Delemetation Bill

شکست خواتین ریزرویشن بل کی نہیں بلکہ پچھلے دروازے سے لائی گئی ڈیلیمٹیشن بل کی

تازہ خبر مضامین
شکست خواتین ریزرویشن بل کی نہیں بلکہ پچھلے دروازے سے لائی گئی ڈیلیمٹیشن بل کی
وعدہ ناری شکتی کا، مگر شرط ڈیلیمٹیشن — قانون، سیاست، ووٹنگ، آبادی اور وفاقی توازن کی مکمل کہانی
 عمران زین،
ایڈیٹر نیوز
عمران زین
پارلیمنٹ نے حکومت کی اس تجویز کو مسترد کر دیا جس میں لوک سبھا کی نشستوں کو 543 سے بڑھا کر 850 کرنے، خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن نافذ کرنے، اور نئی حد بندی (ڈیلیمٹیشن) کرنے کا منصوبہ شامل تھا۔ اس شکست نے نہ صرف ایک بل کو روکا بلکہ ایک بڑی آئینی و سیاسی بحث کو مزید گہرا کر دیا۔ جو معاملہ کبھی ایک تکنیکی عمل سمجھا جاتا تھا، وہ آج ہندوستانی سیاست کا سب سے حساس اور متنازع موضوع بن چکا ہے۔
جب کہ مرکز اسے نمائندگی کو جدید بنانے کی ایک دیرینہ اصلاح کے طور پر پیش کرتا ہے، اپوزیشن جماعتوں اور کئی ریاستوں نے اس پر شدید اعتراضات اٹھائے ہیں۔ اب یہ بحث محض حلقہ بندی تک محدود نہیں رہی بلکہ وفاقی توازن، سیاسی طاقت اور علاقائی انصاف کے بنیادی سوالات کو چھیڑ رہی ہے۔2023 میں جب پارلیمنٹ نے بھاری اکثریت سے خواتین کے لیے 33 فیصد نشستوں کے تحفظ کا بل منظور کیا تو اسے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا گیا۔
ایوان میں اتفاقِ رائے کا ماحول، میزوں کی تھاپ، اور حکومت کی جانب سے “ناری شکتی” کا نعرہ — یہ سب امید کی ایک نئی کرن بن کر سامنے آیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اسے “ناری شکتی وندن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کی شمولیت سے ملک کی ترقی کی رفتار اور سمت دونوں بدل جائیں گی۔مگر حقیقت یہ ہے کہ اس قانون کے نفاذ کو مردم شماری اور ڈیلیمٹیشن جیسے طویل اور غیر یقینی مراحل سے مشروط کر دیا گیا۔ یوں ایک فوری عمل درآمد والا وعدہ ایک غیر معینہ انتظار میں بدل گیا۔
 یہی وہ مقام ہے جہاں حکومت کے دعوؤں اور زمینی حقیقت کے درمیان واضح تضاد نظر آتا ہے۔یہ بات نہایت اہم ہے کہ خواتین ریزرویشن بل اور ڈیلیمٹیشن بل دو الگ آئینی معاملات ہیں۔ خواتین ریزرویشن کا مقصد خواتین کو پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں نمائندگی دینا ہے، جبکہ ڈیلیمٹیشن کا تعلق حلقوں کی نئی حد بندی اور نشستوں کی تقسیم سے ہے۔ مگر ان دونوں کو اس طرح جوڑ دیا گیا کہ خواتین کے حق کو ایک پیچیدہ آئینی عمل سے مشروط کر دیا گیا۔
ڈیلیمٹیشن ایک آئینی عمل ہے جس کے تحت آبادی کے تناسب سے حلقے دوبارہ ترتیب دیے جاتے ہیں تاکہ ہر نمائندہ تقریباً برابر آبادی کی نمائندگی کرے۔ 1976 میں 42ویں آئینی ترمیم کے ذریعے نشستوں کو 1971 کی مردم شماری پر منجمد کیا گیا، جسے بعد میں 2001 کی 84ویں ترمیم کے ذریعے 2026 تک بڑھا دیا گیا۔ 2023 کی 106ویں آئینی ترمیم کے ذریعے خواتین ریزرویشن کو بھی اسی عمل سے مشروط کر دیا گیا۔
حکومت نے جب لوک سبھا کی نشستوں کو 543 سے بڑھا کر تقریباً 850 کرنے اور خواتین ریزرویشن کو اس کے ساتھ نافذ کرنے کی تجویز پیش کی تو اسے پارلیمنٹ میں سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ووٹنگ کے دوران حکومت مطلوبہ اکثریت حاصل نہ کر سکی اور بل مسترد ہو گیا۔ اپوزیشن اتحاد، خصوصاً ترنمول کانگریس کی مکمل موجودگی، اس شکست میں فیصلہ کن ثابت ہوئی۔اپوزیشن نے واضح طور پر کہا کہ یہ شکست خواتین کے کوٹے کی نہیں بلکہ “پچھلے دروازے سے لائی گئی ڈیلیمٹیشن” کی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ خواتین کے حقوق کو ایک متنازع آئینی عمل کے ساتھ جوڑ کر دراصل اس کے نفاذ کو مؤخر کیا جا رہا ہے۔
