Uma Bharti

 مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھورام گوڈسے کا جرم دہشت گردی سے بھی بدتر

تازہ خبر قومی
 مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھورام گوڈسے کا جرم دہشت گردی سے بھی بدتر
بی جے پی کی سینئر رہنمااوما بھار تی  
نئی دہلی، 16 اگست
( انٹر نیٹ ڈیسک)
 بی جے پی کی سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر اوما بھارتی نے ایک حالیہ انٹرویو میں مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھورام گوڈسے کے اقدام کو ’’گھناؤنا جرم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے محض ’’دہشت گردی‘‘ کا نام دینا اس گناہ کی سنگینی کم کرنے کے مترادف ہے۔
ٹی وی9 پر نشر ہونے والی گفتگو میں ان سے سوال کیا گیا کہ اوما بھارتی سے پوچھا گیا کہ ہندو کبھی دہشت گرد نہیں ہو سکتا۔ دوسری طرف یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ملک کا پہلا دہشت گرد ناتھورام گوڈسے تھاجب بعض حلقے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ’’ہندو کبھی دہشت گرد نہیں ہو سکتا‘‘ تو پھر ناتھورام گوڈسے کو ملک کا پہلا دہشت گرد کیوں کہا جاتا ہے؟
اس پر اوما بھارتی نے کہا کہ وہ اس بحث میں لفظی درجہ بندی نہیں کرنا چاہتیں البتہ اتنا ضرور کہیں گی کہ گوڈسے کا جرم دہشت گردی سے بھی بڑھ کر ہے۔ان کے قاتل ناتھورام گوڈسے کو "دہشت گرد” اور اس کے فعل کو "گھناؤنا جرم” قرار دیا جو دہشت گردی سے بھی بدتر تھا۔

اوما بھارتی کا کہنا تھا کہ گاندھی ایک ایسے آزاد اور خود انحصار ہندوستان کا خواب دیکھ رہے تھے جو غیر ملکی قرضوں پر انحصار نہ کرے اور اپنی روحانی و اخلاقی قدروں پر قائم ہو۔ ان کے مطابق جس شخص نے اس خواب کو قتل کیااس کے گناہ کو صرف ‘دہشت گردی’ کہہ کر بیان نہیں کیا جا سکتا۔
 انہوں نے مزید کہا کہ محض اسے دہشت گرد کہنا گوڈسے کے فعل کی شدت اور اس کے تاریخی اثرات کو ہلکا کر دیتا ہے۔ بی جے پی رہنما نے واضح کیا کہ ان کا مؤقف اصولی اور اخلاقی بنیادوں پر ہے۔ہمیں الفاظ کے خانوں میں پھنسنے کے بجائے اس فعل کی قباحت کو سمجھنا ہوگا۔
اومابھارتی جو اپنے واضح اور اکثر شعلہ بیان تبصروں کے لیے جانی جاتی ہےنے کہا کہ گوڈسے کے جرم کو صرف لفظ "دہشت گردی” سے مناسب طریقے سے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اس نے زور دے کر کہا کہ اس نے ایک ایسے شخص کو مار ڈالا جو ایک آزاد ہندوستان کا خواب دیکھنے والا تھا
 انہوں نے کہا کہ گاندھی آزادیٔ ہند کی تحریک کے قائد تھے اور ایک باوقار، خوددار اور جامع ہندوستان کی تعمیر کا خواب رکھتے تھے، اس لیے ان کی جان لینے کا جرم کسی ایک اصطلاح میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب اوما بھارتی نے گوڈسے پر تبصرہ کیا ہو اس سے قبل 2016 میں بھی ناتھورام گوڈسے کی شدید مذمت کر چکی ہیں۔ اُس وقت انہوں نے گوڈسے کو ’’سرپھیرا‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ گاندھی کی جان تو لے سکا لیکن ان کے نظریات کو ختم نہیں کر سکا۔
ان کے حالیہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب تاریخی شخصیات اور ان کے اقدامات کے بارے میں نئی بحث اور عوامی بحث چھڑ رہی ہے۔اوما بھارتی کے تبصرے دائیں بازو کے ماحولیاتی نظام کے اندر موجود کچھ دیگر شخصیات کے برعکس ہیں جو گوڈسے کی زیادہ نرمی یا تعریف کرنے والے بھی ہیں۔
 سیاسی مبصرین نے ان کے اقدامات کی واضح اور غیر واضح مذمت کی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اومابھارتی نے ایک بار پھر یہ پیغام دیا ہے کہ گاندھی کے وژن اور عدم تشدد کے فلسفے پر حملہ کسی سیاسی تعبیروتأویل سے ماورا اخلاقی مسئلہ ہے۔
پس منظر30 جنوری 1948 کو نئی دہلی میں ناتھورام گوڈسے نے مہاتما گاندھی کو گولی مار کر قتل کیا تھا۔ بعد ازاں اسے عدالت نے مجرم قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی۔ یہ سانحہ آج 77 برس بعد بھی مباحث اور سوالات کا محور بنا ہوا ہے، اور حالیہ برسوں میں تاریخی شخصیات کے کردار و افکار پر جاری عوامی گفتگو نے اس بحث کو مزید تازگی دے دی ہے۔
اوما بھارتی نے واضح کیا کہ وہ کبھی سیاست سے ریٹائر نہیں ہوئیں اور آخری سانس تک فعال رہیں گی۔ کانگریس نے بیان کی حمایت کی لیکن بی جے پی پر تنقید بھی کی۔ مزید تفصیلات کے لیے ٹی وی 9 بھارت ورش کے یوٹیوب چینل یا ویب سائٹ www.tv9hindi.com پر انٹرویو دیکھا جا سکتا ہے۔