل محمد اسماعیل سے ہوئے جھگڑے میں دو ریڈی بھائیوں نے ان پر حملہ کیا
اس درمیان میں بیچ بچاؤ کرنے والی ان کی بچی کو بے تحاشہ مارا جس کی وجہ سے اس کے سر٬ سینے اور پیروں میں بلڈ کلاٹنگ کی شکایت ہوئی اور خون کی تھپیاں جم جانے کی وجہ سے چار دن علاج کے بعد وہ ہاسپٹل میں جانبر نہ ہوسکی اور انتقال کر گئیں ـ
مفتی محمود زبیر قاسمی نے ایک وفد کے ہمراہ جس میں جمعیۃ علماء سنگاریڈی کے خازن عظیم پٹیل اور کوہیر کے ایم پی ٹی سی جناب عبدالحنان صاحب اور حافظ منیر صاحب ظہیرآباد اور دیگر حضرات علماء پر مشتمل وفد کے ساتھ متاثرہ کے گاؤں پہنچ کر ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور انہیں رقم کی شکل میں جمعیۃ علماء کی جانب سے تعاون بھی دیا گیا۔
اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مفتی محمود زبیر قاسمی نے مطالبہ کیا کہ اس جرم کے شریک ان دونوں ریڈیوں کو سخت سزا دی جاۓ٬ انہیں بیل نہ ملے اس بات کو انتظامیہ یقینی بناۓاور پوری قوت کے ساتھ عدالت کے سامنے اس مسئلہ کو رکھے تاکہ ان دونوں مجرمین کو عمر قید کی سزا دی جا سکے۔
انھوں نے کلکٹر اور متعلقہ منسٹر سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس خاندان کو فی الفور ۳۰ لاکھ روپے کا ایکس گریشیا دیا جائے٬ انہیں مکان فراہم کیا جائے اور فیملی میں موجود دو بھائی والدین میں سے کسی کو سرکاری ملازمت فراہم کی جائے۔
انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس علاقہ کے ایم ایل اے ریاستی حکومت میں وزیر کی حیثیت رکھتے ہیں جناب دامودر راج نرسمہا صاحب نے ابھی تک متاثرہ خاندان سے ملاقات نہیں کی،جو افسوس ناک بات ہے ایک صنف نازک پر ظلم ہوتا ہے تو اس کے اہل خانہ کے غم میں شریک ہونے کے بجائےتین چار دن گذر جانے کے باوجود آج تک بھی متعلقہ علاقہ کے ایم ایل اے اور موجودہ منسٹر نہیں پہنچے اور نہ ان کی تعزیت کی۔
انھوں نے کہا کہ خواتین پر خاص طور پر معصوم نابالغ بچیوں پر زیادتی کا یہ دوسرا واقعہ ہے٬ اس سے قبل ایک واقعہ کاماریڈی میں پیش آیا اس وقت جمعیۃ علماء نے پرزور مطالبہ کیا تھا کہ جو مجرم ہیں انہیں سخت سزا دی جائے لیکن الٹا اس واقعہ کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر کیسس بک کئے گئے۔اس وقت ۸۰ نوجوان جس میں بڑی تعداد مسلمانوں کی ہے ان کو کیسس بک کرکے کورٹ کچہری کے حوالے کر دیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ اس وقت کی بے توجہی کا نتیجہ ہے پھر مجرموں کے حوصلے بلند ہوئے اور دوسرے علاقہ میں ایک معصوم بچی کے ساتھ مارپیٹ اور قتل کا واقعہ پیش آیا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت خاص طور پر مسلم نابالغ بچیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے٬ حکومت کو چاہیے کہ وہ فی الفور جائزہ لیتے ہوئے ریاست کی معصوم بچیوں کیلئے تحفظ کی راہ ہموار کرے۔
انھوں نے کہا کہ اس خصوص میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر محترم حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب دامت برکاتہم کو مکمل رپورٹ روانہ کی جائے گی۔ ریاستی صدر محترم حضرت مولانا مفتی محمد غیاث الدین رحمانی قاسمی صاحب دامت برکاتہم اس خصوص میں فکر مند اور کوشاں ہیں۔
اس موقع پر انھوں نے کانگریس کے مسلم قائدین اور سیکولر قائدین سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس دکھ زدہ اور غم زدہ فیملی کی مدد کے لئے آگے آئیں اور اپنے حصے کا کام کرنے کی فی الفور فکر فرمائیں