آہ ! ولی رحمانی
علماء دین وبزرگان دین کی اموات کا ایک نہ تھمنے والا
سلسلہ جاری ہے لگتاہے کہ تسبیح کا دھاگہ ٹوٹ گیا
از قلم :عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء نظام آباد
9505057866
احادیث مبارکہ میں قرب قیامت کی نشانیوں کو بتلاتےہوے سروردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا کہ علم اٹھالیا جاے گا جس کی شکل یہ ہوگی کہ دنیا علماء ربانیین سے خالی ہوتی چلی جاے گی صلحاء واتقیاء جب اس دارفانی سے اٹھتے چلے جائیں گے تولازما علوم ومعارف کے خزینے بھی ان کےساتھ اٹھتے چلے جائیں گے تب یہ دنیا علم کی روشنی سے خالی ہوجاے گی اور جہل کی ظلمتوں سے یہ دنیا تاریک درتاریک ہوجاے گی
علماء کو زمیں ستاروں سے تشبیہ دے کر ان کے مقام اور کام کو بتلایا گیا کہ وہ اپنے علم کے نور سے اس جہاں کوروشن ومنور کرتے ہوے کفر وظلم اور جہل کی تاریکیوں سے بجات دلائیں گے لیکن …آہگذشتہ ایک سال سے زمیں کے ستارے آہستہ آہستہ بجھتے جارہے ہیں یقبض العلم بقبض العلماء والی قرب قیامت کی حدیث مبارکہ کی صداقت دنیا اپنی چشم سر سے دیکھ رہی ہےروز اخبارات کی سرخیوں سوشل مڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ سے مسلسل خبریں آرہی ہیں کہ پورے ملک میں علماء دین وبزرگان دین کی اموات کا ایک نہ تھمنے والاسلسلہ جاری ہے لگتاہے کہ تسبیح کا دھاگہ ٹوٹ گیا اور دانے یکے بعد دیگرے گرتے جارہے ہیں
انہیں اکابرین میں سے ایک نڈر مرد حق گو ہمت وحوصلہ کا کوہ گراں عزم واستقامت کا پیکر جبال علم وعمل صلاحیت وصالحیت کا مجسم میدان علم سےلے کر میدان عمل تک کی تگ ودو کرنے والا حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب رح کی ذات گرامی تھی جو اب ہمارے درمیاں سے چل بسے اللہ غریق رحمت فرماے اپنے جواررحمت میں جگہ عطاء فرماے جملہ پسماندگان کو صبر جمیل عطافرماے آپ کی تمام دینی ملی علمی وتنظیمی خدمات کو قبول فرماکر امت مسلمہ کو نعم البدل عطاء فرماے امت مسلمہ پر رحم فرماے ایسے موقع پر ہم کو اسلام نے رضاءبالقضاء اورصبر ہی کی تعلیم دی جس کو اختیار کرکے ہی ہم اپنے آپ کو سمبھالادے سکتے ہیں
بخاری شریف کی روایت ہے اللہ جب اپنے کسی بندے یا بندی کے کسی پیارے کو اٹھالیتے ہیں اور وہ اس پر ثواب کی امید کے ساتھ صبرکرلیتے ہیں تو ان کے لےء جنت سے کم کوی بدلہ نہیں ہے لہذا ہم سب ہی مسلمانوں سے عرض گذار ہیں کہ ان حالات میں صبر کریں اور جو موجود علماء وصلحاء بقید حیات ہیں ان کہ قدردانی کریں بہرجال یہ قرب قیامت کا دور ہے جس میں علماء کی شکل میں علم کو اٹھالیا جارہا ہے ہمیں علم وعلماء کی قدردانی کرنے کی ضرورت ہے
موت تو بہرحال آنی ہی ہے اس دنیائے فانی سے ہر فردبشر کو جانا ہی ہے کسی کو اس سے رستگاری نہیں ہے بس کامیاب وہی ہوتا ہے جو حسن خاتمہ کے ساتھ ایمان واعمال صالحہ کا ذخیرہ اور دولت بے بہا لے کر رخصت ہوا یقینا مولانا مرحوم دنیوی اور دینی ہر دواعتبارسے اپنے بعد ثواب اور اجر کا سلسلہ جاری کےء ہوے گےء ہیں جو ان کی مغفرت کاسامان بنے گاایک گذارش بھی ہیکہ تمام ہی مسلمان عموما اور مولانامرحوم سے واسطہ بلاواسطہ نسبت رکھنے والے علماء حافظ وذمہ داران مساجد انفرادی طورپر قرآن خوانی کرکے ایصال ثواب کا اہتمام کریں
