سات اقلیتی اقامتی اسکولوں کی عمارتو ں کی تعمیر‘ رکن اسمبلی بیگالہ گنیش گپتا کی کامیا ب مساعی
نظام آباد:13مارچ
(زین نیوز ڈاٹ نیٹ )
اقلیتی طلباءو طالبات کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کی غرض سے شہر نظام آباد میں ایجوکیشن ہب کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے یہہ رکن اسمبلی نظام آباد اربن بیگالہ گنیش گپتا نے میڈیا کے نمائندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہی ۔
انھوں نے کہاکہ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راو¿ کی جانب سے ریاست میں اقلیتی اقامتی اسکولس کے قیام کو
ملک کی سطح پر ایک تاریخی کارنامہ ہے جو صرف مسلم طبقہ میں تعلیمی پسماندگی کو دو ر کرنے کے لئے اٹھایا گیا اقدام ہے
انھوں نے کہاکہ شہر نظام آباد کے اقلیتوں کے ترقی کے لئے کئی ایک اقدامات کررہے ہیں شہر نظام آباد کے لئے گرلز اور بوائز کے لئے سات اقلیتی اقامتی اسکولس کی منظوری عمل میں آئی ہے جو فی الحال عارضی عمارتوں میں چلائے جارہے ہیں اسکولوں کے ذاتی عمارتوں کی تعمیر کے لئےکروڑ جملہ1.26 کروڑ کی منظوری عمل میں آئی ہے 18کروڑ کی لاگت سے اسکولوں کی ذاتی عمارتیں تعمیر کی جائینگی۔
فی الوقت شہر نظام آباد میں دو اسکولوں کے عمارتوں کی تعمیر ی کام جاری ہیں ایک اسکول کی عمارت باون پہاڑی علاقہ
میں زیر تعمیر ہے جبکہ دوسری عمارت دھرم پوری ہلز میں تکمیل کے قریب ہے مزید چار اسکولوں کے اراضی کی ضرورت ہے ‘
آر ڈی او‘ ایم آر او‘ رییونیو ڈپارٹمنٹ‘ اور محکمہ اقلیتی بہبود کے ہمراہ اراضی کی نشاندہی کرتے ہوئے معائنہ کیا گیا ہے ان پانچ اسکولوںکی تعمیر سے دھرم پوری ہلز میں مینارئٹی ایجوکیشن ہب بنایا جائے گا۔جس میں تقریبا تین ہزار طلباءو طالبات تعلیم حاصل کرسکیں گے۔
انھوںنے کہاکہ اسکول میں طلباءو طالبات کو تمام بنیادی سہولیات مہیا کی جائینگی طلبہ کے لئے قیام وطعام کے ساتھ ساتھ بہتر اور کارپوریٹ طرز کی تعلیم کا انتظام رہے گا۔ طلباء کے لئے اس میں شامل تمام سہولتیں مفت ہیں
