ایک وہ نکاح _ ایک یہ نکاح

عالمی مذہبی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی
گزشتہ ماہ (نومبر 2020) میں پاکستان میں ایک ایسا نکاح ہوا جو سوشل میڈیا میں بہت زیادہ موضوعِ بحث بنا تھا _ یہ نکاح ملک کے دو بڑے بزنس گروپس کے بچوں کا تھا _ لڑکی ماسٹر ٹائلز کے ڈائریکٹر شیخ محمد اقبال کی اور لڑکا جلال اینڈ سنز کا تھا _ نکاح کی تقریبات دونوں خاندانوں کی جانب سے بہت دھوم دھام سے تین دنوں تک جاری رہی تھیں _ ان تقریبات میں روزا بلانکا کلب لاہور نے کیٹرنگ اور کے ایس سی کانسیپٹ نے ایونٹ پلاننگ کی خدمات سر انجام دی تھیں ۔ گلوکار اور انٹرٹینمنٹ پارٹیوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا ، جنھوں نے اپنے فن کا مظاہرہ کرکے تقریب میں شریک افراد کو خوب محظوظ کیا تھا _ مہندی کی تقریب میں کئی شوبز شخصیات نے شرکت کی تھی _ ولیمے کی تقریب میں ترک جمناسٹس نے اپنے کرتب دکھائے تھے ، جنہیں خاص طور پر بلایا گیا تھا ۔ کھانے میں درجنوں ڈشز اور طرح طرح کے پکوان تھے _ ملک کی بعض نامی گرامی شخصیات ان تقریبات میں شریک ہوئی تھیں _ دیگر شرکاء کی تعداد ہزاروں میں تھی ۔ ابتدا میں بعض میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ ان تقریبات میں دو سو کروڑ روپے تک کے اخراجات آئے تھے ۔ شاید اسی وجہ سے پاکستان کے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے تقریبات منعقد کرنے والوں کے نام تحقیقات کا نوٹس جاری کردیا تھا _ میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی اسے پاکستان کی مہنگی ترین شادی قرار دیتے ہوئے اس بے جا اسراف پر تنقید کی گئی تھی _ بعد میں ایک مذہبی شخصیت نے ، جو اس تقریب میں شریک تھی ، بلکہ انھوں نے ہی نکاح پڑھایا تھا ، یہ وضاحت کی تھی کہ ان تقریبات پر دو سو کروڑ نہیں ، بلکہ صرف دس کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے۔پاکستان ہی میں ایک دوسرے نکاح کی تقریب دو روز قبل منعقد ہوئی _ یہ نکاح جماعت اسلامی پاکستان سے تعلق رکھنے والے دو خاندانوں کے بچوں کے درمیان ہوا _ لڑکی جماعت کے نائب امیر ڈاکٹر معراج الہدی صدیقی کی اور لڑکا جماعت کے رکن جناب محمد فیض کا تھا ، جو جماعت کی طلبہ تنظیم ‘اسلامی جمعیت طلبہ’ کا رکن ہے _ نکاح کی تقریب کراچی کے فیڈرل بی ایریا کی مسجد قبا میں بعد نماز عصر منعقد ہوئی _ نکاح امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق صاحب نے پڑھایا ۔ نماز مغرب کے بعد مسجد سے ہی دلہن کی رخصتی ہوگئی _ اس تقریب میں پندرہ سو سے زائد افراد شریک ہوئے ۔ ان میں علماء ، صحافی ، سیاسی کارکن ، دانش ور اور سماج کے مختلف طبقات کے عمائدین شامل تھے _ مؤخر الذکر نکاح میں شرکت کرنے والوں کی تعداد پندرہ سو دیکھ کر یہ خیال نہ کیا جائے کہ ان سب کو مدعو کیا گیا تھا _ مسجد بڑی ہو تو اس میں سات آٹھ نمازی ہر نماز میں رہتے ہیں اور شام کی نمازوں میں تعداد اور بڑھ جاتی ہے _ نماز کے بعد نکاح کا اعلان ہو تو اکثر نمازی رک جاتے ہیں _ جو لوگ دوسرے علاقوں سے تقریبِ نکاح میں شرکت کرنے کے لیے آئے وہ کسی شادی گھر میں دعوت اڑانے اور متنوّع ڈشز اور پکوانوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے نہیں جمع ہوئے تھے ، بلکہ مسجد آئے تھے ، جہاں انہیں نکاح کے موقع پر نکاح کو آسان بنانے کی مختصر تذکیر سننے کا موقع ملا تھا۔
مذکورہ دونوں نکاح مسلمانوں کے تھے _ دونوں میں سربرآوردہ شخصیات شریک ہوئیں اور دوسرے شرکاء بھی بڑی تعداد میں تھے ، لیکن دونوں میں بہت فرق سامنے آیا _ ایک نکاح کے لیے مہنگا ترین شادی گھر بُک کرایا گیا تھا ، دوسرا نکاح مسجد میں ہونے کی وجہ سے اس پر ایک پیسہ خرچ نہیں ہوا _ ایک نکاح میں ڈیکوریشن عروج پر تھا ، دوسرے میں سادگی ہی سادگی رہی _ ایک میں گلو کاری ، فن کاری ، جمناسٹک اور کلچرل پروگراموں کی بھر مار تھی ، دوسرا مسجد کے روحانی ماحول میں انجام پایا _ ایک میں مال و دولت کی ریل پیل تھی ، دوسرے میں کفایت شعاری کا مظاہرہ ہوا _ ایک میں انتہائی غلو کی حد تک اسراف تھا ، دوسرا اسراف سے سراسر پاک رہا _ ایک پر کم از کم دس کروڑ کا صرفہ آیا تھا ، دوسرے پر غالباً صرف چند ہزار روپے خرچ ہوئے _ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ نکاح کو سادگی سے انجام دیا جائے اور اس میں بے جا مصارف نہ کیے جائیں _ دیگر سماجوں کی نقّالی کرتے ہوئے مسلمانوں نے بھی خود کو رسوم و روایات کی بیڑیوں اور طوقوں میں جکڑ رکھا ہے ، جس کی وجہ سے نکاح اور خاص طور پر لڑکیوں کا نکاح دشوار تر ہوگیا ہے _ جہیز کے مطالبات پورے نہ کرپانے کی وجہ سے لڑکیاں بیٹھی رہ جاتی ہیں اور جلد ان کے نکاح نہیں ہوپاتے _ اس کی بنا پر مختلف سماجی برائیاں پنپنے لگتی ہیں _ زنا و بدکاری کی روک تھام کی تدبیروں میں سے ایک کارگر تدبیر یہ ہے کہ نکاح کو آسان بنایا جائے ، اسے سادگی سے انجام دیا جائے اور بے جا اور مُسرفانہ رسوم سے پاک کیا جائے _ قابلِ مبارک باد ہیں وہ مسلم نوجوان اور ان کے سرپرست جو نکاح کی مسرفانہ رسوم سے بچتے ہیں اور سادگی کے ساتھ اس کی تقریب منعقد کرنے کی کوشش کرتے ہیں _ اللہ تعالیٰ انہیں بے پایاں اجر سے نوازے۔ _ آمین _