بل کی ناکامی کے بعد وزیر اعظم کے قوم سے خطاب میں اپوزیشن کو مورد الزام ٹھہرایا گیا، جبکہ ناقدین کے مطابق اصل مسئلہ — یعنی خواتین ریزرویشن کو ڈیلیمٹیشن سے مشروط کرنا — پس منظر میں ڈال دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت پر “دوہری پالیسی” اور “ادھوری سچائی” پیش کرنے کے الزامات لگ رہے ہیں۔اگر اس پورے معاملے کو آبادی کے تناظر میں دیکھا جائے تو تصویر مزید واضح ہو جاتی ہے۔ اتر پردیش، جو ملک کی سب سے بڑی آبادی والی ریاست ہے، وہاں آبادی میں تقریباً 11.15 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
یہ اضافہ اپنے حجم کے اعتبار سے بہت بڑا ہے۔ اسی بنیاد پر ڈیلیمٹیشن کے بعد اس کی پارلیمانی نشستوں میں اضافہ متوقع ہے، جس سے اس کی سیاسی طاقت مزید بڑھ جائے گی۔اس کے برعکس جنوبی ریاستیں — تمل ناڈو، کیرالہ، کرناٹک، آندھرا پردیش اور تلنگانہ — وہ ہیں جنہوں نے آبادی کو قابو میں رکھا۔ مگر ڈیلیمٹیشن کے بعد انہی ریاستوں کی نشستوں میں کمی کا خدشہ ہے۔ اندازوں کے مطابق ان کا مجموعی حصہ 24 فیصد سے کم ہو کر 20 فیصد تک آ سکتا ہے۔یہ تبدیلی محض نشستوں کی نہیں بلکہ طاقت کے توازن کی ہے۔
 اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دہلی میں اختیارات کا جھکاؤ شمالی ریاستوں کی طرف بڑھ جائے گا، جبکہ جنوبی ریاستیں، جو معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، سیاسی طور پر کمزور ہو جائیں گی۔ تلنگانہ جیسے ریاستوں میں اسی وجہ سے شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو جنوبی ریاستوں کا مستقبل شمالی ریاستوں کے سیاسی فیصلوں کے تابع ہو جائے گا۔
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ڈیلیمٹیشن کا یہ عمل آنے والے 50 برسوں کی سیاست کا رخ طے کرے گا اور یہ فیصلہ کرے گا کہ ملک کی طاقت کن ہاتھوں میں مرکوز ہوگی۔اسی پس منظر میں میڈیا کے کردار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق بعض حلقوں نے ڈیلیمٹیشن اور خواتین ریزرویشن کو اس طرح ملا کر پیش کیا کہ عوام کو یہ تاثر دیا گیا کہ مخالفت دراصل خواتین کے حقوق کی مخالفت ہے، حالانکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ اس پورے معاملے میں بیانیہ سازی حقیقت پر غالب نظر آتی ہے۔ ایک طرف حکومت اپنی کامیابی کو اجاگر کرتی ہے، دوسری طرف اپوزیشن اس کے نفاذ پر سوال اٹھاتی ہے۔ سچ ان دونوں کے درمیان ایک پیچیدہ صورت میں موجود ہے۔آخرکار حقیقت یہی ہے کہ خواتین ریزرویشن اور ڈیلیمٹیشن کو اس طرح جوڑ دیا گیا ہے کہ دونوں ایک دوسرے پر منحصر ہو گئے ہیں۔
جب تک مردم شماری اور نئی حد بندی مکمل نہیں ہوتی، خواتین کے لیے مخصوص نشستوں کا نفاذ ممکن نہیں۔ اور جب حد بندی خود سیاسی تنازع کا شکار ہو تو اس کا براہِ راست اثر خواتین کے حق پر پڑتا ہے۔یہ صورتحال جمہوری نظام کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ کیا قوانین حقیقی تبدیلی کے لیے بنائے جائیں گے یا محض سیاسی بیانیہ بنانے کے لیے؟ کیا عوام کو مکمل سچ بتایا جائے گا یا حقیقت کو جزوی طور پر پیش کیا جائے گا؟
اگر واقعی خواتین کو بااختیار بنانا مقصد ہے تو ضروری ہے کہ اس وعدے کو عملی جامہ پہنایا جائے، نہ کہ اسے آئینی پیچیدگیوں اور سیاسی مفادات کے سائے میں مؤخر کیا جائے۔ بصورت دیگر یہ خدشہ برقرار رہے گا کہ ایک تاریخی وعدہ ایک بار پھر سیاست اور تاخیر کی نذر ہو جائے گا۔