کینیڈا نے لارنس بشنوئی گینگ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا
اثاثے ضبط اور بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے جائیں گے۔
نئی دہلی: 29 ستمبر
(انٹرنیٹ ڈیسک)
کینیڈا نے ہندوستان میں سرگرم لارنس بشنوئی گینگ کو کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت گینگ کے اثاثے ضبط کیے جائیں گے اور بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے جائیں گے۔کینیڈا کے عوامی تحفظ کے وزیر گیری آنند سنگاری نے کہا کہ تشدد اور دہشت گردی کے لیے کینیڈا میں کوئی جگہ نہیں ہے، خاص طور پر وہ گروہ جو کسی مخصوص کمیونٹی کو ڈرانے کی کوشش کرتا ہے۔
نتیجتاً، لارنس بشنوئی گینگ کو کو کینیڈا کے فوجداری قوانین کے تحت دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے۔اس فیصلے کے اثرات میں شامل ہیں کہ گینگ کے کینیڈا میں موجود اثاثے، گاڑیاں اور رقم ضبط یا منجمد کی جا سکتی ہیں، کینیڈین ایجنسیوں کو گینگ کے مالی، سفری اور بھرتی کے جرائم کے خلاف کارروائی کا اختیار حاصل ہو گا، اور جو کوئی براہ راست یا بلاواسطہ گینگ کو جائیداد فراہم کرے گا اسے بھی جرم شمار کیا جائے گا۔
گینگ سے تعلق رکھنے والے افراد کو کینیڈا میں داخل ہونے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور اہلکار امیگریشن اینڈ ریفیوجی پروٹیکشن ایکٹ کے تحت فیصلے کرتے وقت اس فیصلے کو مدنظر رکھیں گے۔کینیڈا کی حکومت کے مطابق لارنس گینگ ایک بین الاقوامی مجرمانہ تنظیم ہے جو بنیادی طور پر ہندوستان میں سرگرم ہے اور کینیڈا میں بھی اس کی موجودگی ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں بڑی جنوبی ایشیائی کمیونٹی آباد ہے۔
یہ گروہ قتل، فائرنگ، آگ لگانے، دھمکیوں اور بھتہ خوری کے ذریعے دہشت گردی پھیلاتا ہے، جس سے کمیونٹیز میں خوف و ہراس پیدا ہوتا ہے اور اہم معاشرتی، کاروباری اور ثقافتی شخصیات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔لارنس گینگ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کی تجویز 11 اگست کو سامنے آئی، جب کنزرویٹو پارٹی آف کینیڈا کے پبلک سیفٹی شیڈو منسٹر فرینک کیپوٹو نے وزیر پبلک سیفٹی گیری آنند سنگاری کو خط لکھ کر یہ مطالبہ کیا کہ گینگ کی سرگرمیاں اسے دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے لیے کافی ہیں۔

خط میں بتایا گیا کہ لارنس بشنوئی گینگ کو کینیڈا اور بیرون ملک پرتشدد واقعات کی ذمہ داری قبول کی، سیاسی فائرنگ کی، جنوبی ایشیائی کینیڈین شہریوں سے بھتہ وصول کیا، اور سنگین تشدد کی کارروائیاں کیں۔کیپوٹو نے کہا کہ گینگ کی کارروائیاں صرف مجرمانہ سرگرمیوں تک محدود نہیں بلکہ سیاسی، مذہبی اور نظریاتی وجوہات کی بنا پر تشدد میں بھی شامل ہیں، اور یہ کمیونٹیز کو ڈرانے کے لیے ان کارروائیوں کا جواز پیش کرتے ہیں۔
اس خط کے بعد برٹش کولمبیا کے پریمیئر ڈیوڈ ایبی، البرٹا کے پریمیئر ڈینیئل اسمتھ، برامپٹن کے میئر پیٹرک براؤن، اور سرے کی میئر برینڈا لاک سمیت کئی رہنماؤں نے اس مطالبے کی حمایت کی، جس کے نتیجے میں کینیڈین حکومت نے لارنس گینگ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