Poster Row

یومِ آزادی پر مرکزی وزارتِ پیٹرولیم کا متنازعہ پوسٹر

تازہ خبر قومی
یومِ آزادی پر مرکزی وزارتِ پیٹرولیم کا متنازعہ پوسٹر
 ملک آپ سے سستا تیل مانگ رہا ہے، سستی کامیڈی نہیں
ساورکر کو نمایاں اور نہرو، پٹیل، آزاد کو غائب کرنے پر اپوزیشن کا شدید ردعمل
نئی دہلی:۔ 15 اگست
 (انٹر نیٹ ڈیسک)
 یوم آزادی کے موقع پر مرکزی وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس کی جانب سے جاری کردہ ایک پوسٹر نے سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔ وزارت نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جو تصویر شیئر کی اس میں وینائک دامودر ساورکر کو سب سے اوپر نمایاں طور پر دکھایا گیا ہے، جبکہ مہاتما گاندھی کو اس کے نیچے اور بھگت سنگھ و سُبھاش چندر بوس کو مزید نیچے رکھا گیا۔
 اس پوسٹر میں ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور مولانا ابوالکلام آزاد جیسے رہنماؤں کو شامل نہیں کیا گیا، جس پر اپوزیشن جماعتوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔کانگریس نے اس اقدام کو تاریخ کے ساتھ کھلواڑ قرار دیا ہے۔ پارٹی کے تنظیمی جنرل سیکریٹری کے سی وینوگوپال نے کہا کہ حکومت نے آزادی کی تحریک کے بانی رہنماؤں کو یکسر نظرانداز کر کے ایک خاص شخصیت کو غیر معمولی طور پر نمایاں کیا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ یہ عمل تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی سوچی سمجھی کوشش ہے۔ کانگریس کے میڈیا ڈپارٹمنٹ کے انچارج پروان کھیڑا نے طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پٹرول میں ایتھانول کی ملاوٹ کرتے کرتے اب آپ آزادی کے سپاہیوں میں بھی ملاوٹ کرنے لگے ہیں۔ جو تاریخ میں بڑے نہیں بن سکے، انہیں پوسٹر میں بڑا بنا رہے ہو۔
 ملک آپ سے سستا تیل مانگ رہا ہے، سستی کامیڈی نہیں۔پوسٹر کے ساتھ وزارت نے اپنے پیغام میں کہا کہ آزادی تبھی پروان چڑھتی ہے جب اسے ہر دن اتحاد، ہمدردی اور عمل کے ذریعے زندہ رکھا جائے۔ تاہم اس وضاحت کے باوجود اپوزیشن کا الزام ہے کہ حکومت جان بوجھ کر تاریخ کے توازن کو بگاڑ کر اپنے سیاسی نظریے کو فروغ دے رہی ہے۔
اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک پوسٹر نہیں بلکہ ایک ایسا اشارہ ہے جس کے ذریعے ملک کے عوام کے ذہنوں میں تاریخ کی نئی تعبیر بٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے