وقارآباد میں بارش کے دوران اچانک زلزلے کے جھٹکے ۔ عوام میں خوف و ہراس
وقارآباد:۔ 14 اگست
(نمائندہ زین نیوز)
وقارآباد ضلع میں آج علی الصبح اچانک زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس سے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اطلاعات کے مطابق پَرَگی منڈل کے باسی ریڈّی پلی، رنگاپور اور نیامتن نگر سمیت کئی دیہات میں جمعرات کی صبح تقریباً 4 بجے کے قریب زمین تقریباً تین سیکنڈ تک لرزتی رہی۔
مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ اس وقت علاقے میں موسلادھار بارش ہو رہی تھی، اسی دوران زمین کے لرزنے سے لوگ گھبرا کر اپنے گھروں سے باہر نکل آئے۔ بعض مقامی افراد نے بتایا کہ جھٹکے ہلکے مگر واضح تھے، اور محسوس ہونے کے بعد کئی لمحے تک لوگ کھلے مقامات پر کھڑے رہے
مختلف علاقوں میں 3.1 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جو چند سیکنڈ تک جاری رہے۔ خوش قسمتی سے کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ یہ جھٹکے ایسے وقت میں محسوس کیے گئے جب ضلع کے کئی منڈل شدید بارش کی لپیٹ میں ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق، صبح تقریباً 3:45 بجے بشیریڈی پلی، رنگا پور، نیامت نگر، پریگی اور قریبی علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق، جھٹکے ضلع کے جنوب مشرقی حصے میں زیادہ نمایاں تھے، تاہم سرکاری تصدیق تاحال نہیں ہوئی۔
دوسری جانب مسلسل موسلادھار بارش سے کپاس کے کھیت پانی میں ڈوب گئے، متعدد ٹینک ٹوٹ گئے اور کئی دیہات میں ٹریفک متاثر ہوئی۔ نشیبی علاقوں کے مکینوں کو حکام نے الرٹ جاری کرتے ہوئے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی ہے۔دھرور منڈل کے راجا پور میں کپاس کے کھیت زیرِ آب آنے پر کسان روتے اور پریشانی کا اظہار کرتے دیکھے گئے۔
مومن کلاں میں بھی بارش کے پانی نے کپاس کی کاشت کو شدید نقصان پہنچایا۔ گروداتلا گاؤں میں ایک ٹینک میں شگاف پڑنے سے پانی نیچے کی سمت تیزی سے بہنے لگا۔کوسگی۔دولت آباد روڈ پر عارضی پل بہہ جانے کے باعث ٹریفک کی آمد و رفت منقطع ہوگئی۔ پولیس نے رودررام اور کوٹی پلی کے درمیان ٹریفک معطل کر دی ہے۔
کوٹی پلی پراجیکٹ مکمل گنجائش کے ساتھ پانی سے بھر چکا ہے۔نواب پیٹ میں دریائے موسیٰ کے بہاؤ میں اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ بارش کا پانی زرعی زمینوں کو ڈھانپے ہوئے ہے۔ حکام نے ندی کے کنارے رہائش پذیر نشیبی علاقوں کے باشندوں کو احتیاط برتنے اور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا ہے
