Kavith with KCR

سیاست میں کوئی جگہ خالی نہیں چھوڑتا، جدوجہد کرنی پڑتی ہے

تازہ خبر تلنگانہ
سیاست میں کوئی جگہ خالی نہیں چھوڑتا، جدوجہد کرنی پڑتی ہے
کانگریس میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں۔سابق ایم ایل سی کلواکنٹلہ کویتا 
حیدرآباد، 20 ستمبر
 (ایجنسیز)
تلنگانہ جاگرتی کی صدر و سابق ایم ایل سی کلواکنٹلہ کویتا نے واضح کیا ہے کہ ان کا کانگریس میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ حیدرآباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "کانگریس کے کسی بڑے لیڈر نے مجھ سے رابطہ نہیں کیا۔ معلوم نہیں وزیراعلیٰ کیوں اس طرح کے بیانات دے رہے ہیں شاید خوفزدہ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ کالیشورم پراجیکٹ کے معاملے کے علاوہ مجھے ہریش راؤ سے کوئی اختلاف نہیں۔ 2016 میں ہی میں نے کے ٹی راما راؤ کو آبپاشی کے معاملات پر توجہ دلائی تھی اور بتایا تھا کہ فائلیں براہِ راست وزیراعلیٰ کے پاس جا رہی ہیں، بغیر زیریں سطحی کمیٹی کے جائزے اور منظوری کے۔ جسٹس پی سی گھوش کمیشن کی رپورٹ سب کچھ واضح کر دیتی ہے۔
کے۔کویتانے مزید کہا کہ نئی سیاسی جماعت بنانے پر انہوں نے ابھی تک کوئی غور نہیں کیا ہے۔ ان کے مطابق، سیاست میں کوئی جگہ خالی نہیں چھوڑتا، جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ بی آر ایس پارٹی، ہریش راؤ اور سنتوش راؤ سوشل میڈیا پر ان کے خلاف مہم چلا رہے ہیں، لیکن عوام سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔
 انہوں نے بی سی ریزرویشنز پر فیصلہ نہ لینے کی صورت میں احتجاج شروع کرنے کا اعلان بھی کیا۔آلمٹّی ڈیم کی اونچائی میں اضافہ کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کلواکنٹلہ کویتا نے کہاکہ اگرچہ سپریم کورٹ نے اسٹے دیا ہے، لیکن کرناٹک حکومت آلمٹّی کی اونچائی بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تلنگانہ حکومت کو فوری طور پر سپریم کورٹ جانا چاہیے۔ اگر حکومت نہیں جاتی تو جاگرتی تنظیم کی طرف سے ہم عدالتِ عظمیٰ سے رجوع کریں گے۔
مہاراشٹر پہلے ہی اس معاملے پر عدالت جانے کا اعلان کر چکا ہے۔ اگر آلمٹّی ڈیم کی اونچائی بڑھائی گئی تو کرشنا ندی میں صرف کرکٹ کھیلنے کی جگہ باقی رہ جائے گی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں آر ڈی ایس، تمّلا اور پالمورو۔رنگا ریڈی پراجیکٹس مکمل نہیں کیے جا سکے۔
 وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کو بھی کرشنا ٹریبونل کی سماعت میں شرکت کرنی چاہیے۔کویتاے مزید کہا کہ وہ ایم ایل سی کے عہدے سے پہلے ہی استعفیٰ دے چکی ہیں اور اس کی منظوری کے لیے کونسل چیئرمین سے درخواست کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں جتنی زیادہ جماعتیں ہوں گی اتنا ہی بہتر ہے، نئی سیاسی جماعتوں کو خوش آمدید کہا جانا چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ وہ اتوار کو چنتامڈکا میں ہونے والے بتکمہ تہوار میں شریک ہوں گی۔