Nora Fatehi

شوہر کا انوکھا فرمان: 3 گھنٹے جم کرو، نورا فتحی جیسی بنو

تازہ خبر وائرل خبریں
شوہر کا انوکھا فرمان: 3 گھنٹے جم کرو، نورا فتحی جیسی بنو
بیوی نے پولیس اسٹیشن کا رخ کر لیا!
غازی آباد :۔21؍اگست
(انٹر نیٹ ڈیسک)
غازی آباد سے ایک چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ایک شادی شدہ خاتون کا کہنا ہے کہ اس کے شوہر نے اسے روزانہ تین گھنٹے جم میں پسینہ بہانے پر مجبور کیا۔ وجہ؟ شوہر چاہتا تھا کہ اس کی بیوی کا فگر بالی ووڈ ڈانسر نورا فتحی جیسا ہو۔ خاتون کی شکایت سن کر پولیس افسران بھی دنگ رہ گئے۔ اس نے روتے ہوئے بتایا کہ اسے نہ صرف طعنہ دیا گیا بلکہ جب وہ حاملہ ہوئی تو اسے زبردستی دوا دی گئی اور اسقاط حمل کرایا گیا۔
معلومات کے مطابق مراد نگر کی رہنے والی لڑکی کی شادی اس سال مارچ میں میرٹھ کے ایک فزیکل ایجوکیشن ٹیچر سے ہوئی تھی۔ خاتون کا کہنا ہے کہ اس کے والد نے شادی میں مہندرا اسکارپیو، لاکھوں مالیت کے زیورات اور نقدی تحفے میں دی تھی۔ شادی پر مجموعی طور پر 75 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ لیکن اس کے باوجود اسے جہیز کے حوالے سے توہین اور ہراسانی کا سامنا کرنا شروع ہو گیا۔
خاتون نے الزام لگایا کہ شادی کی پہلی ہی رات شوہر نے اس کے ساتھ وقت گزارنے سے گریز کرتے ہوئے اپنے والدین کے کمرے میں رات گزاری۔ تب سے اس کا رویہ سرد اور طنزیہ رہا ہے۔ بیوی کے مطابق شوہر نے بار بار اس کی شکل اور قد کے بارے میں طعنہ زنی کی اور کہا کہ اس سے شادی کر کے اس کی زندگی برباد کر دی ہے۔ اس نے یہاں تک دعویٰ کیا کہ وہ آسانی سے "نورا فتحی جیسی لڑکی” تلاش کر سکتے تھے۔
متاثرہ نے پولیس کو بتایا کہ شوہر نے اسے جم جانے پر مجبور کرنا شروع کر دیا۔ وہ کہتا، نورا جیسی شخصیت حاصل کرنے کے لیے آپ کو روزانہ تین گھنٹے ورزش کرنی ہوگی۔خاتون کا کہنا تھا کہ اگر وہ کبھی کم کام کرتی ہے تو اسے سزا کے طور پر کھانا بھی نہیں دیا جاتا۔ ایک دن جب اس نے اپنے شوہر کو دوسری عورت کے ساتھ گپ شپ کرتے ہوئے دیکھا اور اعتراض کیا تو اسے مارا پیٹا بھی گیا۔
خاتون کا دعویٰ ہے کہ اس نے اپنی ساس کو بتایا کہ وہ حاملہ ہے، لیکن اس کے سسرال والے خوش نہیں تھے۔ اس کے بعد اس کے شوہر نے اسے دوائی دی۔ آن لائن معلومات حاصل کرنے کے بعد خاتون کو معلوم ہوا کہ یہ اسقاط حمل کی گولی تھی۔ حالت خراب ہونے پر اس کے والدین اسے ہسپتال لے گئے۔ وہاں ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ اس کا اسقاط حمل ہوا ہے۔
جولائی کے آخری ہفتے میں جب خاتون اپنے گھر والوں کے ساتھ سسرال پہنچی تو اسے گھر میں داخل ہونے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ سمجھوتے کی کوششیں بھی ناکام ہو گئیں۔ بے بسی کے عالم میں خاتون نے اپنے شوہر اور سسرال والوں کے خلاف ویمن تھانے میں جہیز کے لیے ہراساں کرنے، جسمانی تشدد اور جبری اسقاط حمل کا مقدمہ درج کرایا۔