گرفتاری یا نظربندی؟ سنگین الزامات پر گرفتاری کی صورت میں وزراء کی برطرفی کا قانون پیش
لوک سبھا میں ہنگامہ: بلس پر اپوزیشن کا شدید احتجاج
قوانین عوامی اعتماد اور گڈ گورننس کے تقاضوں کے لیے ضروری۔امت شاہ
نئی دہلی :۔20؍اگست
(زیڈ این میڈیا سرویس)
وزیر داخلہ امت شاہ نے بدھ کے روز لوک سبھا میں تین اہم بل پیش کیے جن کے تحت وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ یا کسی وزیر کو اگر کسی ایسے جرم میں گرفتار یا کم از کم 30 دن کے لیے حراست میں لیا جائے جس کی سزا پانچ سال یا اس سے زیادہ ہو، تو اسے لازمی طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا ہوگا۔یہ بل بالترتیب مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومت (ترمیمی) بل 2025 130ویں آئینی ترمیمی بل 2025″ اور جموں و کشمیر تنظیم نو (ترمیمی) بل 2025″ ہیں۔
ان کے ذریعے آئین اور قوانین میں وہ خامیاں دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جن کی وجہ سے بعض وزراء سنگین الزامات اور گرفتاری کے باوجود عہدوں پر برقرار رہتے ہیں۔بلوں کی پیشی کے ساتھ ہی ایوان میں زبردست ہنگامہ شروع ہو گیا۔جب امیت شاہ نے لوک سبھا میں تین بل پیش کیے تو اپوزیشن نے ان کی کاپیاں پھاڑ دیں اور کاغذات وزیر داخلہ پر پھینکے۔ اپوزیشن کے بعض ارکان پارلیمنٹ نے کاغذ کے گولے بھی بنا کر ان پر پھینکے۔
اس کے بعد بل جے پی سی کو بھیج دیا گیاان بلوں میں ایک شق ہے- اگر وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ یا کسی وزیر کو کسی ایسے جرم میں گرفتار یا 30 دن کے لیے حراست میں لیا جاتا ہے جس کی سزا پانچ سال تک کی ہو، تو اسے عہدے سے ہٹا دیا جائے گا۔کانگریس، سماج وادی پارٹی، ترنمول کانگریس اور ایم آئی ایم کے ارکان نے بل کی کاپیاں پھاڑ کر پھینک دیں اور اسے "آئین کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ” قرار دیا۔
اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے کہا کہ بی جے پی اس قانون کے پردے میں سیاسی انتقام کے دروازے کھول رہی ہے۔ اگر کسی وزیر کو محض جھوٹے مقدمے میں پھنسا کر گرفتار کر لیا جائے تو کیا وہ استعفیٰ دینے پر مجبور ہوگا؟یہ عوام کے مینڈیٹ کی توہین ہے۔”آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا کہ یہ بل وفاقی ڈھانچے کو کمزور کرتا ہے۔ اگر کسی ریاست کے وزیر اعلیٰ کو سیاسی دباؤ ڈالنے کے لیے گرفتار کر لیا جائے تو عوامی نمائندگی ختم ہو جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی اپنی ایجنسیوں کو ہتھیار بنا کر جمہوریت کو کمزور کر رہی ہے۔سماج وادی پارٹی کے رہنما اکھلیش یادو نے ان بلوں کو انصاف مخالف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عوامی نمائندوں کی خودمختاری پر براہ راست حملہ ہے۔ اگر گرفتاری ہی استعفے کی بنیاد ہوگی تو پھر ہر سیاسی مخالف کو گرفتار کرا کے اقتدار پر قابض رہا جا سکتا ہے۔دوسری جانب وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان بلوں کا مقصد کسی کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ جمہوری اقدار کو مضبوط کرنا ہے۔
کیا یہ درست ہے کہ کوئی وزیر قتل، بدعنوانی یا منی لانڈرنگ کے سنگین مقدمات میں گرفتار ہو اور پھر بھی برسراقتدار رہے؟ یہ عوام کے اعتماد کے ساتھ مذاق ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قوانین عوامی اعتماد اور گڈ گورننس کے تقاضوں کے لیے ضروری ہیں۔مرکزی حکومت کا مؤقف ہے کہ فی الحال آئین میں ایسا کوئی انتظام نہیں ہے جس کے تحت گرفتاری یا حراست میں لیے گئے وزیر کو عہدے سے ہٹایا جا سکے۔
دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور تمل ناڈو کے وزیر وی سینتھل بالاجی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت نے کہا کہ ایسے معاملات میں آئینی خلا کو پُر کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔اسی دوران حکومت نے آن لائن گیمنگ پر پابندی کا بل بھی پیش کیا۔ اس بل کے مطابق کوئی بھی شخص جو آن لائن منی گیمنگ میں ملوث ہوگا، اشتہار بازی کرے گا یا دوسروں کو کھیلنے پر اکسانے کی کوشش کرے گا،
اسے تین سال تک قید یا ایک کروڑ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔اپوزیشن نے اس بل کو بھی نوجوانوں کی آزادی پر قدغن قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت "میک ان انڈیا” کے نعرے کے باوجود اسٹارٹ اپ کلچر کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق یہ تین بل ہندوستانی سیاست میں ایک نیا باب کھولنے جا رہے ہیں۔
ایک طرف حکومت اسے جمہوریت کے وقار کے لیے ضروری قدم قرار دے رہی ہے تو دوسری طرف اپوزیشن اسے "جمہوری ڈھانچے پر حملہ” کہہ رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ نہ صرف ایوان میں بلکہ عدالتوں اور عوامی سطح پر بھی بڑے سیاسی مباحثے کو جنم دے سکتا ہے